سات آسمان اور سات جنت کے درجوں میں تفاوت:

6 min readFatwa Vol 8 #179Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

سات آسمان اور سات جنت کے درجوں میں کیا فرق ہے؟ یعنی سات آسمان اور سات جنتیں ایک ہیں یا الگ الگ ہیں؟ اور سب سے اوپر جنت الفردوس ہے، ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ معراج میں رسول اللہ ﷺ نے مختلف انبیاء کرام سے ملاقات کی، مثلاً پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے، قرآنِ کریم میں یہ بھی مذکور ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائیں گے،
إذا السماء انشقت، إذا السماء انفطرت
، تو اب میرا سوال یہ ہے کہ سات آسمان اور سات جنتیں ایک ہیں یا سات آسمان پہلے اور اس کے اوپر سات جنتیں، اگر اس طرح ہو تو قیامت کے دن آسمان پھٹ جائیں گے تو جنتیں بھی ختم ہو جائے گی؟ بینوا توجروا۔

Answer

اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جنت اور دوزخ دونوں مخلوق ہیں، لیکن ان کے جائے وقوع کے بارے میں روایات مختلف ہیں؛ قرآن میں جنت کی یہ صفت بیان کی گئی ہے؛
عرضها كعرض السماء والأرض،
جنت کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے، معلوم ہوا کہ آسمان اور جنت الگ ہیں، ورنہ جب چوڑائی میں دونوں برابر ہوں تو ایک دوسرے میں کیسے سمائیں گے، نیز مشبہ اور مشبہ بہ دونوں الگ ہوتے ہیں۔
مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عباس
رضي الله عنه
سے سوال کیا کہ جنت کہاں ہے؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا: ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے، اور جنت کی چھت عرش ہے۔
اور جہاں تک فنا ہونے کا مسئلہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں فنا ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں وہ ہلاک ہو جائیں گی یا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے جنت کے پھلوں کو بے نفع کر دیا جائے گا۔ یا یہ مطلب ہو کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر شیٔ قابل فنا ہے سوائے اللہ تعالی کی ذات کے۔
کچھ دلائل و شواہد ملاحظہ کیجیے:

وسئل مجاهد أين الجنة قال: في أعلي عليين وعن النار فقال: في أسفل السافلين. (التنبيه والرد على أهل الأهواء والبدع، لا بي الحسين محمد بن أحمد الشافعي، ص ۱٤۰، ط: القاهرة).
وقال في "الانتصار في الرد على المعتزلة" وعندنا أن الجنة والنار مخلوقتان. قال في الحاشية: ذكر اتفاق أهل السنة على هذا الآجري في الشريعة (ص: ۳۸۷)، وأبو الحسن الأشعري في مقالاته (۱/ ۱٦۸، ۳٤۹)، وابن حزم في الفصل (٤/ ۸۱)، والقاضي أبو يعلي في المعتمد في أصول الدين، (ص ۱۸۰)، وابن القيم في حادي الأرواح، (ص ۱۱)، والطحاوي وشارح عقيدته، (ص ٤۷٦)، وصديق حسن خان في يقظة أولي الاعتبار، (ص ۳۵).
وقال وإن الجنة في السماء والنار تحت الأرضين. وقال في الحاشية: قال الله عزوجل: ﴿ولقد رأه نزلة أخري عند سدرة المنتهي عندها جنة المأوي﴾ [النجم: ۱۳ـ ۱۵]، وثبت في الحديث الصحيح قوله ﷺ: إن في الجنة مائة درجة أعدها الله للمجاهدين في سبيله كل درجتين ما بينهما كما بين السماء والأرض فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس فإنه أوسط الجنة وأعلي الجنة فوقه عرش الرحمن ومنه تفجر أنهار الجنة أخرجه البخاري في كتاب التوحيد (باب وكان عرشه على الماء: ۹/ ۱۰۱)، من حديث أبي هريرة رضي الله عنه فالآية والحديث يدلان على أن الجنة في السماء ويدل الحديث على أن سقفها عرش الرحمن.
أما النار فقد روي أبو نعيم في صفة الجنة (۱٦۵ـ ۱۷۰) عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال: الجنة في السماء السابعة ويجعلها حيث شاء يوم القيامة وجهنم في الأرض السابعة، وفي إسناده محمد بن عبد الله الراوي عن سلمة بن كهيل ولم أقف على ترجمته وفي إسناده أبو الزعراء عبد الله بن هاني، قال عنه البخاري: لا يتابع في حديثه، ووثقه العجلي وابن سعد وابن حبان، انظر: (التهذيب: ٦/ ٦۱). (الانتصار في الرد علي المعتزلة القدرية الأشرار مع الحاشية لا بي الحسين يحيي بن أبي الخير العمراني اليمني الشافعي (م ۵۵۸هـ): ۳/ ٦۵۸).
وقال في لوامع الأنوار البهية: تتمة في ذكر مكان الجنة والنار، وأين هما على مقتضي الآثار:
اعلم أن الجنة فوق السماء السابعة، وسقفها عرش الرحمن كما قال جل شأنه في محكم القرآن: ﴿ولقد رأه نزلة أخري عند سدرة المنتهي عندها جنة المأوي﴾ وقد ثبت أن سدرة المنتهي فوق السماء السابعة وسميت بذلك لأنها ينتهي إليها ما ينزل من عند الله فيقبض منها، وما يصعد إليه فيقبض منها، وقال تعالى: ﴿وفي السماء رزقكم وما توعدون﴾ قال ابن أبي نجيح عن مجاهد: هو الجنة وتلقاه الناس عنه

(لوامع الانوار البهية: لشمس الدين السفاريني الحنبلي (م ۱۱۸۸ هـ) ۲/ ۲۳۷).
وللاستزادة راجع: (روائع التفسير للشيخ زين الدين ابن رجب الحنبلي (م ۷۹۵ هـ) ۲: ۵٤٦، والعظمة لأبي الشيخ الأصبهاني (م ۳٦۹ هـ) ۳: ۱۱۰۲، وصفة الجنة لا بي نعيم الأصبهاني (م ٤۳۰ هـ) ۱/ ۱۵٦، وفيض القدير شرح الجامع الصغير: ۳/ ۳٦۰، ومعالم الطريق إلى الله لا بي فيصل البدراني: ۱/ ۱۱۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.