ڈیجیٹل تصویروں کے متعلق فتاوی دار العلوم زکریا کے ایک فتوے پر بعض علماء کے اشکالات کے جوابات:
Question
ڈیجیٹل تصویروں کے متعلق فتاوی دار العلوم زکریا کے ایک فتوے پر بعض علماء کے اشکالات کے جوابات:
Answer
شناختی کارڈ، آئی ڈی، پاسپورٹ، ملازمت اور تعلیمی کاغذات کے لیے تصویر لینے اور بنوانے کی گنجائش پر دورِ حاضر کے سب علماء اور مفتی حضرات متفق ہیں، پھر پاسپورٹ کے ساتھ جس نوع کا بھی سفر کیا جائے، فرض حج کا سفر ہو یا نفلی حج اور عمرہ کا سفر ہو یا ملاقاتی یا سیاحتی سفر ہو ہر قسم کا سفر اس میں شامل ہے پھر اگر مباح یا سیاحتی یا مستحب سفر کے لیے پاسپورٹ وغیرہ بنوایا جائے تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مندوب اور مباح کام کے لیے حرام یا ناجائز کو کیسے برداشت کیا گیا، اس لیے جو حضرات اس کو حقیقی تصویر مانتے ہیں ان کے نزدیک ایک مستحب کام کے لیے حرام یا ناجائز عمل سے گزرنا ہو گا جو شرعاً درست نہیں۔ ہاں اس کا حل بعض مفتی حضرات نے یہ نکالا ہے کہ حقیقی تصویر تشبیہ المصنوع بالمخلوق ہے جس کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں تصویر کے لیے صراحت کے ساتھ تشبیہ کے الفاظ وارد ہیں، اور مروجہ تصویر حبس ظل المخلوق ہے اس لیے یہ تصویر حقیقی تصویر نہیں مشابہ بالتصویر ہے تو اگر اس میں ضررِ شرعی نہ ہو اور دینی فائدہ ہو اور ضرورت اور حاجت ہو اور عیاشی یا لذتِ نظر کے لیے نہ ہو اور بد نظری کا پہلو نہ ہو تو موجودہ زمانہ میں بعض مفتی حضرات کے نزدیک اس کی گنجائش ہے۔
یاد رہے کہ حقیقی تصویر نہ ہونے کا مطلب اس تصویر کی کھلی چھٹی دینا نہیں ، لہذا اس میں ضررِ شرعی کو دیکھنا چاہیے اگر ضررِ شرعی ہو تو یہ مشابہ بالتصویر بالکل ممنوع ہونی چاہیے، جیسا عام طور پر لوگ فضول تصاویر کھینچتے ہیں یا مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماع کی تصویریں لیتے ہیں یا کسی عام جلسہ یا تقریب کی تصویریں کھینچی جاتی ہیں، اور اگر اس میں دینی فائدہ ہے تو پھر بعض علماء کے نزدیک یہ عمل جائز ہو گا، مثلاً: نفلی حج و عمرہ کا سفر یا بیرونِ ملک ملاقاتی سفر کے لیے تصویر لینے کی گنجائش ہو گی، تو بعض علماء کے اس قول کو نقل کرنے سے میرا مقصد اس کے مضر ہونے کی نفی نہیں ہے بلکہ میرا مقصد احادیث میں وارد شدہ وعیدوں سے بچنے کی راہ تلاش کرنا ہے، مثلاً:
أشد الناس عذاباً يوم القيمة المصورون، يقال لهم أحيوا ما خلقتم" (مسند أحمد، رقم: ٤۷۹۲، قال الشيخ شعيب: صحيح وهذا اسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله بن عاصم بن عمر)
سب سے شدید ترین عذاب والے مصورین ہیں ان سے کہا جائے گا جو تم نے بنایا اس کو زندہ کرو،
أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله، (صحيح البخاري، رقم: ۵۹۵٤، باب ما وطئ من التصاوير، وصحيح مسلم، رقم: ۲۱۰۷)، من صور صورة في الدنيا كلف يوم القيامة أن ينفخ فيها الروح، (صحيح البخاري، رقم: ۵۹٦۳، باب من صور صورة، وصحيح مسلم، رقم: ۲۱۱۰)
