کیا اللہ تعالی آسمانوں میں ہیں؟

11 min readFatwa Vol 1 #3Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب ۱: اللہ رب العزت سے متعلق

Question

حضور ﷺ نے باندی سے پوچھا اللہ تعالی کے بارے میں تو اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا معلوم ہوا اللہ تعالی آسمان میں ہیں، کیا یہ استدلال درست ہے؟

Answer

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے باندی سے سوال فرمایا تھا
"أين الله"
اللہ کہاں ہے۔ اس حدیث میں حضور ﷺ نے لفظ
"أين"
استعمال فرمایا اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ این کا لفظ کئی معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
(۱) اپنی اصل وضع کے اعتبار سے یہ کسی شخص یا چیز کی جگہ اور مکان کے بارے میں سوال کے لیے آتا ہے،
(۲) لیکن کبھی دوسرے معانی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی کسی سے پوچھے
"أين منزلة فلان منك"
تو اس سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ سائل فلاں شخص کے رتبہ کو معلوم کرنا چاہتا ہے، اسی طرح کہا جاتا ہے: "
أين فلان من الأمير"
یعنی فلاں امیر کے نزدیک کس درجہ اور رتبہ کا ہے، اسی طرح کبھی
"أين"
کا لفظ لوگوں کے مراتب اور درجات میں فرق پہچاننے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً ً کہا جاتا ہے: "
أين فلان من فلان".

جب نبی ﷺ نے باندی سے سوال فرمایا:
"أين الله"
تو گویا آپ ﷺ نے اس سے یہ پوچھا تھا کہ تیرے نزدیک یعنی تیرے دل میں اللہ عزوجل کی قدر و منزلت کتنی ہے، تو اس باندی نے آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی بہت بلند و برتر ہے، علماء نے لکھا ہے چونکہ وہ باندی گونگی تھی اور بات نہیں کر سکتی تھی، اس لیے اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اس بات کو بتانے کے لیے کہ میرے نزدیک اللہ بہت بلند مرتبہ اور قدر و منزلت والا ہے، جس طرح عرف میں جب کوئی کسی کی علوِ شان اور رفعت و منزلت بتلانا چاہتا ہے تو کہتا ہے: "
فلان في السماء"
یعنی فلاں تو آسمانوں میں ہے یعنی وہ بہت بلند مرتبے والا ہے۔ (عرفاً اس سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ وہ فلاں آسمانوں میں جا بیٹھا ہے)۔
ملاحظہ ہو مشکل الحدیث میں ابن فورک اصبہانی (م ٤۰٦ ھ) فرماتے ہیں:

فإن ظاهر اللغة تدل من لفظ أين أنها موضوعة للسؤال عن المكان وهذا هو أصل هذه الكلمة غير أنهم قد استعملوها عن مكان المسئول عنه في غير هذا المعني توسعاً أيضاً تشبيهاً بما وضع له وذلك أنهم يقولون عند استعلام منزلة المستعلم عند من يستعمله: أين منزلة فلان منك وأين فلان من الأمير واستعملوه في استعلام الفرق بين الرتبتين بأن يقولوا: أين فلان من فلان، وليس يريدون المكان والمحل من طريق التجاور في البقاع بل يريدون الاستفهام عن الرتبة والمنزلة، وكذلك يقولون: لفلان عند فلان مكان ومنزلة ومكان فكان في قلب فلان حسن ويريدون بذلك المرتبة والدرجة في التقريب والتبعيد والإكرام والإهانة، فإذا كان ذلك مشهوراً في اللغة احتمل أن يقال إن معني قوله ﷺ "أين الله" استعلام لمنزلته وقدره عندها وفي قلبها وأشارت إلى السماء ودلت بإشارتها على أنه في السماء عندها على قول القائل إذا أراد أن يخبر عن رفعة وعلو منزلة: "فلان في السماء" أي هو رفيع الشأن عظيم المقدار، كذلك قولها في السماء على طريق الإشارة إليها تنبيهاً على محله في قلبها ومعرفتها به وإنما أشارت إلى السماء لأنها كانت خرساء فدلت بإشارتها على مثل دلالة العبارة على نحو هذا المعني وإذا كان كذلك لم يجز أن يحمل على غيره مما يقتضي الحد والتشبيه والتمكين في المكان والتكييف. (مشكل الحديث ۱/٤۷، ذكر خبر واحد مما يقتضي التأويل ويوهم ظاهره التشبيه: ط دائرة المعارف العثمانية)

خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ
"أين"
اپنے حقیقی معنی میں مستعمل نہیں ہے بلکہ یہاں دوسرا معنی مراد ہے، نیز حدیث میں آتا ہے:
"كلموا الناس على قدر عقولهم". (رواه الديلمي في مسنده بسند ضعيف عن ابن عباس رضي الله عنه بلفظ: "أمرنا أن نكلم الناس على قدر عقولهم"، "كذا في كشف الخفاء: ۱/۲۲۵، والفردوس بمأثور الخطاب: ۱/۳۹۸/۱٦۱۱، والمقاصد الحسنة، ص ۱٦٤، رقم ۱۸۰).
اور یہ باندی تھی تو اس سے آسان ہی سوال کرنا تھا، نیز اللہ تعالی کے بارے میں جن اعضاء کا ذکر آیا ہے احادیث میں وہ سلف و خلف سب کے نزدیک تاویل پر محمول ہیں کیونکہ ان کو ظاہر پر محمول کرنا نصوصِ قطعیہ اور عقل کے خلاف ہے۔
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾
نصِ قطعی ہے،
﴿أفمن يخلق كمن لا يخلق﴾
نصِ قطعی ہے، دونوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی مخلوق جیسے نہیں ہیں، لیکن سلف و خلف کی تاویل میں فرق یہ ہے کہ سلف اجمالی تاویل کیا کرتے تھے یعنی
"ليس له وجه كوجهنا ويد كيدنا ونزول كنزولنا"
کہتے ہیں اور یہ بھی تاویل ہی ہے یعنی"
صرف اللفظ من الظاهر إلى خلاف الظاهر"
اور چونکہ خلف کے زمانے میں فتنوں کی کثرت ہوئی اور تاویل اجمالی سے کام نہیں چلتا تھا، لہذا خلف نے تاویل تفصیلی کو اختیار کیا مثلاً
"أين الله"
کا مطلب ہے اللہ تعالی کا مرتبہ کتنا بلند ہے اور ید اللہ سے مراد اللہ تعالی کی قدرت ہے۔ اگر ید سے ظاہری ید مراد لیں تو کبھی اللہ کا ایک ید ماننا پڑے گا
﴿يد الله فوق أيديهم﴾
اور کبھی دو ید ماننے پڑیں گے
﴿لما خلقت بيدي﴾
اور کبھی زیادہ ماننا پڑیں گے
﴿مما عملت أيدينا أنعاما فهم لها مالكون﴾
اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ متشابہات کی تاویل نہیں کرنی چاہیے
﴿وما يعلم تأويله إلا الله﴾
پر وقف لازم ہے تو پھر سلف اور خلف کیوں تاویل کرتے ہیں یہ تو نص کے خلاف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تاویل کا معنی مراد قطعی کا پانا اور بیان کرنا ہے اور خلف جو معنی بیان کرتے ہیں اسے اللہ تعالی کی قطعی مراد نہیں کہتے۔
نیز ابن فورک اصبہانی نے مشکل الحدیث میں یہ بھی فرمایا ہے:

ومن أصحابنا من قال: إن القائل إذا قال: إن الله في السماء ويريد بذلك أنه فوقها من طريق الصفة لا من طريق الجهة على نحو قوله سبحانه: ﴿أأمنتم من في السماء﴾ لم ينكر ذلك. (مشكل الحديث: ۱/٤۸).

