لڑکوں کے اسماء اور ان کے معانی:

30 min readFatwa Vol 7 #237Urdu
Vol. 7باب (۷): نام اور القاب سے متعلق احکام کا بیان

Question

لڑکوں کے اسماء اور ان کے معانی:

Answer

حرف الالف:
آصف: ایک مزید ارپودا جس کی کلیاں نمک یا سرکے کے ساتھ ملا کر کھائی جاتی ہیں ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۲٦) ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر کا نام، اور لائق اور ضبط کرنے والے کے معنی میں مستعمل ہے ۔ اور عربی لفظ کے لحاظ سے مزید ار اور محبوب کے معنی میں ہے ۔
ازہر: سفید رنگ والا، چاند کی طرح روشن چہرے والا ۔ (المعجم الوسیط، ص ٤۰٤) ۔
اسامہ: شیر ۔ اسامۃ من اسماء الاسد ۔ (لسان اللسان: ۱/۳۰) ۔
اسود: بزرگی و شرافت والا، بردبار، مالدار، برکت والا، سردار، پہاڑ کی چوٹی کا پرچم ۔ (تاج العروس: ۸، و بخاری شریف: ۱/۱۷، و فتح الباری: ۱/۱٦٦) ۔
اویس: پیارا، عطیہ، الاوس، عطیہ ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱٤۱، و لسان العرب: ٦/۱۷) ۔
احمس: دین پر مضبوط ۔ حمس ۔ مضبوط ہونا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۷۵) ۔
اقرع: سخت اور مضبوط ڈھال ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۳۰۱) ۔
ایاس: عطیہ ۔ (لسان العرب: ٦/۱۷) ۔
اورنگزیب: ایک مشہور مغلیہ خاندان کے بادشاہ کا نام ہے جس نے ۵۰ سال سے زائد بڑے طمطراق سے حکومت کی ۔ اس کے معنی ہیں تختِ شاہی کی زینت ۔
ایاز: محمود غزنوی کے غلام کا نام ہے، اصل میں ایاس ناامیدی کے معنی میں ہیں، پھر لوگوں نے سین کو زاء میں تبدیل کر دیا، اور ہمزہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے مفتوح ہوا ۔
غیاث اللغات میں لکھا ہے: ایاس بالفتح نام غلام سلطان محمود غزنوی و سین مہملہ این بدل از زائے معجمہ است از برہاں ۔ (غیاث اللغات، ص ٦۰) ۔
ایاس: ناامیدی کو کہتے ہیں اور اس کا مطلب وہ شجاع اور بہادر ہے جس کے مقابلہ سے لوگ ناامید ہوتے ہوں ۔
الیاس: میں بھی یأس کا لفظ ہے اس کے معنی بھی وہ بہادر ہیں جس کے مقابلہ سے لوگ عاجز ہوں ۔ بخاری کے حاشیہ میں بحوالہ التوشیح و الکرمانی لکھا ہے:
إلياس بهمزه قطع مكسورة إفعال من قولهم اليس الشجاع الذي لا يفر وقيل بهمزه وصل وهو ضد الرجاء. (
حاشیہ بخاری شریف: ۱/۵٤۳، رقم: ۷) ۔
اُمبارس: یہ لفظ دراصل ہمارس ہے، پھر لوگوں نے بگاڑ کر امبارس کر لیا ۔ ہما ایک خیالی پرندہ ہے جو کسی کے سر پر سے گزرتا ہے وہ بادشاہ یا خوش قسمت بن جاتا ہے ۔ یعنی ہما پرندہ تک پہنچا ۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی خوش قسمت بن گیا ۔
ارسلان: شیر ۔ (فیروز اللغات) ۔
حرف الباء:
بلال: سخی ۔ پانی، ہر وہ چیز جس سے حلق کو تر کیا جائے ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۸۰، و لسان العرب: ۱۱/٦٤) ۔
بکر: جوان اونٹ، جلدی چلنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۷٦) ۔
براء: عیوب سے پاک ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۵٦) ۔
بریر: پیلو کا پھل ۔
ثمر الاراك عامة. (
لسان العرب: ٤/۵۵، و الصحاح: ۲/۵۱۲) ۔
