سفر پر جانے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کا ثبوت:
Question
کیا کسی حدیث شریف میں آیا ہے کہ آدمی سفر پر جانے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے اور سفر سے واپسی پر بھی دو رکعت پڑھے، نماز کی برکت سے سفر کی مشقتوں سے وہ امن میں رہے گا؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ حدیث میں آتا ہے کہ جب آدمی گھر سے نکلتے وقت دو رکعت پڑھ لے تو راستہ کی برائیوں سے امن میں رہتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے وقت دو رکعت پڑھ لے تو گھر کی برائیوں سے امن میں رہتا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں فرمایا کہ اس کے رجال ثقات ہیں۔
حدیث ملاحظہ ہو:
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: إذا خرجت من منزلك فصل ركعتين تمنعانك مخرج السوء، وإذا دخلت منزلك فصل ركعتين تمنعانك مدخل السوء. (مسند البزار، رقم: ۸۵٦۷، وشعب الإيمان للبيهقي، رقم: ۲۸۱٤). قال الهيثمي: رواه البزار ورجاله موثقون. (
مجمع الزوائد: ۲/۲۸۳، باب الصلاۃ اذا دخل منزلہ، ط دار الفکر)۔
دوسری روایت میں ہے: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں تجارت کے سلسلہ میں بحرین جانا چاہتا ہوں، تو نبی ﷺ نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو۔ ملاحظہ ہو:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله! إني أريد أن أخرج إلى البحرين في تجارة فقال رسول الله ﷺ: "صل ركعتين". رواه الطبراني في الكبير ورجاله موثقون. (مجمع الزوائد: ۲/۲۸۳، باب الصلاة إذا أراد سفراً، دار الفكر).
سفر سے واپسی پر بھی دو رکعت پڑھنا ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو:
عن على رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ إذا قدم من سفر صلي ركعتين. رواه الطبراني في الأوسط وفيه الحارث وهو ضعيف. (مجمع الزوائد: ۲/۲۸۳، باب الصلاة إذا قدم من سفر، ط: دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.