حدیثِ جساسہ میں دجال کی نشاندہی اور چھ قسم کی مخلوقات:

17 min readFatwa Vol 8 #219Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں دجال کا کسی جزیرے میں قید ہونے کا ذکر ہے اور اس کے ساتھ جساسہ بھی ہے، آج کل دنیا ایک محلہ کی طرح ہو گئی ہے تو اگر دجال کسی جزیرے میں ہے تو کیوں نظر نہیں آتا؟ اور جساسہ کیا چیز ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

مذکورہ بالا سوال کا جواب درجِ ذیل ایک مفید تمہید میں نمبر ۵ "دجال" کے تحت مذکور ہے:
بندہ عاجز کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے چھ قسم کی مخلوقات پیدا فرمائی ہیں، تین مفردات ہیں اور تین مرکبات۔ مفردات یہ ہیں: ۱۔ انسان، ۲۔ ملائکہ، ۳۔ جنات۔ حدیث کی روشنی میں انسان مٹی سے، ملائکہ نور سے اور جنات نار سے پیدا کیے گئے۔ تین قسمیں جن کو میں برزخ کی طرح سمجھتا ہوں وہ یہ ہیں:
٤۔ حضرت خضر علیہ السلام: حضرت خضر علیہ السلام ملک اور فرشتہ ہیں؛ لیکن انسان کی طرح ہیں، حضرت مولانا حبیب اللہ احمد کیرانوی رحمه الله نے حل القرآن میں اسی کو اختیار کیا ہے، اور یہ تفسیر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے ملاحظہ فرمائی ہے اور اس پر تقریظ لکھی ہے۔ (حل القرآن:
۲
/
۲
)۔
حضرت مولانا حبیب احمد کیرانوی رحمه الله لکھتے ہیں: اب اس کے متعلق چند باتیں بیان کرنی ہیں: اول یہ کہ ان بزرگ کا نام حدیث میں خضر لیا گیا ہے؛ لیکن نہ قرآن میں تصریح ہے کہ یہ انسان تھے یا فرشتہ اور نہ حدیث میں؛ لہذا کچھ بعید نہیں کہ حق تعالی نے کسی فرشتے کو آدمی کی شکل میں بھیجا ہوا اور امورِ تکوینیہ کا تعلق فرشتوں سے ہے ہی"
آگے لکھتے ہیں: "لیکن اگر وہ انسان تھے جیسا کہ مشہور ہے، گو بے دلیل ہے"۔ (حل القرآن:
۲
/
۲
)۔
اس تفسیر پر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے جو تقریظ تحریر فرمائی ہے وہ تفسیر کی ابتدا میں چھپی ہے، اس میں لکھا ہے کہ میں نے اس تفسیر کو شروع سے ختم تک حرفاً حرفاً دیکھا ہے اور پھر اس کی دس خصوصیات بیان کرنے کے بعد عوام اور خواص سب کے لیے اس تفسیر کو مفید بتلایا۔
یہ وضاحت اس لیے کرنی پڑی کہ خضر علیہ السلام کو مولانا مودودی صاحب نے بھی فرشتہ قرار دیا ہے اور مفتی عزیز الرحمن بجنوری صاحب نے "تقصیراتِ تفہیم" کے نام سے کتاب لکھی، جس میں مودودی صاحب کی تفسیر کے بعض مقامات پر تنقید فرمائی ہے، ان مقامات میں حضرت خضر علیہ السلام کے فرشتہ ہونے کے قول کو قابل جرح فرمایا۔ یہ جرح صفحہ ۱۷۵ سے ۱۸۱ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہم نے مودودی صاحب کی تقلید میں نہیں ، بلکہ مولانا حبیب احمد صاحب کیرانوی رحمه الله کی تفسیر "حل القرآن" اور دیگر دلائل کی روشنی میں یہ قول اختیار کیا۔
اور یہ بات کہ انہوں نے کھانا طلب کیا؟ طلب تو کیا، لیکن حضرت خضر علیہ السلام کا کھانا تناول فرمانا ثابت نہیں۔ اس بات کی تائید حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ حضرت امام احمد رحمه الله کے سفر حج کے ایک واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ دورانِ سفر امام احمد رحمه الله بہترین کھانا تناول فرماتے اور حضرت خضر علیہ السلام کھانا نہیں کھاتے۔
چنانچہ قاضی ابو یعلی نے طبقات الحنابلہ میں امام احمد رحمه الله سے نقل کیا ہے کہ میں حاجیوں کو رخصت کرنے کے لیے قادسیہ تک گیا، میرے دل میں حج کا شدید شوق پیدا ہوا، ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ میں کیسے حج کے لیے جا سکتا ہوں! میرے پاس سوائے اِن پانچ دراہم کے یا ان کپڑوں کے جن کی قیمت پانچ دراہم ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں ، اتنے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابو عبد اللہ! آپ کا نام تو بڑا ہے؛ مگر نیت کمزور ہے، کیا آپ میرے ساتھ حج کے لیے جانا چاہتے ہیں؟ امام احمد رحمه الله نے ہاں میں جواب دیا اور اس شخص کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گئے۔ ان کے پاس نہ کوئی کھانا تھا اور نہ کوئی مشروب تھا۔ امام احمد رحمه الله کہتے ہیں کہ کھانے کے وقت اس نے مجھ سے کہا کہ فلاں جگہ سے کھانا اُٹھا کر لاؤ، میں ایک جگہ سے گرم گرم کھانا جس میں سبزیاں اور بہترین سوپ جس میں گوشت کی ہڈیاں گلی ہوئی تھیں اور گرم گرم روٹیوں کی چنگیری اور پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لایا، جب میں نے کھانا حاضر کیا تو وہ شخص نماز میں مشغول تھا، اس نے نماز کو مختصر کر کے کہا: تم کھاؤ؛ لیکن خود نہیں کھایا۔ جب میں نے بچا ہوا کھانا رکھنا چاہا تو اس نے کہا: یہ کھانا ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔ امام احمد رحمه الله فرماتے ہیں کہ پورے سفر میں اس شخص کا میرے ساتھ یہی معاملہ رہا کہ وہ مجھے بہترین کھانا کھلاتا رہا اور خود نہ کھاتا۔ نیز ہم لمبی مسافت تھوڑے وقت میں طے کر لیتے؛ یہاں تک کہ ہم نے حج مکمل کر لیا اور وہ شخص مجھے اسی جگہ پہنچا کر رخصت ہو گیا جہاں سے اس نے مجھے اپنے ساتھ لیا تھا۔ ملاحظہ ہو: (طبقات الحنابلۃ:
۱
/
۱۹۱
۔
۱۹۲
)۔
اس قصے کے راوی امام ابو القاسم بغوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔

أقول:
اگر وہ خضر نہ تھے تو اتنے دن بغیر کھانے کے زندہ رہنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
اور
﴿آتيناه رحمة من عندنا﴾
میں رحمت سے وحی مراد ہے جس کو علم لدنّی کہتے ہیں؛
﴿وعلمنه من لدنا علما﴾ [الكهف: ٦۵].

ان کو فرشتہ ماننے سے ان کی حیات کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور اولیا کے ساتھ ملاقات بھی قابل تعجب نہیں رہے گی۔ واللہ اعلم۔
حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام کے قصے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ کشتی میں تختہ اُکھاڑ کر سوراخ کرنے کا تصرف حضرت خضر علیہ السلام نے کیا؛ لیکن کشتی سواروں نے اس ملکی تصرف کو نہیں دیکھا؛ ورنہ شور مچاتے اور پٹائی شروع کرتے۔ بچے کی گردن کو اس کے تن سے جدا کر دیا؛ لیکن بچوں نے شور نہیں مچایا کہ ہمارے ساتھی کو قتل کیا۔ دیوار کو ہاتھ سے سیدھا کیا، جو فرشتے کے لیے بہت آسان تھا۔ ان کے ملک ہونے کے اور بھی بعض شواہد ہیں جن کے ذکر کرنے کا یہ محل نہیں۔ اگر ایسا ہو تو ان کا تا قیامت زندہ رہنے کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا؛ کیونکہ فرشتے تا قیامت زندہ رہیں گے۔
۵۔ دجال: دجال اصلاً تو جنی اور شیطان ہے؛ لیکن انسانوں کے ساتھ بہت مشابہ یعنی برزخ کی طرح ہے، جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، ابو نعیم شیخ الامام البخاری وغیرہ سے اس کا جنی ہونا مروی ہے۔ محمد رسول برزنجی نے لکھا ہے: "
وعليه فإما أنه شيطان موثق في بعض الجزائر، أو هو من أولاد شق الكاهن المشهور، أو شق نفسة وكانت أمه جنية عشقت أباه فأولدها شقاً". (الإشاعة لأشراط الساعة، ۱۸۹، المقام الاول في اسمه ونسبه ومولده، دار النمير دمشق).

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں سے کہیں گے کہ دجال کا مقابلہ کرو، تو وہ کہیں گے: یہ شخص جن ہے اس کا مقابلہ مشکل ہے۔ "
ثم ينزل عيسى بن مريم فينادي من السحر فيقول: يا أيها الناس! ما يمنعكم أن تخرجوا إلى الكذاب الخبيث؟ فيقولون: هذا رجل جني

". الحديث. (مسند أحمد، رقم: ۱٤۹۵٤.. قال الشيخ شعيب: إسناده صحيح على شرط مسلم).