بدیل: شریف، سخی ۔ (القاموس الوحید: ۱/۱۵٤، و الصحاح: ٤/۱۳۳۹) ۔
بصرہ: سفیدی مائل نرم پتھر ۔ (المعجم الوسیط، ص: ۵۹، و لسان العرب: ٤/٦۷) ۔
پردل خان: بہادر، شجاع ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ۱۲۸) ۔
بابک: ایک بادشاہ کا نام ہے اس نے ضحاک کو قتل کیا تھا، اور قانون اور آئین کے معنی میں ہیں ۔
بابر: شیر ببر اور مغلیہ خاندان کے ایک مشہور بادشاہ کا نام ۔
بنار: اصل میں بنارِہ کے معنی میں ہے یعنی سلامت رہو ۔
بنارس: سلامتی تک پہنچنے والا ۔
بنیامین: اصل میں
بُنَيَّ
، اور
بُنَيَّ
اصل میں
ابني
ہوگا، یعنی میرا بیٹا اور امین امانت دار، یعنی امانت دار بچہ ۔ یا اصل میں
بُنَي
ّ یعنی پیارا بچہ ہوگا اور امین کے معنی امانت دار ۔ مطلب یہ کہ ہوگا: پیارا امانت دار بچہ ۔
اس کا ایک اور اچھا معنی یہ ہے کہ یامین خوش قسمت کو کہتے ہیں، مطلب یہ ہوگا خوش قسمت بیٹا ۔
بہرام: مریخ ستارہ اور عراق کے ایک عادل بادشاہ کا نام تھا ۔ (غیاث اللغات) ۔
پرویز: فتح مند ۔ (لغاتِ کشوری، ص ۸٤) ۔
حرف التاء:
تمیم: کامل مکمل ۔ پورے قد و قامت والا ۔ (لسان العرب: ۱۲/٦۹، و الصحاح: ٤/۱۵٦۲) ۔
تیمور: فولاد، عمدہ لوہا ۔ (غیاث اللغات، ص ۱۳۵، و لغاتِ کشوری، ص ۱۲۰) ۔
حرف الثاء:
ثمامہ: لمبی شاخوں والا پودا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۲۲۳) ۔
ثعلبہ: دشمن پر رعب ڈالنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۲۱۵) ۔
ثمیر: پھلدار ۔ (القاموس الوحید: ۱/۲۲۲) ۔
حرف الجیم:
جذلان: خوش ۔ (المعجم الوسیط، ص ۱۱۳، و القاموس الوحید: ۱/۲٤۳) ۔
جعیل: نگران، عطیہ اور بخشش، جعل کی تصغیر ہے ۔ (تاج العروس: ۲۸/۲۱۰) ۔
جریر: لگام، باطل کو لگام لگانے والا، اور لوگوں کو حق کی طرف مضبوط رسی سے کھینچنے والا ۔ الجریر: رسی، جانور کو کھینچنے کی رسی ۔ (القاموس الوحید: ۱/۲٤۹، و المعجم الوسیط، ص ۱۱٦) ۔
حرف الحاء:
حفی: شفیق، الحفی لطیف و شفیق، قرآن پاک میں ہے:
انه كان بي حفياً. (
القاموس الوحید: ۱/۳۵۸، و لسان العرب: ۱٤/۱۸۷) ۔
حنان: رحم والا ۔ الحنان ماں کی مامتا، محبت، و شفقت، ترس، مہربانی، قرآن پاک میں ہے:
وحناناً من لدنا.
(القاموس الوحید: ۱/۳۸۵، و لسان العرب: ۱۳/۱۲۸) ۔
حمیم: ہوشیار،
الحميم
گہرا دوست ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۸۰) ۔
الحميم القريب الذي توده ويودك. (
لسان العرب: ۱۲/۱۳۵) ۔
حشیم: با وقار، الحشمۃ، شرم، حیا، وقار ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳٤۳، و لسان العرب: ۱۲/۱۳۵) ۔
حمران: زعفران، سونا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۷٤، و لسان العرب: ٤/۲۱۵) ۔
حمزہ: شیر ۔ (المعجم الوسیط، ص: ۱۹۷) ۔
حفص: شیر کا بچہ ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۵۵) ۔
حنظلہ: ایلوا، باطل کے لیے ایلوے کی طرح کڑوا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۸۳، و المعجم الوسیط، ص ۲۰۲) ۔
حصین: محفوظ جگہ، الحصین، محفوظ، مستحکم ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳٤۸) ۔
