مسلمانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حکم:
Question
کیا مسلمانوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ اور شرعاً یہ ضروری ہے یا اختیار ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
مسلمانوں کو انتخابات میں حصہ لینا، امیدوار بننا اور ووٹ دینا یا کسی امیدوار کے لیے انتخابی مہم چلانا جائز اور درست ہے بلکہ جمہوری ممالک میں انتخابات میں شرکت کے ساتھ بے شمار دینی و ملی مصالح اور مقاصد وابستہ ہونے کی وجہ سے بہتر اور مستحسن ہے۔
البتہ ووٹ دینے سے پہلے درجِ ذیل چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:۔
(۱) شہادت:۔ ووٹ دینے والا شہادت دے رہا ہے کہ جس کے حق میں ووٹ دے رہا ہوں وہ اس کام کا اہل ہے اور مسلمانوں کے لیے نقصان کا اندیشہ نہیں ہے۔
(۲) شفاعت:۔ ووٹ دہندہ اپنے نمائندے کی سفارش کر رہا ہے اور سفارش کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص سفارش کے قابل ہو۔ ورنہ غیر قابل ظالم، جابر شخص کو ووٹ دینا اس کے ظلم میں شریک ہونا ہے۔
قال الله تعالى: ومن يشفع شفاعة حسنة يكن له نصيب منها ومن يشفع شفاعة سيئة يكن له كفل منها. (النساء: ۸۵).
(۳) وکالت:۔ ووٹ دینے والا امیدوار کو اپنا وکیل بنا رہا ہے۔ (مستفاد از جواہر الفقہ:
۲
/
۲۹۷
۔
۲۹۹
)۔
(٤) امانت داری اور مشورہ:۔ یعنی انتخابی بورڈ ملک کے سارے عوام سے مشورہ لیتا ہے کہ انتخابی میدان میں مختلف امیدواروں میں سے کون شخص ملک کے لیے بحیثیت حاکم یا بحیثیت معاون حکومت آپ کی رائے میں زیادہ موزون ہے؟ تو ووٹ دینے والا اپنی رائے سے انتخابی بورڈ کو آگاہ کرتا ہے۔ اس اعتبار سے مشورہ اور رائے کا جو ضابطہ ہے اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، احادیث میں مشورہ اور رائے کو امانت قرار دیا گیا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
المستشار مؤتمن. (
رواہ الترمذی) یعنی جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔
اب قابلیت اور اہلیت والے شخص کو ووٹ دینا موجبِ ثوابِ عظیم ہے اور ضروری بھی ہے، اس لیے کہ قرآنِ کریم نے سچی شہادت کو لازم قرار دیا ہے: ارشادِ باری ہے:
كونوا قوامين لله شهداء بالقسط.
اور دوسری جگہ ارشاد ہے:
كونوا قوامين بالقسط شهداء لله،
ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ سچی شہادت سے جان نہ چھڑائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
اور اگر کسی حلقہ میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنی میں قابل اور دیانت دار معلوم نہ ہو مگر ان میں سے کوئی ایک صلاحیت کار اور خدا ترسی کے اصول پر دوسروں کی نسبت سے غنیمت ہو تو تقلیل شر اور تقلیل ظلم کی نیت سے اس کو بھی ووٹ دینا جائز بلکہ مستحسن ہے جیسا کہ نجاست کے پورے ازالہ پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں تقلیل نجاست کو اور پورے ظلم کو دفع کرنے کا اختیار نہ ہونے کی صورت میں تقلیل ظلم کو فقہاء رحمہم اللہ نے تجویز فرمایا ہے۔
اسی اصول پر جمہوری انتخابات میں ووٹ دینے والا شخص نہ دینے والے کے مقابلہ میں شریعت کے نزدیک زیادہ بہتر اور لائق تحسین ہے۔ مثلاً: اگر کسی ایک پارٹی کے نظریات اسلام دشمنی پر مبنی نہ ہوں تو اس کو ووٹ دے اور دوسری پارٹی کے نظریات اس کے خلاف ہوں تو اس کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔
دوسرا مسئلہ مسلمان کے لیے امیدوار بننا:
اس سلسلہ میں یا د رکھنا چاہیے کہ وہ دو باتوں کا مدعی ہوتا ہے:۔ (۱) قابلیت:۔ یعنی امیدوار اس کام کی قابلیت، صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہے اور تمام لوگوں کی ذمہ داری کا بار اپنی گردن پر اُٹھانے کے لیے تیار ہے۔
(۲) دیانت:۔ یعنی مدعی اس کام کو امانت داری کے ساتھ اٹھائے گا۔ بنا بریں اگر امیدوار اپنے آپ کو اس عہدہ کے لیے قابل سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ کسی اور میں زیادہ اہلیت نہیں پاتا تو اس کو طلب کرنا چاہیے ورنہ نااہل کے آنے پر فساد و مظالم کا سبب وہ قرار پائے گا۔
اسی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا: "
اجعلني على خزائن الأرض، إني حفيظ عليم. (يوسف).
