عورتوں کو سیاست و حکومت میں حصہ لینے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 8 #79Urdu
Vol. 8باب (۱۲): امورِ سیاست اور قضا سے متعلق احکام کا بیان

Question

آج کل کے عالمی سیاسی احوال کے پیش نظر کیا عورتوں کو سیاست وغیرہ میں حصہ لینا اور شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ میرا سوال مغربی جمہوری حکومتوں (امریکہ، انگلینڈ، آسٹریلیا وغیرہ) کے بارے میں ہے افریقہ کے بارے میں مجھے زیادہ علم نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ وہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ جہاں تک عورت کا سر براہِ مملکت بننے کی بات ہے تو وہ قرآن و حدیث کی رو سے درست نہیں ہے، کیوں کہ سر براہِ مملکت بننے کی شرائط میں سے ایک شرط مذکر ہونا ہے جو مفقود ہے۔
رہی یہ بات کہ سیاست اور پارلمینٹ کارکن بننا یا ووٹ میں شرکت کرنا وغیرہ درست ہے یا نہیں ؟ تو حدودِ شریعت مثلاً پر دہ وغیرہ کی رعایت کے ساتھ گنجائش ہے۔ لیکن فی زماننا عورتوں کا مردوں کے ساتھ خلط و اختلاط بہت زیادہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ ہے بنا بریں اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
ملاحظہ کیجیے فتاوی حقانیہ میں تفصیل سے مرقوم ہے:
اس پر فتن دور میں حالات کے پیش نظر عورت کو اسمبلی یا پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے سے احتراز کرنا چاہیے اس لیے کہ موجود ہ حالات میں انتخابات کے لیے مہم چلانے کے دوران عورت کے لیے پر دہ برقرار رکھنا مشکل نظر آتا ہے، تاہم اگر عورت انتخابات میں اس طرح حصہ لے کہ شرعی پر دے کا خاص خیال رہے اور کسی غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کرے تو اس صورت میں عورت کے لیے انتخاب لڑنا اور پارلیمنٹ میں اس کو رکنیت دینا شرعاً جواز کی گنجائش ہے۔
اس لیے کہ ارکانِ اسمبلی و پارلیمنٹ عوام و قوم کی طرف سے ان کے وکلاء ہوتے ہیں اور عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ کسی فرد کی وکیل بنے، فقہ حنفی کی کتابوں میں وکیل کی شرائط میں کہیں بھی ذکورت کی شرط موجود نہیں ، اور بدایۃ المجتہد کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ اربعہ کے نزدیک عورت کی وکالت صحیح ہے، صرف عقدِ نکاح میں امام شافعی رحمه الله اور امام مالک رحمه الله کے نزدیک عورت وکیل نہیں بن سکتی۔

لما قال الإمام ابن رشد الحفيد: وشروط الوكيل أن لا يكون ممنوعاً بالشرع من تصرفه في الشيء الذي وكل فيه فلا يصح توكيل الصبي ولا المجنون ولا المرأة عند مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله على عقد النكاح. (بداية المجتهد: ۲/۲۹٦، الباب الاول كتاب الوكالة).

اسی طرح ارکانِ اسمبلی و پارلیمنٹ کی حیثیت اہل حل و عقد کی ہے، ان ہی کے ووٹوں سے پھر وزیر اعظم اور صدر مملکت کا انتخاب ہوتا ہے، سیاست کے مشہور امام علامہ ماوردی رحمه الله نے اہل حل و عقد کی شرائط میں ذکورت کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ فرماتے ہیں:

فأما الاختيار فالشروط المعتبرة فيهم ثلاثة: أحدها: العدالة الجامعة لشروطها، والثاني: العلم الذي يتوصل به إلى معرفة من يستحق الإمامة على الشروط المعتبرة فيها، والثالث: الرأي والحكمة المؤديان إلى اختيار من هو للإمامة أصلح وبتدبير المصالح أقوم وأعرف. (الأحكام السلطانية، ص ٦، الباب الأول في عقد الإمامة).

