حرب اور مرہ نام رکھنے کا حکم:

9 min readFatwa Vol 7 #236Urdu
Vol. 7باب (۷): نام اور القاب سے متعلق احکام کا بیان

Question

حدیث کی روشنی میں حرب اور مرہ نام رکھنا ممنوع ہے لیکن صحابہ میں حرب بن جنادب اور حرب بن الحارث المحاربی کا نام ملتا ہے، اسی طرح مرہ بھی چند صحابہ کا نام تھا، نبی پاک ﷺ نے ان تینوں کی تبدیلی کا حکم نہیں فرمایا ۔ اس کی کیا وجہ تھی؟

Answer

اگر کوئی نام شرک پر مشتمل ہو تو اس کی تبدیلی لازم ہے جیسے عبد العزی، و عبد الہبل وغیرہ، اور اگر کسی نام میں بد فالی کا شبہ ہو لیکن اس نام میں دوسری طرف اچھے معنی بھی نکل سکتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے تبدیلی کا مشورہ دیا ہو تو اس کی تبدیلی لازم نہیں، اور آپ ﷺ کا حکم مشورہ کے درجہ میں تھا واجب القبول نہیں تھا، ہاں مندوب القبول تھا، چنانچہ حرب اور مرہ بھی اسی قبیل سے ہیں کہ ان میں اچھے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ مرہ یعنی باطل کے مقابلہ میں کڑوا اور حرب دشمن کے مقابلہ میں بر سر پیکار ہیں، اس لیے تبدیلی کا حکم نہیں فرمایا اور بعض صحابہ کا نام حرب اور مرہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے سعید بن مسیب کے دادا حزن کو نام کی تبدیلی کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے تبدیل نہیں کیا، سعید بن مسیب فرماتے تھے کہ ہمارے خاندان میں سختی چلی آ رہی ہے ۔
مرہ اور حرب کے بارے میں روایت ملاحظہ کیجیے:

عن أبي وهب الجشمي، وكانت له صحبة قال: قال رسول الله ﷺ: تسموا بأسماء الأنبياء

وأقبحها حرب ومرة. (رواه أبو داود، رقم: ۲/٦۷٦، باب في تغيير الأسماء).

مرقات میں ملا علی قاری رحمه الله لکھتے ہیں:

وأقبحها حرب ومرة: لان الحرب يتطير بها وتكره لما فيها من القتل والأذى، وأما مرة، فلأن المركريه، ولأن كنية إبليس أبو مرة. (مرقاة المفاتيح: ۹/۱۲۰، باب الأسامي).

لیکن ابتدائے اسلام میں بد فالی مروج تھی بعد میں لا طیرۃ والی روایات سے بد فالی ختم ہوئی ۔ لہذا اب ایسے نام رکھنا بلا کراہت جائز اور درست ہے ۔

وإنما غير من الأسماء من أراد الأخذ فيه بالأفضل دون من أراد حمله على الجائز، ولذلك أقر حزناً على ما أراد من الاستمساك باسمه ورضيه وكره تغييره ولوكان ذلك محرماً لم يقره على ذلك ولذلك أقر حرباً ومرة على أسمائهما ولم يأمرهما بتغييرهما. (المنتقي شرح الموطأ: ۷/۲۹٦).

ہاں شرکیہ نام رکھنا ناجائز ہے، اور اس کی تبدیلی واجب ہے ۔
آپ ﷺ نے بعض ناموں کی تبدیلی کا مشورہ دیا تھا، لیکن یہ واجب القبول نہیں تھی کیونکہ وہ شرک پر مشتمل نہیں تھے ۔ ملاحظہ ہو :

عن عبد الحميد بن جبير بن شيبة قال: جلست إلى سعيد بن المسيب، فحدثني أن جده حزناً قدم النبي ﷺ فقال: ما اسمك؟ قال: اسمي حزن، قال: بل أنت سهل، قال: ما أنا بمغير اسماً سمانيه أبي قال ابن المسيب: فما زالت فينا الحزونة بعد. (رواه البخاري: ۲/۹۱٤، باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه).

ارشاد الساری میں علامہ قسطلانی فرماتے ہیں:

