کیا حضرت معاویہ رضی الله عنه کے گھوڑے کی ناک کا غبار عمر بن عبد العزیز سے بہتر ہے؟

6 min readFatwa Vol 8 #197Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

درجِ ذیل مقولہ کس کا ہے:
الغبار الذي دخل انف فرس معاوية خير من أويس القرني وعمر بن عبد العزيز؟
اور کہاں مذکور ہے؟ اور جانور کا غبار اولیاء اللہ تابعین سے کیسے بہتر ہے؛ جب کہ مسلمان کی حرمت خانہ کعبہ سے زیاد ہ ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

یہ مقولہ کچھ کمی بیشی کے ساتھ اکثر حضرات کے نزدیک عبد اللہ بن مبارک رحمه الله کا ہے۔
ملاحظہ ہو درجِ ذیل عبارت بعینہٖ ارشاد الطالبین میں موجود ہے:
عبد اللہ بن مبارک از تابعین است می گوید:
الغبار الذي دخل أنف فرس معاوية خير من أويس القرني وعمر المرواني،
یعنی غبار یکہ در بینی اسپ معاویہ داخل شدہ بہتر است از اویس قرنی و عمر مروانی۔ (ارشاد الطالبین از مولانا ثناء اللہ پانی پتی،
۳۰
،
۳۱
مطبع لاہور)۔
یعنی وہ غبار جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھوڑے کی ناک میں داخل ہوا تھا وہ حضرت اویس قرنی رحمه الله اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمه الله سے بہتر ہے۔
امداد الفتاوی اور فتاوی حقانیہ میں بھی اس عبارت کی نسبت ارشاد الطالبین کی طرف کی گئی ہے۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
٦۰٤
، مکتبہ دار العلوم کراچی، و فتاوی حقانیہ:
۱
/
۲۱۳
، ناشر دار العلوم حقانیہ)۔
اسی طرح عبد اللہ بن مبارک رحمه الله کا یہ قول صرف عمر بن عبد العزیز کے بارے میں بھی آیا ہے:

وقد سئل عبد الله بن المبارك عن معاوية وعمر بن عبد العزيز أيهما أفضل؟ فقال: الغبار الذي دخل أنف فرس معاوية أفضل عند الله من مائة عمر بن عبد العزيز. (الصواعق المحرقة: ۲/٦۱۳، ط: مؤسسة الرسالة، وروح المعاني: ۱٤/۲۸۹، ط: دار الكتب العلمية، ومرقاة المفاتيح: ۱/۳٤، ط: دار الفكر، والبداية والنهاية: ۸/۱۳۹، ط: دار الفكر).

اور بعض کتابوں میں اس کی سند بھی بیان کی گئی ہے:

قال الحافظ ابن عساكر في تاريخه: أخبرنا أبو بكر محمد بن محمد أنا أبو بكر الخياط أنا أبو الحسين السوسنجردي أنا أحمد بن أبي طالب الكاتب حدثني أبي قال: وحدثني السعيدي نا أحمد بن سهل أبو غسان نا القاسم بن محمد من ولد أبي بكر الصديق قال: سمعت سعيد بن يعقوب الطالقاني يقول: سمعت ابن المبارك يقول: تراب في أنف معاوية أفضل من عمر بن عبد العزيز. (تاريخ دمشق: ۵۹/ ۲۰۷، ط: دار الفكر).
قال الآجري: حدثنا أبو بكر محمد بن الحسين بن شهريار البلخي قال: حدثنا على بن عبد الصمد قال: حدثني عبد الوهاب الوراق قال: حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن عمرو قال: سمعت رجلاً بمرو قال لابن المبارك معاوية خير أو عمر بن عبد العزيز؟ قال: فقال ابن المبارك: تراب دخل في أنف معاوية رضي الله عنه مع رسول الله ﷺ خير أو أفضل من عمر بن عبد العزيز. (الشريعة للآجري ص ۲٤٦٦ دار الوطن).