اِن وعیدوں سے بچانے کی ایک تدبیر تھی، ورنہ اگر فرشتے سوال کریں کہ ایک مباح اور مندوب سفر کے لیے آپ نے اتنی بڑی وعید کو اپنے سر پر کیوں لیا تو اس کا یہ جواب تو آسان ہے کہ یہ تصویر شرعی نہیں ، یعنی میں نے مصنوع کو خدا کی مخلوق کے مشابہ نہیں بنایا، بلکہ اللہ تعالی کی مخلوق کے سایہ کو میں نے بٹن دبا کر محفوظ کیا ہے، اور اس میں دینی فائدہ ہے کوئی ضرر نہیں یا حق سفر استعمال کرنے کا ایک راستہ ہے، ہاں اگر بے فائدہ کسی مجلس کی تصویر بنا لی جائے، اگر چہ اس کا نام یادگار رکھ لیں تو بھی یہ درست نہیں۔
جن دینی پروگرام میں علمائے کرام جدید کیمرہ کے ساتھ تصویر کی اجازت دیتے ہیں ان میں نفلی حج و عمرہ کے علاوہ حکومتی دستاویزات و سندات، چوروں کی شناخت کے لیے کیمرہ نصب کرنا شامل ہے، نیز بعض ممالک میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ان کی تصویر شائع کرنے سے ظالموں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اور مظلومین کی مدد کے لیے راہ ہموار ہو جاتی ہے، ان کی تصاویر سے دنیا کی مسلم اور غیر مسلم اقوام ان کی امداد کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں، اور مظلومین کو پناہ مل جاتی ہے، اور ہم نے فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ ہفتم میں بعض مفتیانِ کرام کے اقوال کی روشنی میں دینی پروگراموں کے لیے گنجائش لکھی ہے اس سے مراد اس قسم کا دینی پروگرام ہے عام دینی جلسے جلوس نہیں جن کی تصویر سازی میں فائدہ نہیں اور مضرت ہے ہماری سابقہ تحریر کو اِس تحریر کی روشنی میں پڑھنا چاہیے۔
یہ بھی سنا ہے کہ بعض ممالک جیسے پاکستان، ہندوستان وغیرہ کا کوئی آدمی اگر امریکہ اور کینیڈا میں رہائش پذیر ہو اور اس کی شادی اپنے ملک پاکستان، ہندوستان میں ہو جائے تو جب تک مجلس نکاح کی ویڈیو تصویر نہ ہو اس وقت تک یہ ممالک لڑکی کو ویزا نہیں دیتے، اسی طرح بعض امدادی تنظیموں کو لوگ چندہ دیتے ہیں پھر وہ تنظیمیں غذائی اجناس اور دوسری چیزیں مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم کرتی ہیں، اور ان کی تصویریں اتاری جاتی ہیں تاکہ چندہ دہندگان مطمئن ہو جائیں کہ ہمارا چندہ صحیح جگہ پر خرچ ہو رہا ہے۔ اسی طرح بعض افریقی ممالک کے اربابِ حکومت یہ شکایت کرتے ہیں کہ مالدار مسلمان ایشیا میں اپنے ممالک میں صدقات خرچ کرتے ہیں اور اپنی سکونت کی جگہ افریقہ میں خرچ نہیں کرتے تو افریقیوں میں صدقات تقسیم کرنے کی تصویروں سے وہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یہاں بھی کام ہو رہا ہے، تو بعض دیوبندی علماء جو ڈیجیٹل تصویروں کی اجازت یا گنجائش کے قائل ہیں وہ ایسی جگہوں پر قائل ہیں، شوقیہ تصویروں، یادگار تصویروں یا ہر دینی جلسہ جلوس کی تصویروں یا مخلوط مجالس کی تصویروں یا صرف واہ واہ کرنے کے لیے کسی اجتماع کی تصویروں کے قائل نہیں۔
