ریف کے موزوں پر مسح کا حکم:
Question
ریف کمپنی کے "فِلِیپَر سوکس" (Flipper) پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
ریف کمپنی کے "ڈائیونگ سوکس" (Diving Socks) نیز ان کو سیل اسکین سوکس (Seal skin Socks) بھی کہتے ہیں، ان میں جوربین ثخینین کی تمام شرائط علی وجہ الکمال پائی جاتی ہیں، یعنی ساتر للکعبین ہوتے ہیں، مستمسک بغیر استمساک ہیں، اور جو دھاگے، ربڑ وغیرہ اس میں استمساک کے لیے ہیں وہ موزہ کا جزء ہیں بیرونی چیز نہیں، اور ایک فرسخ (تین میل) بغیر جوتے چلنا ممکن ہے، بلکہ بعض مفتی حضرات نے چلا کر تجربہ کرایا تو بالکل صحیح و سالم رہے، اور ان میں پانی سرایت نہیں کرتا، بعض حضرات نے اس کا بھی تجربہ کیا اس طور پر کہ ہاتھ میں موزہ پہن کر ہاتھ پانی میں ڈالا تو پانی کی تری ہاتھ میں بالکل محسوس نہیں ہوئی، بلکہ اس میں پانی ڈالا گیا تو گلاس کی طرح پانی اس میں محفوظ رہا بلکہ دھونے کے وقت اوپر والے حصے کا دھونا نیچے والے حصے کے لیے بالکل کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کو الٹا کر کے دھونا پڑتا ہے نیز اس کے اندر پلاسٹک کا ایک مضبوط کور بھی ہوتا ہے جو باہر سے نظر نہیں آتا ۔
بنا بریں ان موزوں پر مسح کرنا ہمارے خیال میں جائز و درست ہے ۔
مفتی نظام الدین رحمہ اللہ مفتی دار العلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں:
غیر چمڑے کے موزوں پر بھی خواہ نائیلون ہو یا سوتی وغیرہ ہوں جن میں خفین کے خصوصی اوصاف و احوال پائے جاتے ہوں ان پر بھی جواز مسح کی گنجائش نکلتی ہے اور وہ خصوصی احوال و اوصاف یہ ہیں کہ خفین ساتر للقدمین مع الکعبین ہوتا ہے اور عضو مستور کا کوئی حصہ اوپر سے نظر نہیں آتا اور مسح کی تری اندر تک نہیں پہنچتی اور بغیر جوتا پہنے اور بغیر باندھے ہوئے چلا جائے تو میل دو میل اس طرح چل سکتے ہیں کہ نہ تو وہ کٹے گا اور نہ ساق سے نیچے اتر ے گا، پس جو موزہ غیر چمڑے کا خواہ نائیلون کا ہو خواہ سوتی یا اونی ہو ان اوصاف کا حامل ہو یعنی اگر اتنا موٹا ہو کہ مسح کی تری جسم تک نہ پہنچے اور اتنا مضبوط ہو کہ بغیر جوتا پہنے اور بغیر باندھے ہوئے میل دو میل چلے تو نہ کٹے اور نہ پیر سے نکلے تو اس پر مثل خفین کے مسح جائز رہے گا ۔ (نظام الفتاوی:
۱
/
٤۲
) ۔
حضرت مفتی فرید صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر نائیلون کی ایسی جرابیں موجود ہوں جن میں یہ تمام شرائط موجود ہوں تو پھر مفتی بہ قول کے مطابق ان پر مسح کرنا جائز ہوگا ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۱۰٤
) ۔
حضرت علامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ثخینین کے بارے میں کتبِ فقہ میں سے رد المحتار ص ۱۸۸ کی عبارتِ ذیل ثخینین کے تحت ملاحظہ ہو:
بحيث يمشي فرسخاً ويثبت على الساق بنفسه ولا يري ما تحته ولا ينشف (الدر) وفي الدر وفي بعض الكتب ينشف وفسر في الخانية الأول بأن لا يشف الجورب الماء إلى نفسه كالأديم والصرم وفسر الثاني بأن لا يجاوز الماء إلى القدم وقال تحت "بنفسه" أي من غير شد
۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جواز مسح علی الثخینین کے لیے ثخانت کا وجود ضروری ہے جو کہ امورِ ثلاثہ سے متحقق ہوتا ہے، (۱) شرعی تین میل یا اس سے زیادہ بغیر جوتے کے آدمی اس میں چل سکے ۔ (۲) باندھنے کے بغیر پنڈلی سے پیوست رہیں، (۳) پانی اگر اس پر ڈالا جائے تو اندر نہ جا سکے ۔ (فتاوی فریدیہ:
۲
/
۱۰٤
) ۔
ہاں باریک موزوں پر مسح کرنا درست نہیں، لہذا اس فتوی کو ہر قسم کے سوتی یا اونی موزوں پر چسپاں نہ فرمائیں ۔
ہمارے دوست مفتی شبیر صاحب مفتی و استاذِ حدیث دار العلوم بری انگلینڈ نے بہت اچھی بات فرمائی:
فرمایا کہ اگر اتنے مضبوط اور موٹے موزوں پر مسح کی گنجائش نہ ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فقہاء اور محدثین نے جن جرابوں پر مسح کی گنجائش تحریر فرمائی ہے کیا دنیا میں کہیں کسی زمانے میں اس کا وجود بھی ہے یا ایک ہوائی مسئلہ بیان کیا ۔
بندہ عاجز کہتا ہے کہ نئی مصنوعات اور کپڑوں کی مضبوطی پرانے زمانے کے مقابلہ میں بہت اعلیٰ ہے، تو جب پرانے زمانے میں مضبوط جرابوں پر مسح کی اجازت موجود ہے، تو اس زمانے میں بطریق اولیٰ اجازت ہونی چاہیے، ہمیں معلوم ہے کہ ۵۰/۵۵ سال پہلے مضبوط کھدر کے کپڑے ایک سال یا کچھ زیادہ میں پھٹ جاتے تھے اور اس زمانے کے کپڑے سالہا سال تک پھٹنے کا نام نہیں لیتے، ایک صاحب نے ایک جوڑا کپڑے تقریباً ۱۳ سال استعمال کیے اور پھر کسی کودے دیے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.