اگر ایسا ہے تو مودودی صاحب کا یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا کہ "لوگوں نے مختلف جزیروں کو دیکھا؛ لیکن دجال کا پتا نہیں "؛اس لیے کہ جب اس میں جنات کا خلط ہے، یا جنی ہے تو اس کا تمیم داری رضی الله عنه پر ظاہر ہونا خلاف عادت ہوگا اور مخفی رہنا اصل ہے، ہاں قربِ قیامت میں چونکہ عجائبات کا ظہور بہت ہوگا تو دجال کا خروج ہوگا، اور بھی بہت سارے عجیب واقعات ظاہر ہوں گے۔
اگر اس کو جنی مشابہ بہ انسان مان لیا جائے تو اس کی شکل و صورت میں اختلاف روایات کا مسئلہ بھی بہ آسانی حل ہو جائے گا۔ اس کے بارے میں ٤۰/ذراع اور قصیر دونوں روایات موجود ہیں، بعض روایات میں اعور عین یمنی ہے، اور بعض میں عین یسری کا اعور ہونا ہے۔ اس کے ساتھ شیاطین کا لشکر ہوگا، یہ سب قرائن بتلاتے ہیں کہ وہ اصلاً جنی ہوگا، کبھی ایک شکل میں اور کبھی دوسری میں ظاہر ہوگا، ہاں آنکھوں کے عیب کے ازالے پر قدرت نہیں رکھے گا، اور قربِ قیامت میں بالکل انسانوں کے بھیس میں ظاہر ہو کر خروج کرے گا، اور جن روایات میں دجال کا حضرت خضر علیہ السلام کو قتل کرنا، اور پھر دوبارہ قتل پر قدرت نہ ہونا مذکور ہے، اس سے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دجال بھی برزخی مخلوق ہے اور حضرت خضر کو ابتداء ً قتل کرے گا؛ لیکن آخر میں برزخ ملکی غالب آئے گا۔ دجال کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس کے گدھے یعنی سواری کا ایک قدم تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا، گویا کہ ایک سیکنڈ میں ۸۲ کیلو میٹر مسافت طے کرے گا۔
بحر الکاہل میں شیطانی جزائر اور بحر او قیانوس میں برمودا، دو ایسے مقامات ہیں جہاں متعدد بحری اور ہوائی جہاز لا پتا ہو چکے ہیں، برمودا میں زیادہ اور شیطانی جزائر میں کم، اور وہاں متعدد اُڑن طشتریاں بھی دیکھی گئیں۔ سائنس دانوں نے ان دونوں جگہوں کی شعاؤوں کو محفوظ کر لیا ہے، اور بقول ان کے اگر یہ شعائیں کسی کار میں ڈال دی جائیں تو اس کی رفتار لاکھوں گنا زیادہ ہو جائے گی، بہت ممکن ہے کہ ان میں سے ایک جگہ یعنی برمودا شیطان کا مرکز اور دار الامارۃ ہو اور اس پر شیطان نے اپنا شیطانی تخت بچھایا ہو، اور دوسری جگہ دجال کا جیل خانہ یا مستقر ہو۔ دجال کے حالات کی تفصیل کے لیے برادرم ابو لبابہ شاہ منصور کی کتاب "دجال" لائق مطالعہ ہے۔
فائدہ: دجال کو مسیح بھی کہا جاتا ہے؛
لأنه يمسح الأرض،
یا
ممسوح العين اليمني
، اور دجال کو دجال اس لیے کہا جاتا ہے کہ
دجل
کے معنی
كذب، يا خلط الحق بالباطل
کے ہیں۔ (
فتح الباري: ٦/ ٤۷۲، و ۱۳/۹۱، والنهاية في غريب الحديث والأثر (م س ح). ومرقاة المفاتيح: ۱۰/۱۸۷، و ۱۰/۱۸٤).