آمدم بر سر مطلب؛ پاکستان صوبہ پختونخواہ کے ایک عالمِ دین نے تصویر کی حرمت پر مختلف علماء اور مفتیوں کے دستخطوں سے مزین کر کے ایک رسالہ شائع کیا اس میں ہمارے فتاوی دار العلوم زکریا کی بعض عبارتوں کو بھی نشانہ تنقید بنایا ہے یہ رسالہ بقرہ عید کی چھٹیوں میں بندہ عاجز کو اس وقت مرتب صاحب نے بھیجا کہ میں جنوبی افریقہ کے سفر کے لیے پابہ رکاب تھا، یہ تنقیدی مضمون مجھے ہمارے دوست اور رشتہ دار مولانا محبوب سلطان دامت برکاتہم کی وساطت سے ملا، تنقیدی مضمون میں نے اپنے پاس رکھا اور یہ سوچا کہ اگر اس میں قابل قبول باتیں ہوں تو میں قبول کر لوں گا اور اگر قابل جواب مضمون ہو تو اس کا مختصر جواب لکھ دوں گا، یہ مضمون کافی دنوں تک رکھا رہا اور میں سوچتا رہا کہ بعض باتوں کا جواب لکھوں یا نہ لکھوں۔ کبھی ذہن میں آتا نہ لکھنا بہتر ہے اس لیے کہ حالی نے بہت پہلے یہ شعر کہا ہے؛
پھر ذہن میں بات آئی کہ مولانا صاحب کے اس مضمون سے میرے بارے میں بعض غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں کہ میں ہر قسم کی تصویر کو درست سمجھتا ہوں حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا نیز جوابی مضمون میں بعض مفید باتیں بھی ناظرین کے سامنے آ جائیں گی اس لیے مختصر جواب لکھنے کا ارادہ کر لیا۔ جواب سے پہلے یہ بات عرض کروں کہ مولانا صاحب کے نزدیک جب امر مندوب اور مباح کے لیے حرام کا ارتکاب جائز ہے جیسے اپنا حق وصول کرنے کے لیے جس کا وصول کرنا لازم نہیں رشوت دینا جائز ہے تو اگر کسی مولانا صاحب کو کوئی کمیٹی والے تقریر کے لیے بلائے اور یہ بھی کہہ دے کہ اس میں فوٹو گرافی ہو گی تو بقول مرتب کے مولانا صاحب کو جانے سے انکار نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ جلسہ امر مندوب ہے یعنی
ما يكون فعله أولي من تركه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۷۵، فصل من آداب الوضوء، قديمي، وفتاوى الشامي: ۱/۱۰۲، سعيد،
ذکر اجتماعی جہری شریعت کے آئینہ میں، ص
۲٦۳
، ط: زمزم
)،
تو اس کے لیے بقول مولانا صاحب کے ناجائز کا ارتکاب جائز ہونا چاہیے حالانکہ مولانا صاحب اس کے قائل نہیں اور فقہاء کی عبارات صرف دلائلِ الزامیہ نہیں بلکہ دلائلِ واقعیہ بھی ہیں اس لیے امر مسنون یا مندوب کے لیے حرام کا ارتکاب کہاں جائز ہو سکتا ہے؟
اب ہم اصل مدعی کی طرف آتے ہیں جو قانون یا ضابطہ ہم نے بیان کیا کہ مندوب اور مسنون کے لیے حرام کا ارتکاب جائز نہیں اس قانون کو متعدد فقہاء نے ذکر کیا ہے۔ خزانۃ الروایات مخطوطہ میں مرقوم ہے:
في الذخيرة: أن المسلم يختتن ما لم يبلغ فإذا بلغ لم يختن لأن ستر عورة البالغ فرض والختان سنة فلا يترك الفرض للسنة والكافر إذا أسلم يختن بالاتفاق لمخالفته دين الإسلام وهو بالغ. (خزانة الروايات، ص ۳٦۱، مخوطة)،