نیز یہ حدیث مختلف طرق کے ساتھ مروی ہے: بعض میں این اللہ ہے اور بعض میں من ربک، اور اکثر میں أتشہدین آیا ہے، اور لفظ "أتشہدین کی سند زیادہ صحیح ہے۔
ملاحظہ ہو شیخ حسن بن علی سقاف فرماتے ہیں:

وقد روي حديث الجارية عطاء ــــ وهو الذي روي عنه حديث معاوية بن الحكم السلمي بلفظ "أين الله" ـــ أيضاً بسند صحيح أصح من السند الذي وردت فيه لفظة "أين الله" بلفظ أتشهدين ألا إله إلا الله" وذلك في "مصنف الحافظ عبد الرزاق" (۹/۱۷۵) ورواية عطاء هذه الصحيحة بلفظ "أتشهدين" تؤكد اضطراب حديث الجارية من جهة، بل تؤكد بطلان الرواية التي فيها لفظ أين الله وشذوذها، وترجيح رواية "أتشهدين ألا إله إلا الله" من جهة أخرى!! وهذا هو الأمر الذي سينتهي إليه كل باحث منصف محقق في هذه الرسالة.
وإليكم رواية الحافظ عبد الرزاق هذه إسنادها ومتنها:
روى الحافظ عبد الرزاق عن ابن جريج قال: أخبرني عطاء: أن رجلاً كانت له جارية في غنم ترعاها، كانت شاة صفين يعني غريزة في غنمه تلك، فأراد أن يعطيها نبي الله ﷺ، فجاء السبع فانتزع ضرعها فغضب الرجل فصك وجه جاريته، فجاء نبي الله ﷺ فذكر ذلك له، وذكر أنها كانت عليه رقبة مؤمنة وافية، قد هم أن يجعلها إياها حين صكها، فقال لها النبي ﷺ: "ائتني بها" فسألها النبي ﷺ: "أتشهدين ألا إله إلا الله" قالت: نعم، "وأن محمداً عبد الله ورسوله؟" قالت: نعم، "وأن الموت والبعث حق؟" قالت: نعم، "وأن الجنة والنار حق؟" قالت: نعم، فلما فرغ قال: "أعتق أو أمسك" وهذا سند صحيح عالٍ إلى عطاء راوي الحديث عن معاوية بن الحكم كما ترى
وجاءت رواية "أتشهدين" من طريق آخر صحيح أيضاً، روى مالك في الموطأ (ص ۷۷۷) بسند عال جداً عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن رجلاً من الأنصار جاء إلى رسول الله ﷺ بجارية له سوداء، فقال: يا رسول الله إن على رقبة مؤمنة، فإن كنت تراها مؤمنة اعتقها، فقال لها رسول الله ﷺ: "أتشهدين ألا إله إلا الله؟" قالت: نعم، الخ، ورواه الإمام عبد الرزاق في المصنف (۹/۱۷۵) قال: أخبرنا معمر عن الزهري عن عبيد الله عن رجل من الأنصار به ومن طريقه رواه الإمام أحمد في المسند (۳/٤۵۱. ٤۵۲) كما رواه غيرهم أيضاً.
ــ أما عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود فهو أحد الفقهاء السبعة المشهورين من رجال الستة أيضاً إمام ثقة، قال الحافظ في التقريب عنه: "ثقة فقيه ثبت" ولا يعرف بتدليس؛ وعنعنته محمولة على السماع وقد قال: "عن رجل من الأنصار".
قال ابن كثير في تفسير (۱/۵٤۷) "إسناده صحيح وجهالة الصحابي لا تضره" وقال ابن عبد البر في "التمهيد" (۹/۱۱٤): "ظاهره الإرسال لكنه محمول على الاتصال للقاء عبيد الله جماعة من الصحابة" وقال الهيثمي في "المجمع" (۱/۲۳): "رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح". (مجموع رسائل السقاف: ۱/۳۵۰. ۳۵۱).

شیخ حسن بن علی السقاف نے مجموع رسائل السقاف میں مستقل رسالہ بنام
"تنقيح الفهوم العالية بما ثبت وما لم يثبت في حديث الجارية"
تحریر فرمایا ہے، وہاں اس روایت کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں، اور خلاصہ میں یہ فرمایا کہ لفظ "
أتشهدين ألا إله إلا الله"
سنداً اقوی و اصح ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں لہذا یہی صحیح اور معتمد ہے۔

وللاستزادة انظر: (مجموع رسائل السقاف: ۱/۳٤۱. ۳٦٤، دار الرازي).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.