جمہوریت اور ووٹ کی شرعی حیثیت:

4 min readFatwa Vol 8 #65Urdu
Vol. 8باب (۱۲): امورِ سیاست اور قضا سے متعلق احکام کا بیان

Question

آج کل کی جمہوریت جس میں لوگوں کے ووٹ سے صدر منتخب ہوتا ہے یا پارلیمنٹ بنتی ہے، کیا یہ شریعت کے اصول کے موافق ہے یا مخالف؟ بینوا توجروا۔

Answer

اسلامی سیاست میں انتخابِ امیر کے لیے چار طریقے ہیں:
۱۔ بیعتِ اہل حل و عقد۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا قیام۔
لما قال الماوردي رحمه الله: أن بيعة أبي بكر رضي الله عنه انعقدت بخمسة اجتمعوا عليها ثم تابعهم ناس فيها وهم الخطاب بن الجراح وأسيد بن حضير وبشر بن سعد وسالم مولى أبي حذيفة ث. (الأحكام السلطانية، ص ۷، الباب الاول في عقد الإمامة).

۲۔ استخلاف۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ اور اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا۔
۳۔ شوری۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے چھ آدمیوں کی شوری بنائی تھی۔ اور شوری والوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنه کو خلیفہ بنایا تھا۔
لما قال الإمام أبو الحسن الماوردي: والثاني: أن عمر رضي الله عنه جعل الشوري في ستة ليعقد لاحدهم برضاء الخمسة. (الأحكام السلطانية، ص ۷، الباب الاول في عقد الإمامة).

٤۔ استیلاء۔ جیسے بعد کے زمانہ میں ہوتا رہا۔ (ملخص از فتاوی حقانیہ:
۲
/
۲۹۳
۔
۲۹٤
)۔
چنانچہ آج کل کی جمہوریت کی مشابہت قسم اول بیعتِ عامہ اور قسمِ سوم شوری کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ یعنی لوگوں سے ووٹ لینا گو یا مشورہ کی طرح ہے، لہذا اس کو خلافِ شریعت نہیں کہا جائے گا، اور یہ طریقہ دنیا کے اکثر ممالک میں رائج ہے۔
اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ یہ یورپ کا طریقہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اکثر ممالکِ مسلمہ میں شوری، بیعت اور استخلاف کا طریقہ مشکل ہے تو اس طریقہ کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر اس یورپ والے طریقہ کی کوئی شق صراحۃً اسلام کے خلاف ہو تو اس کو اپنانا جائز نہیں۔
اس طریقہ کار کی نظیر حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ میں ملتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصری قانون کے پابند تھے کیوں کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے لیکن قانونِ مصر میں یہ درست نہیں تھا اس لیے ایک تدبیر کی۔ محقق ابن کثیر رحمه الله فرماتے ہیں:
وقوله ﴿ما كان ليأخذ أخاه في دين الملك﴾ أي: لم يكن له أخذه في حكم ملك مصر، قاله الضحاك وغيره. (
تفسیر ابن کثیر: ٤/٤۰۱، ط: دار طیبۃ)۔
قاضی بیضاوی رحمه الله مصری قانون کی وضاحت فرماتے ہیں:

لأن دينه الضرب وتغريم ضعف ما أخذه دون الاسترقاق. (
تفسیر البیضاوی: ۱/۳۰۱)۔
مزید ملاحظہ ہو: (
الدر المنثور: ٤/۵٦۱).

فتاوی حقانیہ میں ہے: عصر حاضر میں ووٹ کی مختلف حیثیتیں ہیں:۔ ۱۔ ا س کی حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے، ووٹر جس ممبر کو ووٹ دے رہا ہوتا ہے وہ اس بات کی گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ میں اس کو ملک و قوم کے لیے مفید اور خیر خواہ سمجھتا ہوں۔
۲۔ اس کی حیثیت مشورہ کی سی ہے، ووٹر حکومت اور نظم و نسق کے سلسلہ میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے کہ سیاسی امور میں کون زیادہ بہتر، ایمان دار اور دیانت دار ہے۔
۳۔ اس کی حیثیت سفارش کی ہے کہ ووٹر اس امید وار کے لیے ایک اہم عہدہ سنبھالنے کے لیے سفارش کرتا ہے۔
٤۔ اس کی حیثیت وکالت کی ہے، ووٹر اپنے لیے حکومت کے گھر میں وکیل نام زد کرتا ہے کہ یہ شخص (امیدوار) حکومت سے میرے مسائل حل کرائے گا۔
۵۔ ووٹ کی حیثیت سیاسی بیعت کی ہے، ووٹر اپنے ووٹ کے ذریعہ مقامی امیدوار کے واسطہ سے سر براہِ مملکت کی بیعت کرتا ہے (فتاوی حقانیہ:
۳۰۲
)۔
مزید ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ:
۵
/
۵۳۲
۔
۵۳۳
، مکتبہ دار العلوم کراچی، و جدید فقہی مسائل:
۱
/
٤۵۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.