خزانۃ الروایات کے مخطوطہ کی فوٹو کاپی ہمارے دار العلوم زکریا جنوبی افریقہ کے کتب خانہ میں موجود ہے اور یہ عبارت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ تعالی نے مجموعۃ الفتاوی میں بھی نقل فرمائی ہے اردو ترجمہ والے مجموعۃ الفتاوی میں عبارت یوں ہے؛ سوال: بالغ جس کا ختنہ نہ ہوا ہو یا کافر جو مسلمان ہوا ہو ان کا ختنہ ضروری ہے یا نہیں ؟ جوا ب: ختنہ فرض نہیں ہے بلکہ زیادہ صحیح قول کے مطابق سنتِ مؤکدہ ہے لہذا جوان کے ختنہ کی ضرورت نہیں ہے ہاں اگر بالغ خود ختنہ کرائے یا جاریہ ختانہ مول لے یا زن ختانہ کے ساتھ نکاح کرے اور اپنا ختنہ کرائے تو مباح ہے اور جو کافر مسلمان ہوا ہو اس کا ختنہ کروانا چاہیے۔ (خزانۃ الروایات، ص
۳٦۱
)۔ از (معلم الفقہ اردو ترجمہ مجموعۃ الفتاوی:
۲
/
۸۵
، ط: آرام باغ کراچی)، خزانۃ الروایات کی اس عبارت میں صراحت کے ساتھ یہ قانون مذکور ہے کہ سنت کو ادا کرنے کے لیے ترکِ فرض یعنی ارتکابِ حرام نہیں کیا جائے گا اور یہ ضابطہ دوسرے مذاہب کی کتابوں میں بھی مذکور ہے جس کو ہم بعد میں ذکر کریں گے ان شاء اللہ تعالی۔
۲۔ صلح خصومت اور صریح فیصلے کے مقابلہ میں بہتر اور مندوب ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿والصلح خير﴾
امام بخاری رحمه الله نے باب باندھا ہے
باب فضل الإصلاح بين الناس. (۱/۳۷۳)
اور دوسرا باب باندھا ہے
باب إذا أشار الإمام بالصلح فأبي حكم عليه بالحكم البين. (
۱/۳۷۳)۔
اور علامہ عینی نے بخاری کی کتاب الصلح کی ابتدا میں لکھا ہے:
ذكر هذه الآية في بيان فضل الإصلاح بين الناس وأن الصلح أمر مندوب إليه. (۹/۵۷۲)،
قرآنِ کریم میں صلح کو خیر کہا گیا ہے اور تفسیر سمرقندی میں لکھا ہے:
والصلح خير من الخصومة، [النساء: ۱۲۸]،
یعنی صلح مقدمہ بازی سے بہتر ہے، لیکن فقہاء نے صلح کے لیے جھوٹ بولنے کو منع کیا بلکہ کنایات و اشارات استعمال کرنے کو کہا ہے تاکہ مندوب کام کے لیے حرام کا ارتکاب نہ ہو۔ سکب الانہر (
٤
/
۲۲۱
)، و الدر المختار مع رد المحتار (
٦
/
٤۲۷
، ط سعید) پر مذکور ہے:
والكذب حرام إلا في الحرب للخدعة وفي الصلح بين اثنين في إرضاء الأهل وفي دفع الظالم عن الظلم والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام،
اس عبارت میں صریح جھوٹ سے اور حرام کے ارتکاب کو کسی اچھے کام جیسے صلح کے لیے منع کیا گیا ہے اور جہاں صریح جھوٹ کی اجازت بعض حضرات دیتے ہیں وہ یا مرجوح ہے یا کسی مظلوم کو قتل سے بچانے کے لیے ہو گی۔
۳۔ امام بخاری رحمه الله نے ان روایات کو ذکر کیا ہے جن میں کپڑوں اور بالوں کو سمیٹ کر نماز پڑھنے کی ممانعت ہے مگر اسی کے ساتھ اگر کسی کا کپڑا چھوٹا ہے تو اس کو سمیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے کیوں کہ کشفِ عورت حرام ہے تو سنت یا مندوب کی تکمیل کے لیے حرام کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا اس لیے امام بخاری رحمه الله نے
باب عقد الثياب
باندھا ہے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمه الله نے تراجم الابواب کی شرح میں لکھا ہے:
والغرض من عقد هذا الباب ههنا أن ما سيأتي من النهي عن كف الثياب محمول على الأمن من الكشف أما إذا خاف كشف العورة فلا بد من عقدها، لأن الفرض أهم من المستحبات. (الأبواب والتراجم لصحيح البخاري، ص ۹۵، ط: سعيد).
