سفر سے پہلے پانچ سورتیں پڑھنے کا عمل:
Question
بعض حضرات سفر سے پہلے پانچ سورتیں مع تسمیہ سورۂ کافرون، سورۂ نصر، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس اور آخر میں ایک مرتبہ بسم اللہ پڑھتے ہیں، کیا یہ عمل کسی حدیث شریف سے ثابت ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ عمل ایک ضعیف روایت سے ثابت ہے، اس کی سند میں چند رواۃ مجہول ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کون ہیں اور کیسے ہیں۔ روایت حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
عن جبير بن مطعم رضي الله عنه يقول: قال لي رسول الله ﷺ: أتحب يا جبير إذا خرجت سفراً أن تكون من أمثل أصحابك هيئة وأكثرهم زاداً؟ فقلت: نعم، بأبي أنت وأمي قال: فاقرأ هذه السور الخمس: ﴿قل يا أيها الكافرون﴾ و﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ و﴿قل هو الله أحد﴾ و﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ و﴿قل أعوذ برب الناس﴾ وافتح كل سورة ببسم الله الرحمن الرحيم واختم قراء تك ببسم الله الرحمن الرحيم، قال جبير: وكنت غنياً كثير المال فكنت أخرج مع من شاء الله أن أخرج معهم في سفر فأكون أبذَّهم هيئة وأقلهم زاداً فما زلت منذ علمنيهن رسول الله ﷺ وقرأت بهن أكون من أحسنهم هيئة وأكثرهم زاداً حتى أرجع من سفري ذلك. (مسند أبي يعلي الموصلي، رقم: ۷٤۱۹)، قال محشيه الشيخ حسين سليم أسد: سليمان بن الحكم، وشيخه إسماعيل بن خالد لم أعرفهما، ومحمد بن سليمان بن الحكم، ترجمه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" (۷/۲٦۹) ولم يورد فيه جرحاً ولا تعديلاً.
علامہ ہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
رواه أبو يعلي وفيه من لم أعرفهم. (مجمع الزوائد: ۱۰/۱۳٤، باب ما تحصل به البركة في الزاد، ط: دار الفكر).
روایت کا خلاصہ حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
حضرت جبیر بن مطعم رضی الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ ارشاد فرمایا: اے جبیر کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ جب تم سفر میں نکلو تو تمہاری حالت اپنے ساتھیوں سے بہتر ہو اور تمہارے پاس زادِ راہ بھی زیادہ ہو؟ میں نے کہا جی ہاں، یا رسول اللہ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، ضرور بتائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پانچ سورتیں پڑھو: ۱۔ سورۂ کافرون۔ ۲۔ سورۂ نصر، ۳۔ سورۂ اخلاص، ٤۔ سورۂ فلق، ۵۔ سورۂ ناس، اور ہر سورت کو بسم اللہ سے شروع کرو اور بسم اللہ پر ختم کرو۔ حضرت جبیر کہتے ہیں میں مالدار تھا لیکن جب میں سفر میں نکلتا تھا تو دوسروں سے بدتر حالت میں ہوتا اور زادِ راہ بھی کم ہوتا تھا، پھر جب سے نبی ﷺ نے یہ سورتیں سکھائیں اور میں نے پڑھنی شروع کیں، اس کے بعد سے میری حالت دوسرے ساتھیوں سے بہتر ہو گئی اور توشہ بھی زیادہ ہو گیا۔
اِس روایت کی سند میں سلیمان بن حکم اور ان کے شیخ اسماعیل بن خالد ہیں اور دونوں کے احوال دستیاب نہیں ہوئے، اور ابن ابی حاتم نے محمد بن سلیمان کے حالات قلم بند کیے ہیں لیکن کوئی جرح و تعدیل ذکر نہیں کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا روایت ضعیف ہے البتہ ضعیف روایت پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ہاں سنت کا درجہ نہ دیا جائے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.