وفي الحديث: أن التغيير ليس على وجه المنع من التسمي بالقبيح بل على وجه الاختيار فيجوز تسمية الرجل القبيح بحسن والفاسق بصالح لأنه ﷺ لم يلزم حزناً لما امتنع من تحويل اسمه إلى سهل بذلك ولو كان لازماً لما أقره على قوله ما أناْ بمغير اسماً سمانيه أبي. والله الموفق للصواب. (ارشاد الساري: ۹/۱۱۲).
وللاستزادة انظر: (فتح الباري: ۱۰/۵۷۷، وشرح صحيح البخاري لابن بطال: ۹/۳٤۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
مشکل ناموں کے معانی ذکر کرنے کی وجہ اور عربی زبان کی اصلیت:
آج کل لوگ زمانہ قدیم کے اسلامی ناموں کو رکھتے ہیں وہ نام عبرانی یا سریانی یا دوسری زبانوں کے ہوتے ہیں پھر عام لوگ ان ناموں کے معانی پوچھتے ہیں اور جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ نام عبرانی یا دوسری زبانوں کے ہیں ان کے صحیح معانی معلوم نہیں تو وہ اصرار کرتے ہیں کہ ان ناموں کے کچھ اچھے معانی تلاش کیجیے ہم بعد میں فون کر لیں گے، بنا بریں جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم نے لغت کی کتابوں اور بعض تفاسیر اور کبھی اپنی ناقص رائے سے ان ناموں کے معانی لکھے تاکہ سائلین کو اطمینان ہو جائے اور نام رکھتے وقت ان کے اچھے معانی کو ملحوظ کر کے نام رکھیں ۔
علماء نے لکھا ہے کہ عربی زبان کی اصل عبرانی اور عبرانی زبان کی اصل سریانی ہے، اب بھی عبرانی زبان میں عربی زبان کے سینکڑوں الفاظ موجود ہیں جو دونوں میں مشترک معلوم ہوتے ہیں، آج کل عبرانی زبان اسرائیل کی سرکاری زبان ہے، یہودی سلام کو شلوم کہتے ہیں جو سلام کی بگڑی ہوئی شکل ہے، یروشلم بھی اصل میں ارض السلام ہے جس کو یروشلم بنایا گیا، تل ابیب بھی اصل میں تل ربیع ہے یا تل حبیب ہو گا، تل کے معنی ٹیلا اور ربیع اور حبیب تو ظاہر ہے، واللہ اعلم ۔
لیکن ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ عربی زبان اصل ہے اور اس سے دیگر زبانیں برآمد ہوئیں، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کو آسمانوں پر پیدا کرنے کے بعد فرمایا: فرشتوں کو
"السلام عليكم"
کہو اور ان کا جواب سنو، حضرت آدم علیہ السلام نے سلام کیا اور فرشتوں نے ان کے جواب میں : "
السلام عليك ورحمة الله"
کہا، یہ عربی الفاظ ہیں ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: لما خلق الله آدم على صورته طوله ستون ذراعاً، فلما خلقه قال: اذهب فسلم على أولئك نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك، فقال: السلام عليكم، فقالوا: السلام عليك ورحمة الله، فزادوه: ورحمة الله". متفق عليه. (رواه البخاري: ۲/۹۱۹، رقم: ۳۳۲٦، ومسلم، رقم: ۲۸٤۱).

اس کے علاوہ جنوبی افریقہ کے مسلمان خصوصاً اور دوسری جگہوں کے عموماً مختلف ناموں کے معانی دریافت کرتے ہیں، ہم نے بعض ان ناموں کے علاوہ جو ہم سے پوچھے گئے دیگر ناموں کو بھی فتاوی میں شامل کیا تاکہ ان سے عوام اور طلبہ اور خود ہم فائدہ اٹھائیں، بعض بگڑے ہوئے ناموں کی تصحیح کی کوشش کی اور ان کی اصل تلاش کی، بعض ناموں کی اصل معلوم کرنے کے لیے بہت سوچ فکر اور کھوج کرید کی ضرورت پڑی اور یہ لطیفہ بھی قابل ذکر ہے کہ بعض ناموں کے معانی خواب کے ذریعہ معلوم ہوئے ۔ کچھ مدت پہلے ہمارے ایک تلمیذ مولانا وسیم خان امریکی نے فرمائش کی کہ آپ میرے ساتھ عمرہ اور بیت المقدس کے سفر پر چلیں، لیکن مجھے تردد تھا کہ جانا چاہیے یا نہیں، کیوں کہ میرے جنوبی افریقہ کے پاسپورٹ میں جلی حروف میں میری پاکستانی پیدائش لکھی ہے اور پاکستان کے شمالی صوبہ کے لوگوں کی شکلیں بھی افغانیوں کی طرح ہیں، میں اسی شش و پنج میں تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں کیونکہ اسرائیل کی دین دشمنی سب کو معلوم ہے، میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے محلہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں اور غالباً وہ مسکرا کر بات چیت کر رہے ہیں، ان میں سے ایک کا نام نور الامین خان یوسفزی اور دوسرے کا تمریز خان یوسفزی ہے دونوں کا تعلق شعر و سخن سے ہے، جب نیند سے اٹھا تو میں مطمئن ہوا میں نے نور الامین کی تعبیر بیت المقدس کے سفر سے کی، کیوں کہ نور الامین روح الامین کی طرح ہے جبرئیل امین روح الامین ہے اور نورانی بلکہ نور ہے اور وحی میں امین ہے اور جبرئیل علیہ السلام کا تعلق بیت المقدس کے ساتھ ظاہر ہے کہ رسول الله ﷺ ان کی معیت میں مسجد اقصی تشریف لے گئے تھے، نور الامین میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف ہونے کا بھی احتمال ہے یعنی روشنی کی طرح اور امانتدار، اسی طرح تمریز اصل میں تمرریز ہے یعنی کھجور تقسیم کرنا جو عمرہ کی طرف اشارہ تھا ۔ الحمد للہ بیت المقدس اور عمرہ کا سفر خیر و عافیت سے ہو گیا تھا، یاد رہے کہ خواب کی تعبیر میں ناموں کا دخل حدیث مبارک سے ثابت ہے ۔ اب چند اہم اور مشکل اسماء کے معانی، حروفِ تہجی کے اعتبار سے ملاحظہ کیجیے:

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.