کیا حضرت ابو سفیان رضی الله عنه نے حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه کی خلافت کی مخالفت کی تھی؟

6 min readFatwa Vol 8 #213Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت ابو سفیان حضرت علی رضی الله عنه کے پاس آئے اور کہا کہ خلافت کو کیا ہو گیا کہ ایسے لوگوں میں چلی گئی جو قریش میں سب سے قلیل اور ادنی درجہ کے ہیں؛ یعنی ابوبکر رضی الله عنه، خدا کی قسم اگر میں چاہوں تو ان کے خلاف فوج تیار کر لوں

الخ۔ یہ حدیث کن کتابوں میں ہے؟ اور اس حدیث کی فنی حیثیت کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جس روایت کا آپ نے حوالہ دیا کہ ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اگر میں چاہوں تو ابوبکر کے خلاف فوج تیار کروں۔ یہ روایت مستدرک حاکم (
۳
/
۸۳
/
٤٤٦۲
) اور فضائل الخلفاء لابی نعیم میں (رقم
۱۹۲
) ہے، لیکن اس کی سند میں ابو الشعثاء یزید بن مہاصر (فتح الباب فی الکنی و الالقاب میں "المہاجر" ہے) الکندی الکوفی مجہول راوی ہے، امام بخاری رحمه الله نے التاریخ الکبیر میں (
۸
/
۳۸۳
) اور ابن ابی حاتم نے الجرح و التعدیل میں (
۹
/
۲۸۷
) اس کا تذکرہ کیا ہے لیکن کوئی جرح یا تعدیل مذکور نہیں۔
نیز ابو الشعثاء نامی چند افراد ہیں جن میں (۱) سلیم بن اسود المحاربی الکوفی ثقہ اور بخاری کے راوی ہیں۔ (۲) جابر بن زید تابعی ازدی بصری ابو الشعثاء، یہ بھی بخاری کے راوی ہیں اور ثقہ ہیں۔ (۳) علی بن حسن بن سلیمان حضرمی واسطی بصری ابو الشعثاء یہ مسلم کے راوی ہیں۔ (٤) یزید بن مہاصر کندی کوفی یہ غیر معروف ہے، امام بخاری اور امام ابن ابی حاتم نے اس کا تذکرہ کیا ہے لیکن مجہول الحال ہے۔ اور بھی چند ہیں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتح الباب فی الکنی و الالقاب:
۱
/
٤۲۰
، و تہذیب الاسماء
۷
/
۲٦۲
، و سیر اعلام النبلاء:
٤
/
٤۸۱
، و تہذیب الکمال:
۱۱
/
۳٤۰
)۔
حدیث کے الفاظ ملاحظہ کیجیے:

أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمرو ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا محمد بن سابق ثنا مالك بن مغول عن أبي الشعثاء الكندي عن مرة الطيب قال: جاء أبو سفيان بن حرب رضي الله عنه إلى على بن أبي طالب رضي الله عنه فقال: ما بال هذا الأمر في أقل قريش قلة وأذلها ذلة يعني أبابكر والله لئن شئت لا ملأنها عليه خيلاً ورجالاً فقال علي: لطالما عاديت الإسلام وأهله يا أبا سفيان، فلم يضره شيئاً إنا وجدنا أبابكر لها أهلاً. (المستدرك: ۳/۷۸/٤٤٦۲).

دوسری روایت مصنف عبد الرزاق (
۵
/
٤۵۱
)، تاریخ طبری (
۳
/
۲۰۹
) اور الاستیعاب میں (
٤
/
۱٦۷۹
) ہے، اس کی سند میں ابن ابجر تبع تابعی ہے اس نے صحابہ کو نہیں پایا اس لیے یہ روایت منقطع ہے۔
تیسری روایت تاریخ دمشق میں (
۲۳
/
٤٦٤
) ہے اور اس کی سند میں زیاد بن عبد الرحمن ابو الخصیب مجہول ہے۔ (میزان الاعتدال:
۲
/
۹۲
)۔
چوتھی روایت بلاذری کی انساب الاشراف میں (
۱
/
۵۸۸
) ہے، اس کی سند میں واقدی متروک راوی ہے۔ (میزان الاعتدال:
۳
/
٦٦۵
)۔
پانچویں روایت بلاذری کی انساب الاشراف میں (
۱
/
۵۸۸
) مذکور ہے، اس کی سند میں ربیع بن صبیح کا شیخ مجہول ہے۔ صحابی جلیل کی سیرت اس طرح کی ضعیف روایات سے مخدوش و مجروح نہیں ہو سکتی۔
حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ جلیل القدر صحابی اور جرنیل ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ میں یہ اعلان فرمایا تھا: "
من دخل دار أبي سفيان فهو آمن"
جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو ہماری جانب سے امان ہے، ان کی ایک آنکھ اللہ تعالی کے راستے میں غزوۂ طائف میں شہید ہوئی تھی اور دوسری آنکھ جنگِ یرموک میں، جنگِ یرموک میں سب آوازیں خاموش تھیں اور ایک آواز بلند ہو رہی تھی کہ اے اللہ کی مدد قریب آ جاؤ! یہ آواز لگانے والے حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ تھے، اس جہاد کا جھنڈا ان کے بیٹے یزید بن ابی سفیان کے پاس تھا۔ (الاصابہ:
۳
/
۳۳٤
)۔
تنبیہ: بعض حضرات کو راوی کے بارے میں کچھ مغالطہ ہوا ہے اور اس روایت کو صحیح کہا ہے، چنانچہ بعض نے ابو الشعثاء کی توثیق کی ہے اور بخاری کا راوی تسلیم کر لیا ہے جب کہ حقیقت اس کے خلاف ہے دونوں میں فرق ہے اور بعض نے عبد الرزاق و طبری کی سند میں ابن ابجر کو ابن الحر جو کبار تابعین میں سے ہے کہہ کر صحیح قرار دیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔ (تاریخ طبری:
۲
/
۲۳۷
، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
المقتني في سرد الكني: ۱/۳۰۵، للامام الذهبي، وتبصير المنتبه بتحرير المشتبه: ٤/۱۳۲٦، والكني والأسماء لمسلم: ۸/٤/۱٦۰۰، وتهذيب الأسماء، جلد ۱، ٤ و۷، وفتح الباب في الكني والألقاب: ۱/٤۲۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.