خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ کا زمانہ:

6 min readFatwa Vol 8 #75Urdu
Vol. 8باب (۱۲): امورِ سیاست اور قضا سے متعلق احکام کا بیان

Question

خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ حضرت علی رضی الله عنه کے زمانہ تک تھی یا حضرت حسن رضی الله عنه پر ختم ہوئی، پھر اس کے بعد خلافت تھی لیکن علی منہاج النبوۃ نہیں تھی تو دونوں میں کیا فرق تھا؟ جب کہ احکامِ شرعیہ دونوں میں نافذ تھے، اور عدل و انصاف میسر تھا؟ بینوا توجروا۔

Answer

خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ تیس سال تک رہی اس کا زمانہ حضرت حسن رضی الله عنه کی خلافت کے اختتام پر ختم ہو جاتا ہے۔ ترتیبِ خلافت اور زمانہ خلافت درجِ ذیل ہے:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت: ۲ سال، ۳ ماہ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت: ۱۰ سال ٦ ماہ۔
حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت: ۱۲ سال۔
حضرت علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت: ٤ سال ۹ ماہ۔
خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ کا تتمہ: حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت: ٦ ماہ۔
لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً خلفاء راشدین آتے رہیں اور علی منہاج النبوۃ امورِ خلافت انجام دیتے رہیں، جیسے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمه الله وغیرہ۔
خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ اور بعد والی خلافت کے درمیان فروق درجِ ذیل ہیں:
خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ میں خلیفہ انتہائی سادگی اور گزارہ کر کے زندگی بسر کرتا تھا، بعد میں یہ حالت نہیں رہی۔
اپنے لیے مال و دولت کا ذخیرہ نہیں کرتے تھے بلکہ بیت المال کا مال بھی ذخیرہ نہیں کرتے تھے، بعد میں حالت بدل گئی۔
خلافتِ راشدہ علی منہاج النبوۃ میں خلفائے راشدین صراحۃً مبشر بالجنہ تھے اور مہاجرین سابقین اولین میں سے تھے۔
خلافتِ راشدہ میں کسی خلیفہ نے اپنے بیٹے یا قریبی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں بنایا بعد میں حالات کی مجبوری کی وجہ سے یہ حالت نہ رہی۔
خلافتِ راشدہ میں کسی خلیفہ نے اپنے لیے باڈی گارڈ اور حفاظت کا انتظام نہیں کیا، بعد میں حالات کی وجہ سے اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔
تیس سال خلافت والی حدیث ملاحظہ فرمائیں ابو داود شریف میں ہے:

عن سفينة قال: قال رسول الله ﷺ: "خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يؤتي الله الملك أو ملكه من يشاء". (سنن أبي داود، رقم: ٤٦٤٦).
بذل المجهود
کی تعلیق میں مرقوم ہے:

فإن أبابكر رضي الله عنه بويع له بعد وفاته ﷺ في أولي الربيعين سنة ۱۱هـ، وتوفي رضي الله تعالى عنه في جمادي الأولي سنة ۱۳هـ، كما في التقريب (۳٤۹۰). وجزم السيوطي في تاريخ الخلفاء (ص ۹۳. ۹٤) بجمادي الأخرى، فبويع لعمر رضي الله عنه باستخلاف من الصديق الأكبر، ثم توفي رضي الله تعالى عنه، واستشهد في ذي الحجة سنة ۲۳هـ، وولي الخلافة عشر سنين ونصفاً، كما في التقريب (٤۹۲۲)، فبويع لعثمان رضي الله عنه، ثم استشهد في ذي الحجة سنة ۳۵هـ، "التقريب" (٤۵۳۵)، وولي ثنتي عشرة سنة، فبويع لعلي رضي الله عنه، ثم استشهد رضي الله عنه في رمضان سنة ٤۰هـ، "التقريب" (٤۷۸۷).
وتوفي الإمام الحسن رضي الله عنه شهيداً بالسم سنة ٤۹هـ، وقيل: سنة ۵۰هـ، وقيل بعدها، كذا في التقريب (۱۲۷۰) وقال السيوطي في تاريخ الخلفاء (ص ۲۱۷، ۲۱۸): ولي الحسن الخلافة بعد قتل أبيه بمبايعة أهل الكوفة، فأقام فيها ستة أشهر وأياماً، ثم سار إليه معاوية رضي الله عنه. (تعليق بذل المجهود: ۱۳/۵۸، باب في الخلفاء، ط: دار البشائر الإسلامية).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
بارہ خلیفوں والی روایات صحیح ہیں مگر ان کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے بارہ خلیفوں تک اسلام کی قوت و شوکت قائم رہنے کی خبر دی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ بارہ خلیفہ خلفائے راشدین ہوں گے، خلافتِ راشدہ یا خلافتِ نبوت کی مدت تو تیس ۳۰ سال تک بیان فرمائی ہے۔ (کفایت المفتی: ۱/۱٤۰، ط: دار الاشاعت)۔
اسلامی عقائد میں ڈاکٹر مفتی عبد الواحد لکھتے ہیں:
اگر حکومت کا ملکی و ملی نظام منہاجِ نبوت پر ہو تو ایسی حکومت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں، اس لیے کہ جو حکومت سراسر منہاج (طریق) نبوت پر ہو گی وہ یقیناً راشدہ (سرا پا رشد و ہدایت) ہو گی، اور خلیفہ راشد وہ ہے جو علم اور عمل صالح اور پرہیز گاری و تقوی میں نبی کا نمونہ ہو، ظاہر میں حکم ران اور باطن میں اعلی درجہ کا ولی ہو اور اس کی ولایت نبی کی نبوت کا عکس ہو پس جس تن اور بدن میں حکم ران اور ولایت دونوں جمع ہو جائیں تو وہ تن اور بدن خلیفہ راشد ہے، اگر حکومت کا نظم نسق منہاجِ نبوت پر نہ ہو تو اگر اس میں عدل و انصاف اور امانت و دیانت غالب ہو تو وہ حکومت، حکومتِ عادلہ کہلائے گی، ورنہ حکومتِ ظالمہ اور جابرہ کہلاوے گی۔ (اسلامی عقائد، ص
۲۰۸
، از ڈاکٹر مفتی عبد الواحد)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (تاریخ ملت:
۱
/
۱٤۸
، و تاریخ اسلام، از مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی، جلدِ اول ص
۵٤۰
۔
۵٤۳
، تحفۃ الاحوذی:
٦
/
٤۷۷
، ط؛ دار الفکر، و فتاوی عزیزی، ص
۲۵۳
، و تحفۃ الالمعی:
۵
/
۵۹۲
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.