حرملہ: حرمل ایک پودا ہے جس کو کالا دانہ اور فارسی میں اسپند اور پشتو میں سپیلنی کہتے ہیں۔ عورتیں اور عوام الناس اس کو ہوا کی بدبو کو صاف کرنے اور خوشبو دار کرنے اور نظر بد سے حفاظت کے لیے انگاروں پر رکھ کر استعمال کرتے ہیں۔ بازاروں میں ملنگ لوگ دکانوں میں اس کی دھونی دیتے ہیں اور کچھ پیسے وصول کرتے ہیں، اور تاء وحدت کے لیے ہو جائے گی ۔
اسی طرح حرملہ چھوٹی پوشاک جسے گلے کی چاروں طرف مونڈھوں اور کمر پر ڈالتے ہیں آگے سے نکلی ہوئی ہوتی ہے ۔ (القاموس الوحید: ۱/۳۳۲، و المعجم الوسیط، ص ۱٦۹) ۔
حرف الخاء:
خصیب: سر سبز ۔ (لسان العرب: ۱/۳۵۵، و مصباح اللغات، ص ۲۰٤) ۔
خزیمہ: موتیاں پرونے والا ۔ نیز خزام خوشبو والا پھول بھی ہے ۔ (القاموس الوحید: ۱/٤۳٦) ۔
خدیج: شر سے منقطع ہونا، خراب لوگوں سے اور خراب کاموں سے علیحدہ ۔
خمیم: قابل تعریف ۔ (لسان العرب: ۱۹/۱۲، و القاموس الوحید: ۱/٤۷۷) ۔
خبیب: تیز رفتار ۔ (لسان العرب: ۳٤۱) ۔
خریت: ماہر ۔ (لسان العرب: ۱/۳۰، و القاموس الوحید: ۱/٤۲۱) ۔
حرف الدال:
دریر: روشن ۔ (لسان العرب: ٤/۲۸۱، و مصباح اللغات، ص ۲۳٤) ۔
دلہام: بہادر ۔ شیر ۔ (المنجد فی اللغۃ، ص ۲۲۳، و القاموس الوحید: ۱/۵٤۱) ۔
دکین: مٹیالا ۔ مہذب ۔ (لسان العرب: ۱۳/۱۵۷، و القاموس الوحید) ۔
دلفگار: زخمی دل والا یعنی عاشق ۔ فگار کے معنی مجروح، اور دلفگار معشوق کے معنی میں صحیح نہیں ۔ (غیاث اللغات، ص ۳۷۷، و لغاتِ کشوری، ص ۳۵۱) ۔
دُرویش: اگر دال کے ضمہ کے ساتھ ہو تو متقی اور صالح صوفی کے معنی میں ہیں، اس کی اصل دُرّ آویزش تھی بعد میں مخفف ہوا، موتی اور قیمتی پتھر یعنی تسبیح ہاتھوں میں لٹکانے کے معنی میں ہوگا، چونکہ صوفی حضرات کے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح ہوتی تھی اور ان کے معتقدین ان کے لیے قیمتی پتھروں کی تسبیح فراہم کرتے تھے اس لیے یہ نام پڑ گیا ۔ غیاث اللغات میں ہے:
دُرویش: بضم دال باید گفت دریں صورت مرکب باشد از دُر کہ بمعنی مرواریدست وویش کہ دراصل واش بود مزید علیہ وش کہ کلمہ تشبیہ ست ۔ (غیاث اللغات، ص ۲۰۷) ۔
دَرویش: اگر دال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب دروازہ سے لٹکنے والا، یعنی نیک صالح اللہ تعالی کے در کا بھکاری، اور در سے عام در مراد لیں تو بھیک مانگنے والا جو لوگوں کے دروازوں سے چمٹ کر مانگتا رہتا ہے ۔ ملاحظہ کیجیے: (غیاث اللغات، ص ۲۰٦، و لغاتِ کشوری) ۔
حرف الذال:
ذکوان: ہوشیار اور خوشبو دار ۔ (لسان العرب: ۱/٤٤۸، و المنجد، ص ۳۵۳) ۔
ذویب: بلند شان والا ۔ (تاج العروس: ۲/٤٤۹، و المنجد، ص ۳٤۷) ۔
ذابلـ: دبلا پتلا ۔ (المنجد، ص ۳۴۹، و المعجم الوسیط، ص ۳۰۹) ۔
حرف الراء:
رکانہ: قوت و سہارا دینے والا ۔ (لسان اللسان: ۵۱۰، و المنجد، ص ٤۰۵) ۔
رمان: انار ۔ (لسان العرب: ۱/۵۱۵، و تاج العروس: ۳۲/۲۹٤) ۔
ربیع: موسمِ بہار ۔ (القاموس الوحید: ۱/۵۹۳) ۔
رحیل و راحیل: چلنے میں تیز ۔ (لسان العرب: ۱۱/۲۷۸، و القاموس الوحید: ۱/٦۰۸) ۔
رمیز: ہوشیار ۔ الرمیز مکرم و معظم، اصیل، عقلمند ۔ (مصباح اللغات، ص
۳۰٤
)،
والرميز: العاقل الثخين. (
لسان العرب: ۵/۲۵۷) ۔
رہیب: رعب والا ۔ الرہیب و المرعوب، خوفناک، شیر، (مصباح اللغات، ص۳۱۸) ۔
الرهبة: الخوف والفزع.