دجال کے معنی کا خلاصہ یہ ہے: باطل پر حق کی ملمع کاری اور پالش لگانا، اور حق کو چھپانا۔ دجال اپنے غلط سلط کاموں پر حق کی پالش لگا کر لوگوں کو گمراہ کرے گا، دجال کے آنے سے پہلے دجال کی جماعت کے لوگوں کا بھی یہی طریقہ ہے کہ باطل پر حق کی پالش لگا کر باطل کو رواج دیتے ہیں۔ رافضیوں سے دوستی پر ان کے مخالف بیانات کی پالش، خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کے باطل پر عرب کی دوستی اور حمایت کی پالش، مسلمانوں کو سودی قرضوں کے باطل پر امداد کی پالش، عرب کے وسائل پر قبضے کے باطل پر ان کے پاس نیوکلیئر اسلحہ اور قذافی کے مظالم کی پالش لگاتے ہیں۔ نسوانی پر دہ کو مٹانے پر حقوقِ نسوانی کی خلاف ورزی کا پلاستر، اپنے مظالم کو جاری رکھنے کے باطل پر مخالفین پر ٹیریرسٹ (دہشت گردی) کے لیبل لگانے کا پلاستر، مسلم آبادی کو کم کرنے کے باطل پر فیملی پلاننگ کا مزین پر دہ، گمراہی کی محفلوں کو سجانے کے باطل پر فنون لطیفہ کا حسین پر دہ، اسی طرح دجال اپنے معیوب جسم اور بعض خلاف عادت کاموں پر اپنی خدائی اور حقانیت کی پالش اور پلاستر لگائے گا۔
٦۔
دابة الأرض:
دابۃ الارض؛ جو جنات اور حیوانات میں برزخ کی طرح ہے، حیوانی شکل میں ظاہر ہو کر زمین سے نکلے گا۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ یہ اس وقت نکلے گا جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دیں گے، اور قیامت قریب ہو گی۔ اللہ تعالی سورۂ نمل میں فرماتے ہیں:
﴿وإذا وقع القول عليهم أخرجنا لهم دابة من الأرض تكلمهم أن الناس كانوا باىتنا لا يوقنون﴾ [النمل: ۸۲].

(اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔)
حدیث میں ہے کہ اس دابہ کے پاس خاتمِ سلیمان علیہ السلام اور عصائے موسی علیہ السلام ہوگا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "تخرج الدابة ومعها خاتم سليمان بن داود، وعصا موسى بن عمران". (الحديث). (سنن الترمذي، رقم: ۳۱۸۷، وسنن ابن ماجه، رقم: ٤۰٦٦، وفي إسناده: على بن زيد، وهو ضعيف، وشيخه أوس بن خالد مجهول).
اور سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے باہر ایک بالشت جگہ دکھائی کہ یہاں سے دابۃ الارض نکلے گا۔ (رقم:
٤۰٦۷
) اس کی سند میں خالد بن عبید متروک و متہم بالوضع راوی ہے۔
زمین سے دابہ کا نکلنا، بات کرنا، اور اس کے پاس خاتمِ سلیمان علیہ السلام کا ہونا، یہ اس کے جنی ہونے کی طرف مشیر ہے، پھر اس کی شکل میں مختلف روایات کا آنا بھی عجائب میں سے معلوم ہوتا ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص
رضي الله عنه
تو جساسہ دجال کو دابۃ الارض قرار دیتے ہیں۔ صحیح روایات میں دابۃ الارض کی زیادہ تفصیلات موجود نہیں۔ شیخ محمد احمد کنعان لکھتے ہیں: "
والصحيح أنه لا دليل يعتمد عليه بخصوص هذا الدابة غير ما جاء مجملاً في القرآن الكريم". (قرة العينين على تفسير الجلالين، ص ۵۰٤)
اس لیے یہ ممکن ہے کہ دابۃ الارض جنات کی حیوانی شکل ہو کہ اے بد قسمت انسانو! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کام کو تم نے چھوڑ دیا اور ماننے کو بھی چھوڑ دیا، اور اکثر لوگ گمراہیوں میں غرق ہو چکے ہیں اب تم یقین سے بہت دور جا چکے ہو۔
اور یہ عجیب الخلقت متکلم جانور کثیر الشعر ہوگا۔ لوگ اس کی شکل سے خوفزدہ ہوں گے، اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہ لوگوں پر اتمامِ حجت کا اعلان کرے گا، اور یہ قربِ قیامت کی علامت ہو گی۔ دین کی تبلیغ و دعوت کے لیے آج کل بے شمار وسائل: ریڈیو، انٹرنیٹ وغیرہ موجود ہیں۔ اتمامِ حجت کے لیے عجیب الخلقت جانور کو بھی ظاہر کیا جائے گا۔
إن كان هذا صواباً فمن الله، وإن كان خطأ فمني ومن الشيطان.

جساسہ کی وضاحت:
حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں جساسہ کو
"دابة أهلب"
یعنی بہت زیادہ بال والا کہا گیا ہے، اور یہ دجال کی "سی، آئی، ڈی" کی طرح ہے،
لأنه يتجسس الأخبار للدجال
، یعنی دجال کے لیے خبریں فراہم کرنا، بعض لوگوں نے اس کو قربِ قیامت میں ظاہر ہونے والا
"دابة الأرض"
کہا ہے اور صاحب بذل المجہود نے اس کو شیطان کی اقسام میں سے ایک قسم شمار کیا ہے۔ (بذل المجہود:
۱۲
/
۳۷۷
، ط: دار البشائر الاسلامیۃ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.