نبی ﷺ کا لباس ابراہیمی تھا:

5 min readFatwa Vol 8 #206Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو کرتہ پہننا چاہیے، اور یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ کفار کا لباس مت پہنو، ورنہ آپ کا شمار ان میں سے ہوگا، پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ کرتہ مسلمانوں کا لباس ہے اور سوٹ ٹائی کفار کا، اب سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام نے کرتہ پہنا تو کفار کیا پہنتے تھے؟ کیا سوٹ ٹائی پہنتے تھے یا سب کرتہ پہنتے تھے تو فرق کیسے کیا جاتا تھا؟ پھر اگر سب کا لباس کرتہ تھا تو صحابہ کرام نعوذ باللہ کفار کی طرح لباس پہنتے تھے؟ وضاحت مطلوب ہے۔ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں جو لباس استعمال ہوتا تھا وہ عرب کا لباس تھا جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت میں چلا آ رہا تھا، جیسے بعض دوسری عادات بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں میں مشترک تھیں، ایسی چیزوں کو احادیث میں فطرت سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی انبیاء علیہم السلام کا قدیم طریقہ، مثلاً: ختنہ، مضمضہ، استنشاق، استنجاء، ناخن کاٹنا، ڈاڑھی بڑھانا، مونچھوں کا تراشنا، سر کے بالوں میں مانگ نکالنا، مسواک کرنا وغیرہ۔

أخرج الإمام مسلم في صحيحه (رقم: ۲٦۱) بسنده عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: عشر من الفطرة قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك واستنشاق الماء وقص الأظفار وغسل البراجم ونتف الإبط وحلق العانة وانتقاص الماء قال زكريا: قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة زاد قتيبة قال وكيع: انتقاص الماء يعني: الاستنجاء.
قال الإمام النووي رحمه الله: وأما الفطرة فقد اختلف في المراد بها هنا فقال سليمان الخطابي ذهب أكثر العلماء إلى أنها السنة وكذا ذكره جماعة غير الخطابي قالوا: ومعناه أنها من سنن الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم.

اب ان امور کو جب مسلمان اختیار کریں تو اس کو مشابہت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ عرب کا پرانا طریقہ ہے جس کو ہماری شریعت نے برقرار رکھا، مثلاً: مسلمان قمیص پہنتے ہیں تو قرآنِ کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کا ذکر بھی آتا ہے: "
اذهبوا بقميصي هذا فألقوه على وجه أبي يأت بصيراً". [يوسف: ۹۳].

جو لوگ شلوار پہنتے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شلوار کا ذکر روایات میں موجود ہے۔ تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسلمان اور غیر مسلم تقریباً سب ایک لباس پہنتے تھے جو عرب کا قدیم لباس تھا ہاں بعض لوگ یا بعض عورتیں بے حیائی کا لباس پہنتی تھیں، جس کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا: حدیث میں آتا ہے: "
عن أم سلمة قالت: استيقظ النبي ﷺ ذات ليلة فقال: سبحان الله! ماذا أنزل الليلة من الفتن وماذا فتح من الخزائن أيقظوا صواحب الحجر فرب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة". (رواه البخاري، رقم: ۱۱۵، باب العلم والعظة بالليل).

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ ایک شب بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج رات کتنے فتنے اُترے اور خزائن مفتوح ہوئے، ازواجِ مطہرات کو جگادو، دنیا میں بہت سی لباس میں ملبوس عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ یعنی جس نے تنگ یا باریک لباس پہنا ہو وہ آخرت میں ننگی ہو گی،
لہذا صحابہ کرام رضي الله عنہم کو کفار کے ساتھ مشابہت کرنے والا کہنا غلط ہے، نیز لباس میں صحابہ کرام رضي الله عنہم کے زمانہ میں مسلمانوں کی کوئی خاص علامت بھی نہیں تھی، جیسے ابو جہل کی ڈاڑھی اور عام صحابہ کرام رضي الله عنہم کی ڈاڑھی میں کوئی فرق ثابت نہیں ، لیکن بعد میں لباس کی دو قسمیں ہو گئیں؛ بعض لباس مسلمان صالحین کا لباس ہے اور بعض غیر مسلموں کا لباس ہے جس میں حیا اور پردہ کا لحاظ نہیں ، تو مسلمان کو صالحین کا لباس اختیار کرنا چاہیے، اور غلط لوگوں کے لباس سے بچنا چاہیے، اور اگر کوئی مسلمان ایسی علامت اختیار کرے جو غیر مسلموں کی دینی نشانی ہو جیسے صلیب اور زنار تو اس کا استعمال بالکل ناجائز ہے، ہاں پتلون شرٹ کا استعمال چونکہ کافروں اور غیر مسلموں میں بہت زیادہ ہے اور اس میں ستر کا بھی زیادہ لحاظ نہیں اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.