اور علامہ عینی رحمه الله نے لکھا ہے:
أن في ضم الثوب أمناً من كشف العورة. (عمدة القاري: ٤/۵٦۱، ط: دار الحديث، ملتان)،
اِس عبارت میں علامہ عینی رحمه الله اور شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمه الله نے صاف طور پر اس قانون کو ذکر فرمایا ہے کہ ستر عورت فرض ہے تو کشفِ عورت حرام ہے اس لیے مستحب کی تکمیل کے لیے حرام کام نہیں کیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً
إسناده صحيح. (سنن الترمذي، رقم ۱۳۵۲، باب ما ذكر عن رسول الله ﷺ في الصلح بين المسلمين)،
اس حدیث کو فقہاء نے اپنی کتابوں میں مختلف جگہوں پر ذکر کیا ہے اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر صلح جائز ہے سوائے اس صلح کہ جس سے حرام حلال ہو جائے یا اس کے بالعکس یعنی صلح کے لیے حرام کو حلال نہ بنایا جائے یا بہ الفاظِ دیگر حرام کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
اشکالات اور جوابات: آمدم بر سر مطلب: تصویروں کے بارے میں فتاوی مرتب کرنے والے مولانا صاحب نے فتاوی دار العلوم زکریا کی تحریر پر ایک اشکال یہ فرمایا ہے کہ بالغ کے ختنہ کے لیے کشفِ عورت سنت کے لیے حرام کا ارتکاب ہے، بالفاظِ دیگر یہ اصول صحیح نہیں ہے کہ مندوب اور سنت کے لیے حرام کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ بالغ کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ نو مسلم بالغ؛ اس کا ختنہ بہرحال ضروری ہے، الا یہ کہ وہ متحمل نہ ہو تو پھر چھوڑ دیا جائے گا، چونکہ وہ کفر چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوا تو اس کے لیے کفر کی علامات کو چھوڑ کر کفر کے خول سے مکمل نکلنا ضروری ہے، اس پر کفر کی کوئی علامت نہیں ہونی چاہیے اس لیے ختنہ اس کے لیے مؤکد ہے، اس کے ختنہ کرنے پر فقہاء کا اتفاق ہے، اس لیے یہ نو مسلم کفر کی علامات سے مکمل بے زاری کا مظاہرہ کرے، لہذا اس کے لیے ختنہ ضروری ہے یعنی یہاں سنت کے ساتھ شعائر اسلام اور علاماتِ کفر کا ازالہ مل گیا اس لیے ختنہ ضروری ہوا اور کشفِ عورت جائز ہوا جیسے اگر کوئی بستی والے اذان کو ترک کریں تو ان سے قتال کیا جائے گا اس لیے کہ اذان سنتِ مؤکدہ ہونے کے ساتھ شعائر اسلام میں شامل ہے تو اس کے چھوڑنے پر قتال ہے۔ نو مسلم کو:
﴿يا أيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة﴾ [البقرة: ۲۰۸]،
کا حکم ہے۔ ایسا نہ کرے جیسے بعض نو مسلموں نے کہا تھا کہ ہم شریعتِ موسویہ پر عمل کر کے اونٹ کا گوشت ترک کریں گے اور ہفتے کے دن کی تعظیم بھی کریں گے اور اسلام کے احکام پر بھی عمل کریں گے تو ان کے بارے میں یہ آیت:
﴿يا أيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة﴾ [البقرة: ۲۰۸]،
نازل ہوئی۔ یہ فتاوی رحیمیہ کے ایک فتوی کا خلاصہ ہے۔ ہاں اگر غیر مسلم میں ختنہ کے برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو تو ختنہ چھوڑ دیا جائے گا،
الشيخ الضعيف إذا أسلم ولا يطيق الختان إن قال أهل البصر لا يطيق يترك لأن ترك الواجب بالعذر جائز فترك السنة أولي كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۷).
خلاصہ یہ ہے کہ نو مسلم اگر تحمل کر سکتا ہو تو اس کا ختنہ ضروری ہے اور اگر پیدائشی مسلمان کا ختنہ نابالغ ہونے کے زمانہ میں نہیں ہوا اب بالغ ہونے کے بعد اس کا ختنہ ہو گا یا نہیں ہوگا؟ اس میں دو قول ہیں: ۱۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا ختنہ نہیں ہوگا۔ ہاں خود اپنا ختنہ کر سکتا ہو یا اس کی بیوی کر سکتی ہو تو ختنہ ہوگا ورنہ نہیں ہوگا، اس قول کو صاحب ذخیرہ صاحب خزانۃ الروایات اور مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله وغیرہ نے اختیار کیا ہے؛ اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ سنت کے لیے کشفِ عورت اور حرام کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا اور یہی قول مالکیہ نے اختیار کیا۔
حاشیۃ العدوی علی شرح کفایت الطالب الربانی میں مذکور ہے؛
والنظر لعورة الكبير المراهق أو البالغ حرام لقول اللخمي المناهز ككبير ولا يرتكب محرماً لفعل سنة ويظهر أنه يؤمر بختن نفسه لأن المكلف مأمور بفعل ما تم له إسلامه. (۱/۵۹٦، دار الفكر)،
اور اسہل المدارک شرح ارشاد السالک فی مذہب امام الائمۃ مالک۔ (
۳
/
۳٦٤
، دار الفکر) میں مذکور ہے:
أما الكبير فإنه يومر باختتان نفسه إن أمكن كمن أسلم بعد البلوغ بحرمة نظر عورة البالغ،
اور
بلغة السالك لا قر ب المسالك
میں ہے
ولا يجوز للبالغ أن يكشف عورته لغيره لا جل الختان بل إن لم يمكنه الفعل بنفسه سقطت السنة. (حاشية الصاوي: ۲/۱۵۲، دار المعارف).