(لسان العرب: ۱/٤۳٦) ۔
ریان: سر سبز و شاداب، سیراب کرنے والا ۔ تشنگی بجھانے والا ۔ (مصباح اللغات، ص۳۲٦) ۔
روید: ہلکی خوشگوار ہوا ۔ الرود، ریح، نرم چلنے والی ہوا ۔
الرود الريح اللينة الهبوب. (
المعجم الوسیط، ص۳۸۱) ۔
رابغ: خوشحال،
ربغ ربغاً القوم في النعيم،
خوشحال زندگی بسر کرنا ۔ (مصباح اللغات، ص۲۷٦) ۔
وعيش رابغ رافع أي ناعم. (
لسان العرب:
۸
/
٤۲٦
) ۔
رشیق: خوش مزاج بلند قامت ۔ رشق رشاقۃ الغلام خوبصورت قد والا ہونا ۔ (مصباح اللغات، ص۲۹٤، و لسان العرب: ۱۰/۱۱۷) ۔
ریحان: ہر ایک خوشبو دار پودا ۔ (مصباح اللغات، ص۳۲۲) ۔
الريحان جنس من النبات طيب الرائحة من الفصيلة الشفوية، وكل نبت طيب الرائحة. (
المعجم الوسیط، ص۳۸۱) ۔
رزین: با وقار، رزن رزانۃ سنجیدہ ہونا، با وقار ہونا، صفت مذکر رزین ۔ (مصباح اللغات، ص۲۹۱) ۔
رفاعہ: بلند ۔
الرَفاعة والرِفاعة والرُفاعة من الصوت
آواز کی بلندی اور شدت ۔ (مصباح اللغات، ص۳٤۳) ۔
راجو: راج، بادشاہت اور سلطنت کے معنی میں ہیں اور واو نسبت کے لیے آتا ہے، مطلب یہ ہوگا: بادشاہت والا ۔ خود مختار ۔ (فیروز اللغات) ۔
حرف الزای:
زہیر: چمکدار ۔ زہر زہوراً،
السراج والقمر والوجه،
چمکنا، روشن ہونا ۔ (مصباح اللغات، ص۳٤۹) ۔
الزہرۃ:
نور كل نبات والجمع زهر. (
لسان العرب: ٤/۳۳۱) ۔
زبید: تحفہ، مکھن ۔ الزبد: عطیہ، ہدیہ، حدیث میں آتا ہے:
انا لانقبل زبد المشركين. الزُبد
، مکھن ۔ (القاموس الوحید: ۱/٦۹۵) ۔ و فی المعجم الوسیط (
۳۸۸
) :
ما يستخرج من اللبن بالمخض.

زرارہ: شگوفے پھیلانے والا ۔ الزر، شگوفے، پودے کی کلی، (القاموس الوحید: ۱/۷۰۳، و لسان العرب: ۳/۱۹۳) ۔
زفر: بہادر، بڑا سردار ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۷۰۹
) ۔
يقال للرجل الشجاع: زفر. (
لسان العرب:
٤
/
۳۲۵
) ۔
زعیم: سردار ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۷۰۷
، و الصحاح:
٤
/
۱۵۷٦
) ۔
زراف: تیز رفتار ۔ (الصحاح:
۳
/
۱۱۳۰
، و لسان العرب:
۹
/
۱۲٦
، و القاموس الوحید:
۱
/
۷۰٤
) ۔
زید: ترقی کرنے والا ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۷۳۰
) ۔
زریر: بہت ذہین، اور خوش مزاج ۔ (الصحاح:
۲
/
۵۷۷
، و لسان العرب:
٤
/
۳۲۳
، و القاموس الوحید:
۱
/
۷۰۳
) ۔
زرولی: ولی کے بہت سارے معانی ہیں، لیکن عرف میں مشہور معنی اللہ تعالی کے دوست کے ہیں، تو زرولی کے معنی سونے والے ولی یعنی مالدار ولی، جیسے عثمان غنی، اور ہر ایک مال قابل نفرت نہیں بلکہ حلال مال جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کیے جاتے ہوں وہ مال مبغوض نہیں بلکہ محبوب ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس
رضي الله عنه
کے لیے اہل و عیال اور مال میں برکت کی دعا فرمائی تھی، اور
نعم المال الصالح للرجل الصالح
بھی وارد ہے ۔
یا یہ مطلب ہے کہ وہ ولی جو سونے کی طرح قیمتی اور محبوب ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دراصل ضرب علی ہو پھر لوگوں نے بگاڑ کر زرولی بنایا ہو چونکہ خیبر میں مرحب یہودی کو قتل کرنے کے لیے ضرب علی مشہور ہے اس مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہو ۔
حرف السین:
سحبان: تیزی سے کھینچنے والا، یعنی لوگوں کو دین کی طرف کھینچنے والا ۔
الجراف، يجرف كل ما مر به. (
المعجم الوسیط، ص
٤۱۸
) ۔
سلیک: راستہ، مقصد تک پہونچانے والا ۔ چکور کا بچہ جو خوبصورت پرندہ ہے، جس کی آنکھوں کی خوبصورتی مشہور ہے ۔
سلكاً، وسلوكاً، والمكان والطريق. (
المنجد، ص
