دیدہ دانستہ حالتِ حیض ہم بستری کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ حالتِ حیض میں صحبت کر لی باوجود یہ کہ اس کو معلوم تھا کہ حالتِ حیض میں صحبت کرنا حرام ہے تو اس کیا حکم ہے؟
Answer
ایسے شخص پر توبہ و استغفار لا زم ہے اور مستحب یہ ہے کہ کچھ صدقہ کر دے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنه عن النبي ﷺ في الرجل يقع على امرأته وهي حائض قال يتصدق بنصف دينار وفي رواية إذا كان دما احمر فدينار وان كان دماً اصفر فنصف دينار". (الجامع الترمذي: ۱/۳۵).
وفي الطحطاوي: قوله ثم هو كبيرة، أي الوطء حال الحيض كبيرة يجب على فاعله التوبة والاستغفار (قوله ويندب تصدقه بدينار أو نصفه) قيل بدينار ان كان أول الحيض وبنصفه إن وطيء في آخره إلى قوله وقيل إن كان الدم اسود يتصدق بدينار وإن كان اصفر فبنصف دينار ويدل له ما روي عنه عليه الصلوة والسلام الخ وهل على المرأة تصدق قال في الضياء الظاهر لا (قوله الظاهر لا) قد يقال انه يحرم عليها التمكين كما يحرم عليه المباشرة فيندب لها التصدق كما يندب له. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۵۲).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اگر کسی بد نصیب سے یہ گناہِ کبیرہ سرزد ہو جائے تو بارگاہ خداوندی میں بقلب صمیم اور عجز و انکساری کے ساتھ توبہ و استغفار واجب ہے مزید بر آں حسب حیثیت صدقہ خیرات کرے کہ قانون شکنی اور گناہِ کبیرہ کے ارتکاب سے غضب الہی جوش میں آ جاتا ہے اور وہ صدقہ سے ٹل جاتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱
/
٦٤
) ۔
ان عبارات سے معلوم ہو گیا کہ ایسے شخص پر توبہ و استغفار لا زم ہے اور مستحب یہ ہے کہ کچھ صدقہ کر دیا جائے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ اگر سرخ خون ہو تو ایک دینار صدقہ کرے اور اگر زرد خون ہو تو نصف دینار صدقہ کر دیا جائے چونکہ صدقہ غضب الہی کو روکتا ہے اور نجات دلاتا ہے اور اگر عورت بھی صدقہ کرے تو بہتر ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.