سیوٹ کافی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #193Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

سیوٹ کافی (civet coffee) یہ ایک قسم کی کافی ہے، اور اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک قسم کی جنگلی بلی (مشک بلاؤ) کو کچھ دانے [جو گوندنی کی طرح ہوتے ہیں] کھـلائے جاتے ہیں، پھر سیوٹ بلی سے یہ دانے کچھ ہضم ہو کر اور کچھ اصل دانے کی شکل میں نکلتے ہیں، اور اصل دانے اپنی پوری شکل و صورت میں باقی رہتے ہیں یعنی اوپر کا حصہ جو نرم ہوتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اندر کا سخت حصہ اسی حالت پر رہتا ہے اور اسی سے کافی بنتی ہے، تو اب ایسی کافی کا استعمال درست ہو گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر یہ دانہ بعینہٖ اپنی شکل پر نکلتا ہے اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوتا یعنی پھولا، پھٹا نہیں تو فقہاء کی عبارات کی روشنی میں تین مرتبہ دھو کر، سکھا کر اس کو کھا سکتے ہیں، ہاں اگر اس میں کچھ تبدیلی آ گئی، مثلاً: دانہ پھولا ہوا ہے یا اس کی شکل بدل چکی ہے تو پھر اس کا استعمال ناجائز ہے۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

شعير في بعر أو روث يؤكل بعد غسله وفي خثي لا. وفي الشامية: قوله: شعير، في التاتارخانية: إذا وجد الشعير في بعر الإبل والغنم يغسل ويجفف ثلاثاً ويؤكل وفي أخثاء البقر لا يؤكل قال في الفتح: لأنه لا صلابة فيه، ثم نقل في التاتارخانية عن الكبري: أن الصحيح التفصيل بالانتفاخ وعدمه ويستوي فيه البعر والخثي، أي إن انتفخ لا يؤكل فيهما وإلا أكل فيهما وبحث نحوه في شرح المنية وبما ذكرنا علم أن قوله صلب مرفوع صفة ثانية لشعير فافهم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۳٤۹، سعيد).

فتاوی تاتارخانیہ میں مرقوم ہے:

وفيه (الخانية) إذا وجد الشعير في بعر الإبل والغنم يغسل، وفي الحجة: ويجفف ثلاثاً ويؤكل، وإن كان في أخثاء البقر لا يؤكل، وفي الكبري: الصحيح أن يفصل بالانتفاخ وعدمه، ويستوي بين البعر والخثي. (الفتاوى التاتارخانية: ۱/۳۲۲).
وفيه أيضاً: إذا أصابت الحنطة الخمر إلا أنها تنتفخ من الخمر فغسلت ثلاثاً ولا يوجد لها طعم ولا رائحة ذكر في بعض المواضع عن أبي يوسف رحمه الله أنه لا بأس بأكلها

(الفتاوى التاتارخانية: ۱/۳۱۲).
وللمزيد راجع: (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۲۷، والفتاوى الهندية: ۵/ ۳۳۹، و ۱/٤۸، والبحر الرائق: ۸/۲۰۸، دار المعرفة، وفتح القدير: ۱/۲۱۱، دار الفكر).

عمدۃ الفقہ میں حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اونٹ یا بکری کی مینگنی میں اگر جو ہوں تو دھو کر کھائے جا سکتے ہیں یعنی تین بار دھوئے اور ہر بار سکھائے، بیل، گائے یا بھینس وغیرہ کے گوبر میں ہوں تو نہ کھائے جائیں اس لیے کہ اس میں سختی نہیں ہے۔ (عمدۃ الفقہ:
۱
/
۲۸۰
)۔
کتبِ شافعیہ میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے۔ چند کتابوں کے حوالے ملاحظہ فرمائیں:
امام نووی رحمه الله شرح المہذب میں فرماتے ہیں:

قال أصحابنا: إذا أكلت البهيمة حباً وخرج من بطنها صحيحاً فإن كانت صلابته باقية بحيث لو زرع نبت فعينه طاهرة لكن يجب غسل ظاهره لملاقاه النجاسة لأنه وإن صار غذاء لها فمما تغير إلى الفساد فصاركما لو ابتلع نواة وخرجت فإن باطنها طاهر ويطهر قشرها بالغسل وإن كانت صلابته قد زالت بحيث لو زرع لم ينبت فهو نجس. (المجموع شرح المهذب: ۲/۵۷۳).
وللاستزادة راجع: (نهاية المحتاج في شرح المنهاج: ۱/۲٤۰، وإعانة الطالبين: ۱/۹۹، وحاشية الجمل على المنهج: ۱/۵۱۰، ط: دار الفكر، وحواشي الشرواني: ۱/۲۹٤، وتحفة المحتاج في شرح المنهاج: ۳/۲۷۳، والموسوعة الفقهية: ٤۰/۱۰۸، ط: الكويت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.