۳٤۷
) ۔
والسلك: فرخ القطا وقيل فرخ الحجل. (
لسان العرب:
۱۰
/
٤٤۲
) ۔
سویبط: تر و تازہ ۔ نبت،
قال ابوعبيد: السبط النَّصِي مادام رطباً فإذا يبس فهو الحلي. (
لسان العرب:
۷
/
۳۰۹
) ۔
ساریہ: رات کی بارش ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۷٦٦
، و الصحاح:
۵
/
۱۸۹٦
) ۔
سحیم: ایک پودا، لوہا یعنی لوہے کی طرح مضبوط ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۷۵۲
، و لسان العرب:
۱۲
/
۲۸۲
) ۔
سلیط: فصیح اللسان، چالاک ۔ (لسان العرب:
۷
/
۳۲۰
، الصحاح:
۳
/
۹۵۰
) ۔
سماک: بلند مرتبہ والا لڑکا ۔ (لسان العرب:
۱۰
/
٤٤۳
، و الصحاح:
٤
/
۱۳۰٦
) ۔
سندر: بہادر ۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۸۰۹
) ۔
سفیان: خیر کے کاموں میں ہوا کی طرح تیز رفتار ۔ (الصحاح:
۵
/
۱۸۹۷
، و لسان العرب:
۱٤
/
۳۸۹
) ۔
سرزمین خان: زمین کا خلاصہ، اور خان پختونوں اور بلوچوں اور ترکوں کا لقب ہے ۔ (لغاتِ سعیدی، ص
٤۱۰
) ۔
سرفراز: معزز و سربلند ۔ (لغاتِ کشوری، ص
۲٤۵
) ۔
سکندر: ایک مشہور بادشاہ اور رومی زبان میں سر اور سردار کے معنی میں ہے ۔ (لغاتِ کشوری) ۔
سوراج: خود مختار، صاحب رائے ۔ (فیروز اللغات) ۔
حرف الشین:
شمیم: عالی شان اور خوشبو دار ۔
المرتفع. (
تاج العروس:
۳۲
/
٤۷۵
، دار الہدایۃ) ۔
ما يشم، والمرتفع. (
المعجم الوسیط، ص
٤۹۵
، کتب خانہ حسینیہ) ۔
شہید: گواہ ۔
من قتل في سبيل الله، ومن يؤدي الشهادة، وفي تنزيل العزيز "ولا يضار كاتب ولا شهيد. (
المعجم الوسیط، ص
٤۹۷
) ۔
شیبان: سفید ریش، با وقار ۔
الاشيب والشاب: المبيض الرأس. (
لسان العرب: ۷/۲۵۱، دار احیاء التراث، بیروت، و المنجد، ص
٤۱۰
) ۔
شرید: دین کی وجہ سے اپنی قوم اور بستی کو چھوڑ کر ہجرت کرنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۸۵۳) ۔
شریح: شرح کرنے والا ۔
شقیق: سگا بھائی ۔
الأخ من الأب والأم، والمثيل. (
المعجم الوسیط، ص ٤۸۸) ۔
شمعون: چراغ روشن کرنے والا ۔
اشمع السراج، أي سطح نوره. (
المعجم الوسیط ۔ ص ٤۰۲) ۔
شبرمہ: خاص درخت جو وبائی امراض میں فائدہ دیتا ہے ۔
شجر ذو شوك يقال انه ينفع من الوباء

وفي حديث ام سلمة رضي الله عنه انها شربت الشبرم فقال انه حار جار، والشبرمة: السنورة. (
تاج العروس) ۔
شکیل: خوبصورت ۔ (الصحاح: ٤/۱٤۱۸، و لسان العرب: ۱۱/۳۵۷، و القاموس الوحید: ۱/۸۸۱، لغاتِ کشوری، ص ۲۷۹)
شمشیر خان: تلوار، شم کے معنی ناخن اور شیر مشہور ہے یعنی شیر کا ناخن، تلوار شیر کے ناخن کی طرح ہوتی ہے ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ٤٦۰) ۔
شمروز خان: یہ اصل میں شاہ امروز ہے یعنی زمانہ حال کا بادشاہ ۔ اور خان ترکوں اور بلوچوں کشمیریوں اور پختونوں اور بعض بنی اسرائیل میں سردار اور امیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
شمر: حوض، بالائی جو دودھ پر آتی ہے ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ٤۵۹) ۔
شماس خان: خادم، آتش پر ستوں کا رہبر و رہنما ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ٤۵۹) ۔
شمشاد: ایک نہایت مضبوط اور سیدھا اور خوشنما درخت، محبوب کو اس سے تشبیہ دی جاتی ہے لہذا یہ محبوب کے معنی میں ہیں ۔
شیرویہ: شیر کی طرح، شجاع ۔ (غیاث اللغات، ص ۳۰۳، و لغاتِ کشوری، ص ۲۸٦) ۔
شیراز: (۱) ایران کا ایک مشہور شہر جو علم و ادب کے لیے مشہور تھا سعدی اور حافظ شیرازی دونوں کا تعلق اسی شہر سے تھا ۔ (۲) وہ دہی جس کا پانی نکالا جائے یعنی عمدہ دہی ۔ (۳) شیرازی کبوتر کو بھی کہتے ہیں، تو مذکر شیراز ہوگا ۔