ہاں شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک چونکہ ختنہ لازم ہے تو اس کے لیے بالغ کا کشفِ عورت صحیح ہے، التہذیب فی فقہ الامام الشافعی میں ہے:
و يجوز كشف عورة المختون لا جل الختان ولولا وجوبه لما جاز ترك الواجب لا جله. (۱/۲۱۸)،
اور امام نووی رحمه الله
المجموع شرح المهذب
میں لکھتے ہیں:
فلوكان الختان سنة لما كشفت العورة المحرم كشفها له. (۱/۳۰۰، باب السواك، دار الفكر).
دوسرا قول یہ ہے کہ بالغ کا ختنہ ہوگا، ختنہ احناف کے نزدیک اصح قول میں سنتِ مؤکدہ ہے لیکن چونکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور شعائر اسلام واجبات کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں اس لیے ختنہ کیا جائے گا، در مختار مع الشامی میں ہے:
الأصل أن الختان سنة كما جاء في الخبر وهو من شعائر الإسلام، وخصائصه فلو اجتمع أهل بلدة على تركه حاربهم الإمام فلا يترك إلا لعذر وعذر شيخ لا يطيقه ظاهر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/۷۵۱، مسائل شتي، ط: سعيد).
امداد الاحکام میں ہے: ختنہ کے متعلق فقہاء نے تصریح کی ہے کہ بالغ کا ختنہ کرنا اور بقدرِ ضرورت بدن کا دیکھنا چھونا جائز ہے البتہ ضرورت سے زائد بے پر دگی جائز نہیں ، اس لیے ختان کے سوا کوئی نہ دیکھے اور باقی بدن کو ختان سے بھی چھپائے رہے اور ختنہ صرف سنت ہی نہیں بلکہ شعائر اسلام میں سے بھی ہے۔ (امداد الاحکام لمولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله:
٤
/
٤۲۸
، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)۔
احسن الفتاوی میں ہے: اگر چہ چار سال کے بچہ کا ستر دیکھنا بھی بلا ضرورت جائز نہیں مگر بضرورتِ تداوی ستر کھولنا جائز ہے اور ختنہ تو شعائر اسلام ہے اس کے لیے ستر کھولنا بطریق اولی جائز ہے، بالغ اور نو مسلم کا بھی یہی حکم ہے البتہ اگر خود ختنہ کر سکتا ہو یا زوجہ یا امہ سے کروا سکتا ہو تو غیر کے سامنے کشفِ عورت جائز نہیں ، اگر کسی وجہ سے مشقتِ ختنہ کا تحمل نہ ہو تو یہ حکم ساقط ہو جائے گا۔ (احسن الفتاوی:
۹
/
٦۱
، ط: سعید)۔
کفایت المفتی میں ہے:
بالغ غیر مختون کے بارے میں سوال کے جواب میں فرمایا: اگر ایسا شخص خود ختنہ نہیں کر سکتا اور آج کل باندیاں بھی نہیں ہیں جو ختنہ کر سکیں تو وہ اپنا ختنہ کرا سکتا ہے۔ (
۱۲
/
۳۵۱
، ط: جامعہ فاروقیہ)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے: ختنہ سنتِ مؤکدہ ہے اور شعائر اسلام میں سے ہے بلا عذرِ شدید بالغ سے بھی ساقط نہیں ہوتا۔ (
۱۹
/
٤٦٦
، جامعہ فاروقیہ)۔
مبسوط میں تارکین اذان سے قتال کے بارے میں لکھا ہے کہ جو شعائر اسلام میں سے ہو اس کا ترک دین کی بے عزتی ہے، اس کے ترک پر قتال کیا جائے گا، علامہ سرخسی رحمه الله لکھتے ہیں:
وقال محمد: ما كان من أعلام الدين فالإصرار على تركه استخفاف بالدين فيقاتلون على ذلك. (المبسوط للسرخسي: ۱/۱۳۳، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي).