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اجلاس میں زیر بحث مسئلہ پر بھی مقالات لکھے گئے، ان میں سے مختصر حسبِ ذیل ہے:
(۱) اسلام کا اپنا ایک مستقل نظامِ حکم رانی ہے، لیکن موجود ہ عالمی حالات میں دوسرے غیر اسلامی نظام ہائے حکومت کے مقابلہ میں مروج جمہوری نظام ہی مسلم اقلیتوں کے لیے قابل ترجیح ہے، لہذا اس نظام کے تحت مسلمانوں کا الیکشن میں حصہ لینا، امیدوار بننا، ووٹ دینا اور کسی امیدوار کے لیے انتخابی مہم چلانا جائز ہے۔
(۲) مسلمانوں کے ملی اور مذہبی مفادات کا تقاضا ہے کہ وہ ووٹ دینے کا قانونی حق بھر پور طریقہ سے استعمال کریں۔
(۳) جن سیاسی جماعتوں نے اعلانیہ، اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کو اپنی جماعت کا مقصد بنا لیا ہو، ان میں مسلمانوں کی شمولیت جائز نہیں اور ان کے کسی امیدوار کو ووٹ دینا بھی جائز نہیں ہے، خواہ وہ ذاتی طور پر نیک خصلت ہو۔
(٤) جمہوری سیکولر سیاسی پارٹیوں سے ملی مفادات کے تحت معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔
(۵) ملک اور انسانیت کے نفع اور معاشرہ میں عدل و انصاف اور امن و سلامتی کی فضا قائم کرنے کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کام کیا جا سکتا ہے اور ان کے اشتراک سے تنظیمیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ (غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل، ص
۴۹
، ط: ایفا پبلیکشنز)۔
مخالفِ اسلام پارٹیوں میں شرکت اور ان کا تعاون کرنا جائز نہیں :۔
ایسی سیاسی پارٹیاں جنہوں نے قوم پرستی اور فرقہ پرستی کے جذبات، تعصب اور نفرت کو ہوا دی ہے، اور وہ اسلام، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کر کے ملک کی اکثریت کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے کوشاں ہیں، اور وہ نسل کشی، کشت و خون اور فسادات کی آگ بھڑکا کر حکومت میں اکثریت حاصل کرنے کا ناپاک ارادہ رکھتی ہیں، ایسی پارٹیوں کو ووٹ دینا اور اس میں شریک ہونا ہرگز جائز نہیں ہوگا، اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب﴾. (المائدة: ۲).
گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو، اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
ایسے امیدوار کو ووٹ دینے میں ہو سکتا ہے کہ علاقائی سطح پر مسلمانوں کو کچھ فائدہ ہو، لیکن قومی سطح پر مسلمانوں کا قومی نقصان ہوگا، فقہ کا مشہور قاعدہ ہے:
"درء المفاسد أولي من جلب المصالح". (الأشباه والنظائر).
انتخابات کے موقع پر غیر مسلم سیکولر سیاسی پارٹیوں سے مفاہمت، اتحاد، ان میں شرکت، ان کی حمایت اور مسلم مفادات کی بنیاد پر ان سے معاہدے کرنے کی شریعت میں گنجائش ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد مدینہ کے یہود اور اس پاس کے غیر مسلم قبائل سے معاہدہ کیا تھا، جسے میثاق مدینہ کے نام سے یا د کیا جاتا ہے کہ وہ بیرونی حملہ آوروں کا متحدہ مقابلہ کریں گے، اور ہر مذہب والے کو اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہو گی، گویا یہ سیاسی اور دفاعی نوعیت کا معاہدہ تھا، آج کل کے حالات کے پیش نظر شرعاً یہ ضروری ہے۔ (ماخوذ از غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے کچھ اہم مسائل، ص
۲۸۸
،
۲۸۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.