حرف الصاد:
صنان: بہادر ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹٤۷) ۔
صہیب: سرخی مائل سفید ۔ (لسان العرب: ۱/۵۳۷، و الصحاح: ۱/۱٤۹) ۔
صبیح: خوبصورت ۔ (الصحاح: ۱/۳۳٤، و لسان العرب: ۲/۵۰۷) ۔
صعصعہ: جماعت کو منتشر کرنے والا ۔ (الصحاح: ۳/۱۰۳۳، و لسان العرب: ۸/۲۰۰) ۔
صفوان: صاف ستھرا ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹۳۱) ۔
صندل: مشہور خوشبو دار لکڑی ۔ (لسان العرب: ۱۱/۳۸٦) ۔
صنوبر: چلغوزے کا درخت جس کی لکڑی بہت مضبوط ہوتی ہے ۔ (کشوری، ص ۲۹۵، و غیاث اللغات، ص ۳۱۰)
حرف الطاء:
طہمان: خوبصورت ۔
قال الأصمعي: الحسن التام كل شيء منه على حدته فهو بارع الجمال. (
لسان العرب: ۱۲/۳۷۲) ۔
طریر: خوش شکل ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹۹۳، و لسان العرب: ٤/٤۹۹، و الصحاح: ۲/٦۲۳) ۔
طارق: صبح کا روشن ستارہ ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹۹٦، و لسان العرب: ۱۰/۲۱۷) ۔
طرفہ: نایاب ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹۹۵، و الصحاح: ۳/۱۱۵۲، و لسان العرب: ۹/۲۱٤) ۔
حرف الظاء:
ظریف: ہوشیار ۔ (المنجد فی اللغۃ، ص ٤۷۹، و مصباح اللغات، ص ۵۲۳) ۔
ظبیان: ہرن یعنی خوبصورت و تندرست ۔ (لسان العرب: ۱۵/۲۳) ۔
حرف العین:
عباس: شیروں کا شیر ۔ (القاموس الوحید: ۲/ ۱۰٤۰، و المعجم، ص ۵۸۰) ۔
عثمان: محنتی ۔
يجتهد في الامر ويعمل نفسه فيه. (
لسان اللسان: ۲/۱۳۷)،
وفلان يعثم ويعثن أي يجتهد في الامر. (
لسان العرب: ۹/٤۹) ۔
عرفجہ: ایک درخت ۔ ایک پودا جو نرم زمین میں اگتا ہے ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۷۱) ۔
عرفطہ: ایک پودا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۷۱) ۔
عتبان: ڈانٹنے والا ۔ ملامت کرنے والا، نہی عن المنکر کرنے والا ۔ (المنجد فی اللغۃ: ۱/٤۸۵) ۔
عریب: فصیح اللسان ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰٦۲) ۔
عتیک: حملہ آور ۔ باطل پر حملہ آور ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰٤٤، و المعجم الوسیط، ص ۵۸۲) ۔
عدی: دشمن پر حملہ آور جماعت، وادی کا کنارہ ۔
جماعة القوم يعدون لقتال. قبيلة. (
المنجد: ۱/٤۹۲) ۔
عقبہ: حسن کی نشانی ۔ کافی مدت تک حسن و جمال کی نشانیوں والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۰۲) ۔
عفان: پاک دامن ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۹۹) ۔
عکاشہ: مکڑی، یعنی سادہ زندگی گزارنے والا ۔ مکڑی کی طرح معمولی مکان میں رہنے والا یعنی جفا کش ۔ (المعجم الوسیط، ص ٦۱۹) ۔
عکراش: ایک نفع بخش پودا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱۱۰) ۔
عکرمہ: کبوتر ۔ کبوتر کی طرح خوبصورت اور پیغام رسانی کرنے والا آدمی، دین کا پیغام پہنچانے والا ہو ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱۱۰) ۔
عیینہ: بڑی بڑی آنکھوں والا پیارا ۔ (لسان العرب: ۱۳/۳۰۲، دار الفکر) ۔
عنترہ: بہادر ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱۳) ۔
عوف: شاندار ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱٤۲) ۔
عمران: آباد کرنے والا ۔ خوشحال ۔ (المعجم الوسیط، ص ٦۲۷، و القاموس الوحید: ۲/۱۱۲۵) ۔
عریف: سردار ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۷۱، و المعجم الوسیط، ص ۵۹۵) ۔
عاکف: ٹھہرنے والا، پابندِ شریعت ۔ (لسان العرب: ۹/۳٤۱) ۔
