موزے کو اسپرے کے ذریعہ واٹرپروف بنا کر مسح کرنے کا حکم:
Question
مجھے یہ مسئلہ معلوم ہے کہ خفین پر مسح کے لیے تین شرائط ہیں: ۱، پانی نہ چھنے ۔ ۲، مستمسک بغیر استمساک ہو ۔ ۳، تتابع مشی ممکن ہو ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ سیل اِسکین پر مسح کرنا جائز ہے ۔ لیکن عام موزے جو سوتی ہوں پانی چھنتا ہو، ایسے موزوں کو اسپرے کے ذریعہ واٹرپروف بنا دیا جائے تو ان پر مسح کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یہ اِسپرے ۲٤ گھنٹے تک پانی سرایت کرنے سے روکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے موزوں کی بناوٹ ہی ایسی ہونی چاہیے جس میں مذکورہ شرائط پائی جائیں، شرائط کی تکمیل خارجی چیز سے نہ کی گئی ہو، چنانچہ عام موزوں پر مسح جائز نہیں ہے اور اِسپرے ایک خارجی چیز ہے اس کا اعتبار نہیں ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں منقول ہے:
شرط مسحه ثلاثة أمور الأول كونه ساتر محل فرض الغسل القدم مع الكعب أو يكون نقصانه أقل من الخرق المانع
والثاني كونه مشغولاً بالرجل ليمنع سراية الحدث
والثالث كونه مما يمكن متابعة المشي المعتاد فيه فرسخاً فأكثر
(الدر المختار: ۱/۲٦۱، ۲٦٤، سعيد).
امداد الفتاح میں ہے:
والشرط الخامس: استمساكهما على الرجلين من غير شد لثخانته
لأن الرقيق لا يجوز المسح عليه اتفاقاً، لعدم صلاحيته لقطع المسافة. والشرط السادس: منعهما وصول الماء إلى الجسد فلا يشفان الماء لثخانتهما وصلابتهما
وإنما يجوز المسح على الموقين عندنا إذا كانا صالحين للمسح باستقلالهما كالثخين. (إمداد الفتاح، ص ۱۳۵، ط: بيروت).
تذکرۃ الرشید میں ہے:
ایسا دبیز کپڑا کہ پانی کو نشف نہ کرے اور چلنے میں گرے نہیں اس کا موزہ درست ہے اور مسح اس پر جائز ہے ۔ (تذکرۃ الرشید، ص ۱۳٦، ط: ادارۂ اسلامیات، کراچی) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر چمڑے کے موزے نہیں بلکہ سوت یا اون کے ہیں تو فقہاء کرام نے ایسے موزوں پر جوازِ مسح کے لیے یہ شرطیں تحریر فرمائی ہیں کہ وہ ایسے دبیز موٹے اور مضبوط ہوں کہ صرف ان کو پہن کر تین میل چلنا ممکن ہو ۔ دوسرے یہ کہ پنڈلی پر بغیر باندھے (کپڑے کے موٹا ہونے کی وجہ سے) قائم رہ سکیں ۔ تیسرے یہ کہ اس میں پانی نہ چھنے اور جذب ہو کر پاؤں تک نہ پہنچے، سوت (کوٹن) یا اون کے ایسے موزے ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز ہے ۔ اس لیے کہ ایسے موزے (چمڑے) کے موزے کے حکم میں آ جاتے ہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۳٤۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (نظام الفتاوی: ۱/٤۲، و فتاوی محمودیہ: ۵/۱۹٦، ط: جامعہ فاروقیہ، و فتاوی فریدیہ: ۲/۱۰٤، و فتاوی دار العلوم زکریا: ۱/۷۲۱، زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.