تحقیق و جستجو کے لیے غیر مسلم کی شکل اختیار کرنے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص کسی بات کی تحقیق کے سلسلہ میں کسی غیر مسلم کی صورت و شکل اختیار کرے تو یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ یعنی سی آئی ڈی میں رہتے ہوے غیر مسلموں کی شکل اختیار کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ کفار کا مذہبی شعار اختیار کرنا ناجائز ہے مذہبی شعار نہ ہو تو بضرورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے ۔ نیز اپنی حکومت چلانے کے لیے اس قسم کی تحقیقی کمیٹیاں بنانا جن کے ذریعہ سے غیر ملکی جاسوس یا ملکی نقصان دہ سرگرمیاں معلوم کی جائیں اور ان تک سراغ لگایا جائے، یہ ایک مستحسن امر ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قال هشام رأيت على أبي يوسف رحمه الله نعلين مخصوفين بمسامير فقلت: أتري بهذا الحديد بأساً قال: لا، قلت: سفيان وثور بن يزيد كرها ذلك لان فيه تشبهاً بالرهبان، فقال: كان رسول الله ﷺ يلبس النعال التي لها شعر وإنها من لباس الرهبان فقد أشار إلى أن صورة المشابهة فيما يتعلق به صلاح العباد لا يضر فإن الأرض مما لا يمكن قطع المسافة البعيدة فيها إلا بهذا النوع. (فتاوى الشامي: ۱/٦۲٤، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۳۳، والمحيط البرهاني: ۵/۲۸۹، ط: دار إحياء التراث، والموسوعة الفقهية الكويتية: ۱۲/۷، والخلاصة في أحكام أهل الذمة لعلي بن نايف الشحود، ص ۲۹٦).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
يكفر بوضع قلنسوة المجوس على رأسه على الصحيح إلا لضرورة دفع الحر والبرد وبشد الزنار في وسطه إلا إذا فعل ذلك خديعة في الحرب وطليعة للمسلمين. (الفتاوى الهندية: ۲/۲۷۲، والبحر الرائق: ۵/۱۲۳).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
بلا ضرورتِ شدید ہ کفار کا مخصوص لباس استعمال کرنا ممنوع اور ناجائز ہے،
لقوله تعالى: ﴿ولا تركنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار﴾ اور
قشقہ لگانا کفار کا مذہبی شعار ہے، جیسے زنار پہننا، اس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے اگر محض کفار کا لباسِ قومی اختیار کیا ہے تو اس سے کفر نہیں بلکہ گناہ ہوتا ہے (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۵۵۰، و۵۵۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل دوم
غنا، موسیقی اور آلاتِ مزامیر کے احکام کا بیان
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.