دینی ادارہ میں ڈرامہ کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے ڈرامہ یا تمثیل کے بارے میں جو ایک دینی اجتماع میں جس میں اکثریت دینی طالبِ علموں اور علمائے کرام کی ہوں، اس ڈرامہ میں لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنایا جائے اور وہ ایک عورت کا کردار ادا کرے، اس میں مصنوعی مار پٹائی دکھائی جائے، کیا کسی دینی اجتماع میں اس قسم کے لہو و لعب یا مشابہتِ رجال بالنساء کے جواز کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟ اس کے بارے میں شرعی فتوی کیا ہے؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور و مشکور ہوں ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ مشابہت اور عورتوں کو مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ناجائز ہے، نیز دین کی تعلیم ڈرامہ پر موقوف بھی نہیں ہے، لہذا ڈرامہ سے احتراز و اجتناب کرنا چاہیے، ہاں تقریری مقابلہ اور نعت و قراء ت کی مجلسیں جائز اور قابل تعریف ہیں ۔
ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال. (صحيح البخاري: ۲/۸۷٤، باب المتشبهين بالنساء والمتشبهات بالرجال).
فتح الباری میں ہے:
قال الطبري: المعني لا يجوز للرجال التشبه بالنساء في اللباس والزينة التي تختص بالنساء ولا العكس قلت وكذا في الكلام والمشي. (فتح الباري: ۱۰/۳۳۲).
(وكذا في فتح القدير: ۷/٤۰۸، ونيل الاوطار: ٦/۳٤٤).
مجمع الزوائد میں ہے:
عن رجل من هذيل قال رأيت عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه ومنزله في الحل ومسجده في الحرم قال: فبينا أنا عنده رأي أم سعيد ابنة أبي جهل متقلدة قوساً وهي تمشي مشية الرجال فقال عبد الله: من هذه فقلت: هذه أم سعيد بنت أبي جهل فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: ليس منا من تشبه بالرجال من النساء ولا من تشبه بالنساء من الرجال رواه أحمد والهذلي لم أعرفه وبقية رجاله ثقات ورواه الطبراني باختصار وأسقط الهذلي المبهم فعلي هذا رجال الطبراني كلهم ثقات.
وعن ابن عباس رضي الله عنه أن امرأة مرت على رسول الله ﷺ متقلدة قوساً فقال النبي ﷺ: لعن الله المتشبهات من النساء بالرجال والمتشبهين من الرجال رواه الطبراني في الأوسط عن شيخه على بن سعيد الرازي وهو لين وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۸/۱۰۲).
الموسوعة الفقهية
میں ہے:
لا خلاف بين الفقهاء في أنه يحرم على الرجال أن يتشبهوا بالنساء في الحركات ولين الكلام والزينة واللباس وغير ذلك من الأمور الخاصة بهن عادة أو طبعاً وأنه يحرم على النساء أيضاً أن يتشبهن بالرجال في مثل ذلك لحديث ابن عباس رضي الله عنه: لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۱۱/۲٦۸).
ماہنامہ البلاغ میں ہے:
ڈرامہ میں اگر کسی متعین شخص کی ایسی نقل اتارنا مقصود ہو جس سے اس کی تضحیک یا توہین ہوتی ہو یا جس سے اس کو ناگواری ہو تو وہ ناجائز ہے ۔
اور اگر کسی معین شخص کی نقل اتارنا مقصود نہ ہو بلکہ اس سے کوئی غرض صحیح ہو مثلاً: معاشرہ میں پائی جانے والی سماجی اور معاشرتی برائیوں کی عکاسی مقصود ہو یا مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا منظر دکھلانا مقصود ہو تو یہ فی نفسہٖ جائز ہے، بشرطیکہ درجِ ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائے:
(۱) اس میں تصویر کشی نہ ہو ۔
(۲) موسیقی نہ ہو ۔
(۳) مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو ۔
(٤) فحاشی اور مخربِ اخلاق باتوں پر مشتمل نہ ہو ۔
(۵) اس میں رقص و سرود نہ ہو، اور دیگر مفاسد نہ ہوں ۔
مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوے اگر ڈرامہ پیش کیا جائے تو فی نفسہٖ اس کی گنجائش ہے، لیکن دینی مدرسہ میں ایسا پروگرام بھی اگر چہ مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ کم سے کم ہونا چاہیے ہونا چاہیے اور غرض صحیح پر ہی مشتمل ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔ (ماہنامہ "البلاغ" ص۷۵۷، بعنوان: اسٹیج ڈرامہ کی شرعی حیثیت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.