جوربین منعلین پر مسح کا حکم:

2 min readFatwa Vol 1 #275Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (٤): خفین اور جوربین پر مسح کرنے کا بیان

Question

اگر موزوں کا نچلا حصہ چمڑے کا ہو اور اوپر کی جانب اس پر کپڑے کے موزے سی لیے جائیں اور منعلین بن جائے تو ان پر مسح جائز ہے یا نہیں؟

Answer

احسن الفتاوی میں ہے:
منعل جراب کا چمڑے سے خالی کپڑا اگر ایسا ثخین ہو کہ اس میں جواز مسح کی شرائط موجود ہوں تو اس پر بالاتفاق مسح جائز ہے اور اگر عام سوتی کپڑا ہو تو بالاتفاق جائز نہیں، اور اگر اونی کپڑا ہو اور دبیز ہو مگر اس میں جواز مسح کی شرائط موجود نہ ہوں تو ان پر جواز مسح میں متاخرین کا اختلاف ہے، عدم جواز قول الاکثر ہونے کے علاوہ احوط بھی ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۲
/
٦۵
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اونی سوتی جرابوں کو اگر منعل کر لیا جائے تو اس پر مسح جائز ہے،
(رد المحتار ۱/۲۷۰)
مگر شرح منیۃ میں سوتی جرابوں پر باوجود منعل ہونے کے منع لکھا ہے اس لیے خلاف سے بچنا احوط ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۹
/
٤۷
) ۔
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

اعلم أن المسألة على ثلاثة وجوه: إن كانا رقيقين غير منعلين لا يجوز المسح عليهما اتفاقاً، وإن كانا ثخينين منعلين جاز اتفاقاً، وإن كانا ثخينين غير منعلين فهو محل الاختلاف كما في الخانية. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۲۸، قديمي).
وفي شرح النقاية: وكل ما يستر الكعب أي: ويجوز المسح على ما يستره ويمكن به السفر سواء كانا مجلدين بأن كان الجلد أعلاهما وأسفلهما، أو منعلين بأن كان الجلد أسفلهما فقط، أو ثخينين مستمسكين على الساق في قول أبي يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وأبي حنيفة رحمه الله أخيراً قبل موته بسبعة أيام وفي النوازل بثلاثة أيام، وعليه الفتوى. (شرح النقاية: ۱/۱۱۲).
والله سبحانه وتعالى اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.