شامی مع الدر المختار میں ہے:
والقتال عليه لما أنه من أعلام الدين. (فتاوى الشامي مع الدر: ۱/۳۸٤، سعيد).
در مختار (
۱
/
۳۸٤
) میں:
وهي كالواجب
لکھا ہے۔ نیز در مختار میں دوسری جگہ لکھا ہے:
ينظر الطبيب إلى موضع مرضها بقدر الضرورة إذ الضرورات تتقدر بقدرها، وكذا نظر قابلة وختان، (الدر المختار: ٦/۳۷۰، سعيد)
اس پر علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
لأن الختان سنة للرجال من جملة الفطرة لا يمكن تركها. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۱، سعيد).
خلاصہ یہ ہے کہ مستحب کے لیے حرام کا ارتکاب درست نہیں اس لیے بالغ یا مراہق کے ختنے کو بعض فقہاء کے ہاں چھوڑا جائے گا، اور بعض فقہاء کے نزدیک اس کا ختنہ کیا جائے گا، اس لیے کہ ختنہ سنتِ مؤکدہ ہونے کے ساتھ شعائر اسلام میں سے ہے اور یہ واجبات کے ساتھ ملحق ہے اس لیے اس کے لیے کشفِ عورت کو برداشت کیا گیا، شامی میں ترکِ اذان کے بارے میں لکھا ہے:
لو اجتمع أهل بلدة على تركه قاتلهم عليه ولو تركه واحد ضربته وحبسته وعامة المشايخ على الأول (أي كونه سنة) والقتال عليه لما أنه من أعلام الدين. (فتاوى الشامي: ۱/۳۸٤، سعيد).
دوسرا مسئلہ: جس سے ہماری تحریر پر تنقید کرنے والے مولانا صاحب نے مستحب کے لیے حرام کا ارتکاب کرنے پر استدلال کیا ہے وہ اپنے حق کو حاصل کرنے کے لیے رشوت کا دینا ہے مولانا فرماتے ہیں: رشوت حرام ہے اور اس سے بچنا فرض ہے لیکن اپنے حق کو جس کا حاصل کرنا نہ فرض ہے نہ واجب ہے رشوت دے سکتے ہیں:
إذا دفع الرشوة خوفاً على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع.
اپنا حق وصول کرنے کے لیے یا ظلم سے بچنے کے لیے رشوت دینے والے کے لیے یہ وعید نہیں۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
٤٦۳
، جامعہ فاروقیہ)۔
مولانا صاحب کا مطلب یہ ہے کہ حق حاصل کرنا بالکل لازم نہیں اور اس کے لیے رشوت دینے یعنی حرام کا ارتکاب جائز ہے تو مندوب و مسنون کے لیے ارتکابِ حرام بقول ان کے صحیح ہوگا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے حق کے وصول کے لیے کچھ دینا یہ بظاہر رشوت ہے لیکن حقیقت میں رشوت نہیں اس لیے کہ رشوت کی ایک تعریف جو عام طور پر مشہور ہے:
الرشوة ما يعطي لا بطال حق أو لا حقاق باطل. (التعريفات للجرجاني، ص ۱۱۱، ط: دار الكتب العلمية).
