عبد الرسول اور عبد النبی نام رکھنے کا حکم:
Question
عبد الرسول یا عبد المصطفی یا عبد النبی نام رکھنا کیسا ہے؟
Answer
عبد کے تین معنی آتے ہیں (۱) عبد بمعنی انسان ۔ (۲) عبد بمعنی عاجزی انکساری کرنے والا
فلان عبد بين العبودية وأصل العبودية الخضوع والتذلل. (لسان العرب: ۳/۱۷۲، وتهذيب لسان العرب)
اس معنی میں عبد عابد کی طرح ہو جائے گا ۔ (۳) عبد بمعنی مملوک
قال تعالى: والصالحين من عبادكم وإمائكم. [النور: ۳۲].
علماء نے فرمایا ہے کہ (۱) عبد کی نسبت اس غیر اللہ کی طرف جو عبادت کے لیے مشہور ہے حرام و ناجائز ہے جیسے عبد العزی یا عبد اللات ۔ اور (۲) عبد کی نسبت اس غیر اللہ کی طرف جو عبادت کے لیے مشہور نہیں لیکن بعض لوگ اس کو اللہ تعالی کا درجہ دیتے ہیں جیسے انبیاء علیہم السلام، یہ مکروہ ہے ۔
تو عبد الرسول کے نام میں یہ شبہ پیدا ہو گا کہ رسول کا بندہ ہے اور اللہ تعالی جیسا خشوع و خضوع اس کے سامنے کرتا ہے، عبد کے ایک معنی اگر چہ غلام اور مملوک بھی آتے ہیں اور رسول کے مملوک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے لیے بمنزلہ غلام ہیں، لیکن بعض لوگوں کا رسول کے ساتھ عابد جیسا معاملہ کرنے سے عبودیت اور عبادت کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے ۔ (۳) اور اگر عبد اس چیز کی طرف منسوب ہو جس کی عبادت نہیں ہوتی تو یہ جائز ہے جیسے حدیث میں تعس عبد الدینار و عبد الدرہم آیا ہے، جس کے معنی دینار و درہم کا غلام اور اس کے پیچھے چلنے والا ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
أقول: ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي، ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف بالنسبة والأكثر على المنع خشية اعتقاد حقيقة العبودية كما لا يجوز عبد الدار. (رد المحتار: ٦/٤۱۸، سعيد).
(وكذا في فيض القدير: ۱/۲۱۹، بيروت، والفقه الإسلامي وأدلته: ٤/۲۹۱، وفتاوى ابن حجر الهيتمي: ٦/۲۰۲، ط: دار الفكر، وتحفة المودود بأحكام المولود، ص ۷۲، الفصل الثاني فيما يستحب من الأسماء وما يكره منها).
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما الاسم بإضافة العبد إلى غير الله الذي يعبد عند أهل الإسلام فشرك، وإضافة العبد إلى غير الله الذي لا يعبد إلا أنه يلتبس أحياناً بالمعبود فمكروه مثل عبد النبي وعبد الرسول، ويذكر في كتب اللغة أن للعبد معنيين المخلوق والمملوك فلا يكون في عبد النبي وعبد الرسول شرك. (العرف الشذي: ٤/۲۰۱، ط: بيروت).
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
قلت: ومن ههنا وضح لك أن تسمية العوام أطفالهم بعبد سبحان مما لا معني لها ويجب نهيهم عنها فإن العبودية لا تضاف إلا إلى اسم من أسماء الله تعالى
(السعاية: ۲/ ۱٦٤، ط: سهيل).
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
وتحرم التسمية بكل اسم مُعَبَّد مضاف إلى غير الله سبحانه وتعالى كعبد العزي
قال ابن القيم رحمه الله: فإن قيل: كيف يتفقون على تحريم الاسم المعبد لغير الله وقد صح عنه عليه السلام أنه قال: تعس عبد الدينار وعبد الدرهم
، فالجواب: أما قوله: تعس عبد الدينار فلم يرد به الاسم وإنما أراد به الوصف والدعاء على من تعبد قلبه للدينار والدرهم، فرضي بعبوديتهما عن عبودية ربه تعالى. (الموسوعة الفقهية: ۱۱/۳۳۵، ۳۳٦، ط: وزارة الاوقاف).
کفایت المفتی میں ہے:
سوال: عبد النبی، عبد الرسول، عبد المصطفی نام رکھنا یہ سمجھ کر کہ ہم ان کے غلام ہیں، یا مملوک ہیں، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ نام رکھنا احتیاط اور تورع کے خلاف ہے کیوں کہ عبد کی اضافت اللہ کی طرف ہونی چاہیے کہ غلام بمعنی خادم و مطیع تو بے شک ہیں، لیکن غلام بمعنی مملوک نہیں ہیں ۔ (کفایت المفتی:
۱۲
/
٤۲۳
، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.