اگر اسلامی تاریخ اور اسماء الرجال کی کتب پر نظر ڈالی جائے تو صاف طور پر نظر آتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ایک صحابیہ رضی الله عنہ کو بازار کے نظم و نسق پر مامور کیا تھا اور اس صحابیہ رضی الله عنه کو رائے اور مشورہ دینے میں ترجیح دیتے تھے، اس صحابیہ کا نام حضرت شفا رضی اللہ عنہا ہے۔
علامہ ابن حجر العسقلانی رحمه الله اسی صحابیہ کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں:
الشفاء بنت عبد الله بن عبد شمس بن خلف

وكان عمر رضي الله عنه يقدمها في الرأي ويرعاها ويفضلها وربما ولاها شيئاً من أمر السوق. (الإصابة في تمييز الصحابة: ۸/۲۰۲، ط: دار الكتب العلمية، بيروت).

اس کے علاوہ صحابہ کرام رضي الله عنہم میں ام المؤمنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بڑا مقام تھا، صحابہ کرام رضي الله عنہم کو جب بھی کسی مسئلہ میں کوئی مشکل پیش آتی تو آپ رضی الله عنه سے اس کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا تھا اور آپ رضی الله عنه کی رائے کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔
علامہ ابن حجر رحمه الله آپ کی شان میں یوں رقم طراز ہیں:
وقال أبو الضحى عن مسروق رأيت مشيخة أصحاب رسول الله ﷺ الأكابر يسألونها عن الفرائض، وقال عطاء بن أبي رباح رحمه الله كانت عائشة رضي الله عنه أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأياً في العامة

وقال أبو بردة بن أبي موسى عن أبيه ما أشكل علينا أمر فسألنا عنه عائشة رضي الله عنه إلا وجدنا عندها فيه علماً. (الإصابة في تمييز الصحابة: ۸/۲۳۳، ترجمة عائشة رضي الله عنه، بيروت).

اِن عبارات سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو گھریلو معاملات کے علاوہ انتظامِ مملکت میں بھی کچھ کردار ادا کرنے کی اجازت ہے، احناف کے نزدیک حدود و قصاص کے علاوہ دیگر مسائل میں عورت قاضیہ بن سکتی ہے۔
اگر عورت امورِ شرعیہ کا خیال رکھتے ہوے اسمبلی یا پارلیمنٹ کی ممبر بن جائے تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، لیکن عصر حاضر میں پارلیمنٹ میں عورتوں کے کردار کو مدِ نظر رکھتے ہوے اس کی اجازت دینا کسی دینی مقصد کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ عموماً پارلیمنٹ میں عورتیں احیاء حقوقِ نسواں کے نام سے بے دینی کے کام زیادہ کرتی ہیں اس لیے انھیں اسمبلیوں میں نہ بھیجنا زیادہ راجح ہے۔
تاہم دلائل مذکورہ سے یہ بات کہیں ثابت نہیں ہوتی کہ عورت سر براہِ مملکت بن سکتی ہے اس لیے کہ عورت کی سربراہی کے بارے میں احادیث اور قرآنِ مجید میں واضح دلائل موجود ہیں، اس کے علاوہ جہاں بھی امامتِ کبری کی شرائط بیان ہوئی ہیں وہاں ذکورت کی شرط لازمی ذکر ہوئی ہے۔ (فتاوی حقانیہ:
۲
/
۳۱۷
۔
۳۲۰
)۔
کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
عورتوں کا ووٹر بننا ممنوع نہیں ہے، ہاں ووٹ دیتے وقت شرعی پر دہ کا لحاظ رکھنا لازم ہوگا، اور بطورِ امیدوار کھڑا ہونا عورتوں کے لیے مستحسن نہیں ، کیوں کہ اس میں ضروریاتِ شرعیہ کی رعایت کے ساتھ کونسل یا اسمبلی کی شرکت عورتوں کے لیے متعذر ہے۔ (کفایت المفتی:
۳
/
۲٦۱
)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (امداد الفتاوی
۵
/
۱۰۳
، و آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۷
/
۵٦۰
، و فتاوی حقانیہ:
۲
/
۲۹٦
۔
۲۹۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.