جو مال اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے دیا جائے اس کا دینا رشوت میں نہیں آتا یا حرام کے مد میں نہیں آتا، علامہ ابن عابدین شامی رحمه الله کے صاحبزادے علامہ علاء الدین شامی رحمه الله جو بڑے محقق عالم تھے اور المجلۃ العدلیۃ کے مرتبین اور مصنفین میں شامل ہیں اور شامی کا تکملہ انہوں نے مرتب کیا انہوں نے ایک مفید کتاب نوجوانوں کے لیے مرتب فرمائی ہے اس کا نام:
الهدية العلائية
ہے، اس میں مرحوم فرماتے ہیں:
دفع المال للحاكم الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله أو استخراج حق له لا يتوصل إليه إلا به ليس برشوة في حق الدافع. (
الہدیۃ العلائیۃ، ۲۱۹، ط: دار ابن حزم)۔
ظالم حاکم کو ظلم دفع کرنے کے لیے مال دینا جس حق تک بغیر مال کے آدمی نہیں پہنچ سکتا دینے والے کے لیے رشوت نہیں۔ الرسائل الزینیۃ فی المذہب الحنفیۃ میں مذکور ہے:
أما الرشوة في اصطلاح الفقهاء فقد عرفها الجرجاني بأنها ما يعطي لا بطال حق أو لا حقاق باطل، وقال النووي رحمه الله: الرشوة محرمة على القاضي وغيره من الولاة مطلقاً لأنها تدفع إليه ليحكم بحق أو ليمتنع من ظلم وكلاهما واجب عليه فلا يجوز أخذ العوض عليه. وأما دافع الرشوة فإن توصل بها إلى باطل فحرام عليه وهو المراد بالراشي وإن توصل بها إلى تحصيل حق ودفع ظلم فليس بحرام. (الرسائل الزينية في مذهب الحنفية، ص ٦۰۵، ط: دار السلام، وفقه المعاملات: ٤/۷۷، والفتاوى الاقتصادية: ۱/۸۸)
امام نووی رحمه الله کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ قاضی کے لیے رشوت لینا جائز نہیں کیوں کہ قاضی پر صحیح فیصلہ کرنا یا ظلم سے لوگوں کو بچانا لازم ہے اس پر عوض لینا ناجائز ہے اور رشوت دینے کا مقصد اگر ناجائز کام کا حصول ہو تو دینا حرام ہے اور اگر اپنے حق کا حصول یا دفع ظلم ہو تو دینا حرام نہیں۔ فتح القدیر کتاب الصلح و قرۃ عین الاخیار میں اس کی مزید تفصیل ہے، تطویل سے بچنے کے لیے ہم نے ان کتابوں اور دوسری کتابوں کی عبارات چھوڑ دی۔
مذکورہ بالا تفصیل اور عبارات سے معلوم ہوا کہ اپنے حق کے حصول کے لیے جو مال دیا جاتا ہے وہ رشوت میں داخل ہی نہیں اور اگر بظاہر داخل ہو تو حرام نہیں حرام سے مستثنی ہے، لہذا غیر واجب کے لیے حرام کا ارتکاب نہیں پایا گیا۔
تیسرا اشکال: جو مولانا صاحب نے کیا ہے کہ علاج سنت ہے اور ستر عورت فرض ہے لیکن فقہاء نے علاج کی خاطر کشفِ عورت کی اجازت دی ہے یہ سنت کے لیے حرام کا ارتکاب ہے، پھر فقیہ ابو اللیث اور فتاوی حقانیہ، فتاوی نوازل وغیرہ کے حوالے نقل کیے ہیں کہ اگر کھانا نہ کھانے کی وجہ سے کوئی مر جائے تو عاصی اور گنہگار ہوگا اور اگر علاج نہ کرنے کی وجہ سے کوئی مر گیا تو گنہگار نہیں ہوگا، اور آخر میں یہ نتیجہ نکالا کہ سنت کو ادا کرنے کے لیے حرام کام کیا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہر حالت میں علاج کو سنت کہنا اور لازم اور ضروری نہ کہنا محل نظر ہے فقہاء کرام بے شک تحریر فرماتے ہیں:
قال الفقيه أبو الليث: ولو مرض ولم يعالج حتى مات لم يأثم بخلاف الجائع إذا لم يأكل حتى مات بالجوع يأثم به. (فتاوى النوازل، ص ۲۰۰، كتاب الكراهية، ط: آرام باغ كراتشي).
لیکن فقہاء کا کلام اس پر محمول ہے کہ جب علاج کی کامیابی یقینی نہ ہو ہاں اگر علاج کا تیر بہدف ہونا اور موت سے بچنا یقینی ہو یا قریب بالقین ہو تو علاج بھی لازم ہے امام غزالی رحمه الله احیاء علوم الدین میں لکھتے ہیں:
أحدهما أن معالجة الجوع والعطش بالماء والخبز جلي واضح يدركه كافة الناس ومعالجة الصفراء بالسكنجبين يدركه بعض الخواص فمن أدرك ذلك بالتجربة التحق في حقه بالأول. (إحياء علوم الدين: ٤/۲۷۸)
یعنی بھوک اور پیاس کا علاج پانی اور روٹی سے ہونا واضح ہے سب لوگ اس کو جانتے
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.