مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہے:

5 min readFatwa Vol 2 #487Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا دنیا میں ممکن ہے یا نہیں؟ قادیانی اس کو ناممکن بتلاتے ہیں، اس مسئلہ میں ان کے استدلال کی کیا حقیقت ہے؟ اور صحیح مذہب کیا ہے؟

Answer

حضرت مولانا حبیب احمد کیرانوی صاحب نے حل القرآن میں اچھی تحقیق فرمائی ہے چنانچہ آیتِ کریمہ
﴿ثم بعثناكم من بعد موتكم لعلكم تشكرون﴾ سورة البقرة: الآية:
کے تحت فرماتے ہیں ملاحظہ ہو :
اس مقام پر سمجھنا چاہیے کہ موت و حیات دونوں کی دو، دو قسمیں ہیں: ایک اصلی دوسری عارضی، موتِ اصلی وہ ہے جس سے مقصود تکالیفِ شرعیہ کا ختم کرنا ہو، اور موتِ عارضی وہ ہے جس سے تکالیفِ شرعیہ کے ختم کرنے کے علاوہ کوئی اور مطلوب ہو، جیسے تنبیہ یا اظہارِ قدرت وغیرہ، اسی طرح حیاتِ اصلی وہ ہے جس سے مقصود تکالیفِ شرعیہ ہوں، اور حیاتِ عارضی وہ ہے جس سے علاوہ تکالیفِ شرعیہ کے امر آخر مطلوب ہے، جب یہ معلوم ہو گیا تو اب سمجھو کہ موتِ اصلی کے بعد حیاتِ اصلی نہیں ہو سکتی، ہاں حیاتِ عارضی ممکن ہے ۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں سے مردے زندہ ہوتے تھے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت مطلوب تھا، اور عمل کے لیے ان کو دنیا میں دوبارہ بھیجنا منظور نہ تھا، اسی لیے وہ پھر فوراً مر جاتے تھے اور موتِ عارضی کے بعد حیاتِ اصلی بھی ممکن ہے جیسا کہ آیاتِ زیر بحث میں اور دوسری آیات میں مذکور ہے، پس اس تقریر پر تمام آیتیں منطبق ہو گئی، اور کسی آیت میں اس تحریف کی ضرورت نہ رہی جو قادیانی لوگ اپنی اباطیل کی ترویج کے لیے کرتے ہیں، اور معلوم ہو گیا کہ
﴿وحرام على قرية أهلكناها أنهم لا يرجعون﴾
کے معنی یہ نہیں ہے کہ جس کو ہم مارچ کے ہیں، اسے ہم کبھی زندہ نہ کریں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی میعاد دنیا میں ختم ہو چکی ہے وہ دنیا میں دوبارہ عمل کے لیے واپس نہ ہوں گے ۔ (حل القرآن: ۱/٤٤)
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: حل القرآن: ۱/۱۲۳ ۔ ۱۲٤)
نیز اس موضوع پر علامہ ابن ابی الدنیا نے مستقل رسالہ
"من عاش بعد الموت"
تحریر فرمایا ہے، جس میں مرنے کے بعد زندہ ہونے کے کچھ واقعات بھی نقل فرمائے ہیں ۔
ان میں چند ملاحظہ فرمائیں:
(
۱) أخرج بسنده عن ثابت البناني، عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: عدت شاباً من الأنصار فما كان بأسرع من أن مات، فأغمضناه ومددنا عليه الثوب فقال بعضنا لأمه: احتسبيه، قالت: وقد مات؟ قلنا: نعم، قالت: أحق ما تقولون؟ قلنا: نعم، فمدت يديها إلى السماء، وقالت: اللهم إني آمنت بك وهاجرت إلى رسولك فإذا أنزلت بي شدة شديدة دعوتك، ففرجتها، فاسئلك اللهم لا تحمل على هذه المصيبة اليوم قال: فكشف الثوب عن وجهه فما برحنا أكلنا وأكل معنا. (من عاش بعد الموت: ص ۲)
(۲) وقصة زيد بن خارجة رضي الله عنه: وهي أنه توفي بين الظهر والعصر ثم تكلم بعد المغرب، وقال: كلمات في شأن النبي ﷺ وأبي بكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه وعثمان رضي الله عنه وأوصي الناس بالخير. (من عاش بعد الموت: ص: ٤)
(۳) عن ربعي بن حراش رضي الله عنه قال: كنا إخوة ثلاثة وكان أعبدنا وأصومنا وأفضلنا الأوسط منا، فغبت غيبة إلى السواد، ثم قدمت على أهلي، فقالوا: أدرك أخاك فإنه في الموت، فخرجت أسعي إليه فانتهيت وقد قضي وسجي بثوب، فقعدت عند رأسه أبكيه قال: فرفع يده، فكشف الثوب عن وجهه، وقال: السلام على كم، قلت: أي أخي أ حياة بعد الموت؟ قال: نعم، إلى لقيت ربي عز وجل فلقيني بروح وريحان ورب غير غضبان

فعجلوا جهازي، ثم طفئ فكان أسرع من حصاة لو القيت في الماء

فبلغ ذلك عائشة رضي الله تعالى عنها، فصدقته، وقالت: كنا نسمع أن رجلاً من هذه الأمة سيتكلم بعد موته. (من عاش بعد الموت: ص: ۹)

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
رسالة "من عاش بعد الموت" لابن أبي الدنيا، ص ۲. ٥٦، موقع جامع الحديث)
۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.