ڈرامہ میں عورتوں کو مردوں کا لباس اختیار کرنے کا حکم:
Question
مدرسۃ البنات کے ایک سالانہ جلسہ میں کچھ لڑکیوں نے ایک ڈرامہ پیش کیا، جس میں لڑکیوں نے لڑکوں کا لباس پہنا تھا، ڈرامہ کی شکل یہ تھی کہ موت سے متعلق ایک مضمون پڑھا گیا جو تجہیز و تکفین کے مسائل پر مشتمل تھا پھر چند لڑکیوں نے لڑکوں والا لباس مثلاً: سفید کرتہ، پاجامہ اور سفید ٹوپی پہن کر ایک گڑیا پر کفن لپٹا کر اس کو کندھوں پر اٹھا کر مصنوعی قبرستان میں دفنایا۔ کیا تعلیم کی غرض سے یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ عورتوں کو مردوں والا لباس پہننا اور ان کی مشابہت اختیار کرنا جائز اور درست نہیں ہے اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہو اور تعلیم کی غرض سے ہو، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ باقی حدودِ شریعت میں رہتے ہوے مفید مکالمہ وغیرہ کی گنجائش ہے۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال. (صحيح البخاري: ۲/٤۷۸، باب المتشبهين بالنساء).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ ہفتم، ص
٦٤۰
۔
٦٤۲
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.