لفٹ میں خلوت بالاجنبیہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #53Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

حدیث شریف میں آتا ہے: "
لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان"
تو اگر کوئی شخص کسی اجنبیہ کے ساتھ لفٹ میں نیچے سے بیسویں منزل تک جائے تو کیا یہ ممنوع خلوت ہے یا نہیں؟
(۲) اگر زوجین لفٹ سے بیسویں منزل تک جائے تو یہ خلوتِ صحیحہ ہے یا نہیں؟

Answer

خلوت بالاجنبیہ کا مطلب یہ ہے عورت کے ساتھ تنہائی میں ہو اور لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہو، عام طور پر لفٹ جب چلتی ہے تو عمارت کے بعض حصوں میں لوگوں کی آنکھوں سے غائب ہوتی ہے، اور بالکل مختصر چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے جس میں خوفِ فتنہ ہے، لہذا یہ ممنوع ہے ۔ ہاں اگر دوسرے لوگ بھی موجود ہوں اور عورت مکمل پردہ میں ہو تو درست ہے ۔

وحقيقة الخلوة أن ينفرد رجل بامرأة في غيبة عن أعين الناس وذلك يحدث اليوم كثير في بيوت المسلمين

وهو من أخطر الأمور التي حذر الله منها المسلمين

فإن في ذلك مدخلاً للشيطان قال رسول الله ﷺ: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان الشيطان ثالثهما، رواه أحمد والترمذي والحاكم وصححه. (مسئولية المرأة المسلمة، ص ۲٤، ۲۳و۲۲).
وقال رسول الله ﷺ: إياكم والدخول على النساء، فقال رجل من الأنصار: أفرأيت الحمو قال: الحمو: الموت. (متفق عليه).
وقال رسول الله ﷺ: لا يخلون أحدكم بامرأة إلا مع ذي محرم. (متفق عليه).

ہاں لوگوں کے سامنے ہو تو خلوت میں شمار نہیں ۔ امام بخاری رحمه الله نے ایک باب قائم فرمایا
"باب ما يجوز أن يخلو الرجل بالمرأة عند الناس" اور
درجِ ذیل حدیث ذکر فرمائی ہے:

عن هشام قال: سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه قال: جاء ت امرأة من الأنصار إلى النبي ﷺ فخلا بها فقال: والله إنكن لا حب الناس إلى. (رقم: ۵۲۳٤).

علامہ عینی رحمه الله اس باب کے تحت فرماتے ہیں:

أي هذا باب في بيان ما يجوز أن يخلو الرجل بالمرأة حاصله أن الرجل الأمين ليس عليه بأس إذا خلا بامرأة في ناحية من الناس لما تسأله عن بواطن أمرها في دينها وغير ذلك من أمورها وليس المراد من قوله أن يخلو الرجل أن يغيب عن أبصار الناس فلذلك قيده بقوله عند الناس

(عمدة القاري: ۱٤/۲۰۹، دار الحديث، ملتان).
قال الإمام النووي رحمه الله: قوله خلا معها في بعض الطرق

ولم يكن ذلك من الخلوة بالأجنبية فإن هذا كان في ممر الناس ومشاهدتهم إياه وإياها. (شرح النووي لصحيح مسلم: ۲/۲۵٦، ط: قديمي).

خلاصہ یہ ہے کہ اجنبی مرد کے ساتھ لفٹ میں اکیلے بلا محرم اوپر چڑھنا ناجائز ہے ۔
(۲) خلوتِ صحیحہ وہ ہے جس میں صحبت سے شرعی اور حسی و طبعی رکاوٹ مانع نہ ہو ۔

قال في الدر المختار: والخلوة بلا مانع كمرض لا حدهما يمنع الوطء، وطبعي كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال وجعله في الأسرار من الحسي

وشرعي كإحرام لفرض أو نفل

(الدر المختار: ۳/۱۱٤، سعيد).

خلاصہ یہ ہے کہ لفٹ میں مانع کا پایا جانا ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی بھی منزل پر بٹن دبا کر لفٹ کو روک دے، اس وجہ سے خلوتِ صحیحہ متحقق نہ ہو گی، ہاں اگر اپنی ذاتی عمارت ہے اور کوئی دوسرا نہیں ہے اور کسی کے روکنے کا بھی اندیشہ نہیں ہے تو خلوتِ صحیحہ متحقق ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.