مسح علی الجوربین میں ثخین کی قید کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #280Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (٤): خفین اور جوربین پر مسح کرنے کا بیان

Question

آج کل لوگ باریک جرابوں پر مسح کرتے ہیں اور ہم سے کہتے ہیں کہ جب جوربین پر مسح جائز ہے تو آپ ثخین اور موٹے ہونے کی قید کہاں سے لگاتے ہیں کیا ان کا قول درست ہے؟

Answer

(۱) اس سلسلہ میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اصل مسح میں خفین ہیں یا وہ جوربین جو خفین کے حکم میں ہو اور وہ ثخینین ہیں ۔
(۲) احادیث سے اس قید کا پتہ چلتا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

بعث رسول الله ﷺ بعثاً فأصابهم البرد فأمرهم أن يمسح على العصائب والتساخين. (صحيح: رواه احمد، رقم: ۵۷۷، وأبو داود، رقم: ۱٤۱، والحاكم، رقم: ۱٦۹، وصححه).

(عصائب کے معنی عمامہ اور تساخین گرم جرابے یا موزے ہیں، عمامہ پر مسح یا منسوخ ہے یا تکمیلی مسح مراد ہے)

(
۳
) عن سعيد بن المسيب قال وروى شعبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن انهما قالا يمسح على الجوربين إذا كان صفيقين. (مصنف ابن أبي شيبه ۱/ ۱۸۸)

(٤) پہلے زمانہ میں لوگ سردی سے بچنے کیے لیے گرم اور موٹے موزے پہنتے تھے اور اُن پر مسح بھی کرتے تھے ۔
حضرت علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ کی تحقیق اور وضاحت:
ثخینین کے بارے میں کتبِ فقہ میں سے رد المحتار ص ۱۸۸ کی عبارتِ ذیل ثخینین کے تحت ملاحظہ ہو:
بحيث يمشي فرسخاً ويثبت على الساق بنفسه ولا يري ما تحته ولا ينشف (الدر) وفي الدر وفي بعض الكتب ينشف وفسر في الخانية الأول بأن لا يشف الجورب الماء إلى نفسه كالأديم والصرم وفسر الثاني بأن لا يجاوز الماء إلى القدم وقال تحت "بنفسه" أي من غير شد
۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جواز مسح علی الثخینین کے لیے ثخانت کا وجود ضروری ہے جو کہ امورِ ثلاثہ سے متحقق ہوتا ہے، (۱) شرعی تین میل یا اس سے زیادہ بغیر جوتے کے آدمی اس میں چل سکے ۔ (۲) باندھنے کے بغیر پنڈلی سے پیوست رہیں، (۳) پانی اگر اس پر ڈالا جائے تو اندر نہ جا سکے ۔
ان تینوں امور کا مجموعہ بالخصوص امر سوم نائیلون کی جراب میں متحقق نہیں، لہذا مسح درست نہیں، اس میں احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ قرآنِ پاک میں
"غسل الرجلين"
مذکور ہے جو قطعی ہے، اور احادیث مسح علی الخفین متواتر یا مشہور ہیں، اس لیے تخصیص کے لیے کا فی ہیں، مسح علی الجوربین فقط میں، میرے نزدیک ایسی
صحيح السند، صريح الدلالة،
احادیث شہرت کے درجہ میں موجود نہیں، اور قیاس علی الخفین کے لیے ان سے مشاکلت اور مشابہتِ قویہ کی ضرورت ہے ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۱۰٤
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.