عجوہ سے زہر کا علاج کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 6 #271Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۳): أحكام التداوي

Question

احادیث میں عجوہ کو زہر کا علاج بتلایا گیا، کیا زہر کھانے کے بعد عجوہ سے علاج ہو سکتا ہے یا اگر کوئی عجوہ کھاتا ہو تو اس پر زہر اثر نہیں کرے گا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بندہ عاجز کا خیال یہ ہے کہ کھجور مقوی اجزا پر مشتمل ہے اس میں ہر قسم کا وٹامن موجود ہے اور عجوہ کھجوروں میں اعلی درجہ کے مقوی اجزا موجود ہیں اور اس پر دوام کرنے سے قوتِ مستمرہ آتی ہے اور صبح نہار منہ استعمال کرنے سے اس کی قوت دو بالا ہو جاتی ہے کیوں کہ پیٹ خالی ہوتا ہے مزید براں رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے اس کی تاثیر میں اضافہ ہو جاتا ہے تو فضا میں جو زہریلے اثرات، جراثیم اور وائرس پھیلتے ہیں تو ان کھجوروں کے کھانے سے وائرس والی بیماریوں کے اثرات سے آدمی محفوظ رہے گا، نیز سحر بھی ضعیف آدمی پر اثر کرتا ہے قوت والے آدمی پر زیادہ اثر نہیں کرتا، البتہ رسول اللہ ﷺ پر ایک دفعہ اثر ہوا تھا وہ اس وجہ سے کہ سحر کی تاثیر کا پتا چل جائے اور اس سے بچنے کی تدبیر کی جائے، نیز رسول اللہ ﷺ کی بشریت واضح ہو جائے کہ آپ معبود نہیں ہیں، بہرحال اس حدیث شریف کا یہ مطلب نہیں کہ کھجوریں کھا کر زہر کا انجکشن لگوا دے تو اثر نہیں کرے گا ۔
عجوہ کھجور کی فضیلت میں چند روایات ملاحظہ فرمائیے:

عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه أن رسول الله ﷺ قال: من أكل سبع تمرات مما بين لابتيها حين يصبح لم يضره سم حتى يمسي. وفي رواية عنه يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر. (رواهما مسلم، رقم: ۲۰٤۷، والبخاري: ۲/۸۱۹، باب العجوة).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها أن رسول الله ﷺ قال: إن في عجوة العالية شفاء أو أنها ترياق أول البكرة. (رواه مسلم، رقم: ۲۰٤۸).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم. (رواه الترمذي، رقم: ۲۰٦٦، وقال: هذا حديث حسن).

حضرت سعد بن ابی وقاص
رضي الله عنه
نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جس نے صبح میں سات عجوہ کھجوریں کھائیں، اس کو اس دن زہر اور جادو بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا، اور حضرت ابو ہریرہ
رضي الله عنه،
حضرت جابر رضي اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری
رضي الله عنه
سے مروی ہے کہ یہ جنت کا پھل ہے اور زہر تک کے لیے شافی ہے ۔
حدیث شریف کی شرح کرتے ہوے علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال الخطابي: كونها عوذة من السحر والسم إنما هو من طريق التبرك لدعوة سلفت من النبي ﷺ فيها، لا أن من طبع التمر ذلك. وقال النووي: تخصيص من عجوة المدينة وعدد السبع من الأمور التي علمها الشارع ولا نعلم نحن حكمتها فيجب الإيمان بها وهو كأعداد الصلوات ونصب الزكاة، وقال المظهر: يجوز أن يكون في ذلك النوع منه هذه الخاصية

وعن شهر بن حوشب عن أبي سعيد رضي الله عنه وأبي هريرة رضي الله عنه رفعاه: العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم

وقال الطيبي: في قوله ﷺ: من عجوة المدينة تخصيص المدينة أما لما فيها من البركة التي حصلت فيها بدعائه ولأن تمرها أوفق لمزاجه من أجل قعوده بها. (عمدة القاري: ۱٤/٤٤٦، باب العجوة، ط: دار الحديث، ملتان).

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

وقد وجهه بعضهم بأن السم والسحر إنما يضران لبرودتهما، فإذا داوم الرجل على التصبح بالعجوة تحكمت فيه الحرارة، فتقاوم برودة السم، وأطال في ذلك عياض، كما في شرح الأبي، وقال ابن القيم: والتمر في الأصل من أكثر الثمار تغذية لما فيه من الجوهر الحار الرطب، وأكله على الريق يقتل الديدان لما فيه من القوة الترياقية، فإذا أديم أكله على الريق جفف مادة الدود وأضعفه وقتله. (تكملة فتح الملهم: ٤/۵۲، باب فضل تمر المدينة).
وللمزيد راجع: (فتح الباري: ۱۰/۲۳۸. ۲٤۰، باب الدواء بالعجوة للسحر، والمرقاة: ۸/۱۷٤، ط: إمدادية، ملتان، والطب النبوي، ص ۲۸۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.