عرباض: مضبوط آدمی، بہادر، تندرست ۔ (لسان اللسان: ۲/۱۵٤، و منتہی الارب: ۲، ۳/۸۱۲) ۔
عشرت: میل ملاپ رکھنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۰۸۵، ۲لسان العرب: ٤/۵۷٤) ۔
عدنان: ٹھہرنا، ایک جگہ جم کر کام کرنے والا ۔ (لسان العرب: ۹/۸۹، و المعجم الوسیط، ص ۵۸۸) ۔
عیاض: بدلہ دینے والا، غیرتمند ۔ بخشش والا آدمی ۔ (لسان العرب: ۷/۱۹۳، دار الفکر، و المعجم الوسیط، ص ۲۳۷) ۔
حرف الغین:
غسان: پر جوش جوانی ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱٦۸) ۔
غطیف: خوشحال ۔ خوشگوار ہونا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۱۷۳) ۔
غیلان: جاری پانی، صحتمند ۔ (لسان العرب: ۱۱/۵۱۱) ۔
حرف الفاء:
فیروز: کامیاب، قیمتی پتھر ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۲٦۵)، کامیاب، فتح مند ۔ (فیروز اللغات، ص ۹٤۱) ۔
فروہ: مالداری، چوغہ ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۲۲۸) ۔
فراز: بلند و بالا ۔ (غیاث اللغات، ص ۳٦۷، و لغاتِ کشوری، ص ۳٤٤) ۔
فرخ شاہ: مبارک بادشاہ ۔ فرخ، مبارک، ہمایوں، سزاوار ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ۵٦۳) ۔
حرف القاف:
قثم: بخشش کرنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۱۲۷۸) ۔
قتادہ: ایک سخت درخت ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۲۷۵) ۔
قصی: عیبوں سے دور، اور مرتبہ میں اونچا ۔ (القاموس الوحید: ۱۳۲۳) ۔
قیاش: اس نام کے کوئی اچھے معنی نہیں بنتے یہ اصل میں قیّاس ہوگا عقلمند اور سمجھدار یا بات سے بات نکالنے والا، پھر لوگوں نے بگاڑ کر قیاش کر دیا ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔
قزلباش: سرخ سر یعنی ٹوپی والا یہ مشہور شیعہ اسماعیل صفوی کے سپاہیوں کی نشانی تھی ۔
حرف الکاف:
کہمس: شیر ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱٤۳۲) ۔
حرف اللام:
لبید: گوشہ نشین، گھر میں مقیم، ایک جگہ جم کر کام کرنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱٤٤۷) ۔
لقمان: شاہراہِ اسلام پر چلنے والا، مالدار ۔
اللقم: الطريق الواضح. (العجم الوسيط، ص ۸۳۵)، اللقم: معظم الطريق ووسطه. (
تاج العروس: ۳۳/٤۲۹) ۔
لیان: خوش حال ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۵۱۷) ۔
لاجبر: یہ اصل میں لاجورد ہے ایک قیمتی پتھر ہے اس کو پیس کر نقوش بنانے میں استعمال کرتے ہیں پھر بگاڑ کر لا جبر بنایا گیا ۔ یا لاجبر لاج اور عزت والا ۔
حرف المیم؛
ماعز: ہوشیار اور چالاک آدمی اور خرابی سے منع کرنے والا ۔ (مصباح اللغات، ص ۸۲۸، و تاج العروس: ۲۵/۳۳۵) ۔
مرزبان: لشکر کا سردار ۔ (مصباح اللغات، ص ۸۱۵) ۔
مرحب: کشادگی ۔ (تاج العروس: ۲/٤۸۸، و مصباح اللغات، ص ۸۱٤) ۔
مسرع: تیز رفتار ۔ (لسان العرب: ۸/۱۵۲) ۔
مصعب: سردار ۔ (القاموس الوحید: ۱/۹۲٤) ۔
مسطح: خیمہ، اور پنڈال کا ستون (یعنی مضبوط آدمی) ۔ (القاموس الوحید: ۱/۷٦۷) ۔
مرثد: شریف النفس ۔ الکریم ۔ (المعجم الوسیط، ص ۳۲۸و، تاج العروس: ۸/۸٦) ۔
معدان: تر و تازہ پھل ۔ (مصباح اللغات، ص ۸۲۸) ۔
مُطّلب: بار بار کوشش کرنے والا ۔ (مصباح اللغات، ص ۵۱۳) ۔
مطرف: پسند کرنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۹۹۵) ۔
مقداد: جڑ سے کاٹنے والا ۔
الفد هو القطع (المستاصل) (
تاج العروس: ۹/۱۱) ۔
ملحان: خوبصورت ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۵۷۷، تاج العروس: ۷/۱۳۹) ۔
معقل: پناہ کی جگہ ۔ (تاج العروس: ۳۰/۳٦) ۔