اور بعض کتابوں میں اس قول کی نسبت امام احمد بن حنبل رحمه الله کی طرف کی گئی ہے:

سئل الإمام أحمد بن حنبل رضي الله عنه أيهما أفضل معاوية أو عمر بن عبد العزيز فقال: لغبار لحق بأنف جواد معاوية بين يدي رسول الله ﷺ خير من عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه، وأماتنا على محبته. (شذرات الذهب: ۱/٦۵، ط: دار ابن كثير).

(۲) اس عبارت سے صحابی کا مقام سمجھانا مراد ہے کہ غیر صحابی، صحابی کے برابر کیسے ہو سکتا ہے، جیسے عام طور پر محاورے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں عالم شیخ الہند کے جوتے کے تسمہ کے برابر بھی نہیں ، اس کلام سے شیخ الہند کی فضیلت بیان کرنا مقصود ہے، عالم اور جوتے کا مقابلہ مقصود نہیں ہے؛ اس لیے یہ کلام مقامِ صحابیت کی فضیلت بیان کرنے کے لیے ہے:

أشار بذلك إلى فضيلة صحبته ﷺ ورؤيته لا يعدلها شيء. (الصواعق المحرقة: ۲/٦۱۳، ط: مؤسسة الرسالة).

دوسرا مطلب یہ ہے کہ صحابی کے گھوڑے کی ناک کا غبار بلا واسطہ فضیلت سے عبارت اور کنایہ ہے؛ تو مطلب یہ ہوا کہ معاویہ
رضي الله عنه
کو جو بلا واسطہ شرفِ صحبت حاصل ہے وہ عمر بن عبد العزیز رحمه الله وغیرہ کو حاصل نہیں ؛ کیوں کہ ان کا شرف بالواسطہ ہے جیسے حضرت بریرہ رضی الله عنه کے فراق پر ان کے شوہر حضرت مغیث رضی الله عنه روتے تھے، جو ایک صحابی سے بعید ہے؛ لیکن در حقیقت وہ اس نسبت اور تعلق کے منقطع ہونے پر روتے تھے جو حضرت بریرہ رضی الله عنه کو بیتِ نبوت سے بلا واسطہ حاصل تھی، دیکھیے:
ذلك مغيث عبد بني فلان يعني زوج بريرة كأني أنظر إليه يتبعها في سكك المدينة، يبكي عليها. (بخاري ۵۲۸۲، ۵۲۸۱، ترمذي ۱۱۵٦، أبو داود ۲۲۳۱).

ہاں! اگر اس عبارت کو ظاہر پر محمول کریں تو پھر اشکال ہوگا کہ مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے تو غبارِ فرسِ صحابی سے بدرجہ اولی زیادہ ہو گی۔

حدثنا أبو القاسم بن أبي ضمرة نصر بن محمد ابن سليمان الحمصي ثنا أبي ثنا عبد الله بن أبي قيس النصري ثنا عبد الله بن عمرو قال رأيت رسول الله ﷺ يطوف بالكعبة ويقول: ما أطيبك وأطيب ريحك ما أعظمك وأعظم حرمتك والذي نفس محمد بيده لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك ماله ودمه وأن نظن به إلا خيراً. (ابن ماجه ۳۹۳۲، ص ۲۸۲، ط: قديمي كتب خانه).
وفيه: نصر بن محمد شيخ ابن ماجة ضعفه أبو حاتم وذكره ابن حبان في الثقات، وأخرجه البيهقي في شعب الإيمان (۵/٤٦۵/۳۷۲۵) من طريقين عن حفص بن عبد الرحمن عن شبل عن ابن جريج عن مجاهد عن ابن عباس رضي الله عنه

وإسناده حسن، ورجاله ثقات رجال الشيخين غير حفص وهو صدوق قاله ابن حجر في التقريب.

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.