مہجع: تابعدار ۔ (تاج العروس: ۲۲/۳۸۵) ۔
مہزم: پست زمین کی طرح متواضع ۔ (تاج العروس: ۳٤/۹٤) ۔
مسطع: فصیح اللسان ۔ (المعجم الوسیط، ٤۲۹، و القاموس الوحید: ۲/۷٦۸) ۔
ملنگ: جو دنیا کی چیزوں وغیرہ سے، حتی کہ اپنے لباس وغیرہ سے بھی بے خبر ہو، تارک الدنیا کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
محمد نبی: یہ اصل میں محمد نبیہ ہے، نبیہ کے معنی ہیں رفعت اور بلندی والا پھر اس کو بگاڑ کر لوگ محمد نبی کہنے اور لکھنے لگے ۔
مہران: مہر محبت اور سورج کو کہتے ہیں اور الف و نون پشتو اور فارسی میں جمع کے لیے آتا ہے جیسے طالبان، عالمان تو مہران کا مطلب ہوگا کئی سورجوں یا محبتوں کا مجموعہ، نیز مہران ایک دوا کا نام بھی ہے ۔ (فیروز اللغات، و غیاث اللغات) ۔
حرف النون:
نعمان: خوشحال ۔ (المعجم الوسیط، ص ۹۳٦) ۔
نواس: بہت متحرک ۔ (تاج العروس: ۱٦/ ۵۸٤) ۔
نمیر: صاف پانی ۔
من الماء الطيب الناجع من الري. (
المعجم الوسیط، ص ۹۵٤) ۔
نبہان: معزز ۔ (المعجم الوسیط، ص ۸۹۹) ۔
نبیل: شریف ۔ (المعجم الوسیط، ص ۸۹۹) ۔
نثار: فدا ۔ (فیروز اللغات، و المعجم الوسیط، ۹۰۱) ۔
نجیب: شریف النسب ۔
الفاضل على مثله النفيس في نوعه. (
المعجم الوسیط، ص ۹۰۱) ۔
نہیک: بہادر، خوش اخلاق ۔
والشجاع الجري من الإنسان والحيوان. الحسن الخلق من الرجال
۔ (المعجم الوسیط، ص ۹۰۱، و تاج العروس: ۲۷/۳۸۰) ۔
نوفل: بخشش کرنے والا ۔ (لسان العرب: ۱۱/٦۷۲، و القاموس الوحید: ۲/۱٦۸۸) ۔
نوروزخان: نوروز: خوشی اور عید، اہل فارس کی عید کا دن جو، ۲۱، مارچ ہے اور ۲۲ ستمبر کو عید الخریف ہے اس کو مہرجان کہتے ہیں اور خان لقب ہے ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ۸٤۳) ۔
نوید: خوش خبری، بشارت ۔ (لغاتِ سعیدی، ص ۸٤۵) ۔
نوشاد: جس کو نئی نئی خوشی ملی ہو ۔
عريس، متزوج حديثاً. (
لغاتِ سعیدی، ص ۵۷۸) ۔
نوارخان: (واو اصل میں مشدد ہے) بہت روشن ۔
نمروزخان: اصل میں نیمروزخان تھا، نیمروز سجستان کا ایک حصہ تھا تو اس کے معنی ایک علاقہ کا امیر ۔
نہار: دن کی طرح روشن ۔ (لسان العرب: ۵/۲۳۹) ۔
نیار: غالباً اصل میں نیارا ہو جس کے معنی منتخب ہے ۔ نیز علامت و نشانی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ (لسان العرب: ۵/۲٤٦، و الصحاح: ۲/۷۱۷) ۔
حرف الواو:
وابصہ: بجلی کی طرح چمکدار اور روشن چہرے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۸۰٤، و لسان العرب: ۷/۱۰٤، و الصحاح: ۳/۸۹۱) ۔
واثلہ: کھجور کی رسی کی طرح مضبوط آدمی ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۸۱۱، و لسان العرب: ۱۱/۷۲۲) ۔
وداعہ: پر سکون ۔ (المعجم الوسیط ۔ ص: ۱۵۲۱، و لسان العرب: ۸/۳۸۱) ۔
وہاج: روشن ستارہ ۔ (المنجد، ص ۹۲۰، و لسان العرب: ۲/٤۰۱) ۔
وکیع: مضبوط، طاقتور ۔ (المنجد، ص ۹۱٦، و لسان العرب: ۸/٤۰۹) ۔
حرف الہاء:
ہشام: ثرید بنا کر سخاوت کرنے والا ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۷٦٦، و لسان العرب: ۱۲/٦۱۱) ۔
ہالہ: چاند کا مدار ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۷۸۹) ۔
ہانی: خدمت گزار ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۷۸۳، و لسان العرب: ۱/۱۸٦، و الصحاح: ۱/۷۱) ۔
ہرماس: سخت حملہ آور ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۷٦۰، لسان اللسان: ۲/٦۸۱، و المنجد، ص ۱۱۲٦) ۔
ہُمام: بہادر و سخی سردار ۔ (القاموس الوحید: ۲/۱۷۸۲) ۔
ہمَّام: بڑا با ہمت، ارادہ کا

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.