فتوح الشام میں خولہ بنت ازور کے واقعہ کی تحقیق:
Question
فتوح الشام میں حضرت خولہ بنت ازور کے متعلق کیا قصہ مرقوم ہے؟ کیا وہ قصہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اور فتوح الشام کس کی کتاب ہے، اس کتاب کا اعتبار ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
فتوح الشام میں حضرت خولہ بنت ازور کا قصہ مفصل مذکور ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب خولہ بنت ازور کو معلوم ہوا کہ ان کے بھائی ضرار بن ازور
رضي الله عنه
کو رومیوں نے قید کر لیا تو اسلحہ پہن کران کی تلاش میں نکلی، اور تنہا رومیوں پر ایسا سخت حملہ کیا کہ وہ ششدر رہ گئے۔ ملاحظہ ہو: (فتوح الشام:
۱
/
٤۱
)۔
بظاہر یہ واقعہ صحیح معلوم نہیں ہوتا، اس لیے کہ تاریخ کی دیگر کتابوں میں یہ واقعہ جنگِ یرموک کے تحت مذکور نہیں ہے صرف فتوح الشام میں یہ قصہ مذکور ہے، ہاں البدایہ و النہایہ میں فقط اتنی بات ہے:
وقد قاتل نساء المسلمين في هذا اليوم وقتلوا خلقاً كثيراً من الروم. (البداية والنهاية: ۷/۹۷، دار ابن كثير).
مزید براں کتبِ تراجم و طبقات اور سیر و تاریخ وغیرہ میں خولہ کا کوئی تذکرہ مرقوم نہیں ، صرف فتوح الشام اور اعلام للزرکلی میں ہے۔ ملاحظہ ہو الاعلام میں ہے:
خولة بنت الأزور الأسدي شاعرة كانت من أشجع النساء في عصرها وتشبه بخالد بن الوليد في حملاتها وهي أخت ضرار بن الأزور لها أخبار كثيرة في فتوح الشام وفي شعرها جزالة وفخر توفيت في آخر عهد عثمان رضي الله عنه. (الإعلام: ۲/۳۲۵).
زرکلی نے "الاعلام" میں ان کا تذکرہ بحوالہ "
الدر المنثور في طبقات ربات الخدور" (ص ۱۸٤)
نقل کیا ہے، یہ کتاب زینب بنت علی فواز العاملی المتوفی ۱۳۳۲ ھ کی ہے، اور اس میں کوئی حوالہ مذکور نہیں ، بظاہر انہوں نے بھی فتوح الشام ہی سے لیا ہوگا۔ فتوح الشام کے بارے میں خود امام زرکلی لکھتے ہیں:
الواقدي [
۱۳۰
ـ
۲۰۷
هـ/
۷٤۷
ـ
۸۲۳
م]
وينسب إليه كتاب فتوح الشام، وأكثره مما لا يصح نسبته إليه. (الإعلام: ٦/۳۱۱).
وللاستزادة انظر: الواقدي وكتابه المغازي منهجه ومصادره للدكتور عبد العزيز بن سليمان السلومي، ص
۹۳
، والجرح والتعديل لابن أبي حاتم:
۸
/
۲۱
، وحاشية القليوبي:
۲
/
۹۹
، دار الفكر.
لیکن بعض حضرات نے فتوح الشام کو واقدی کی طرف منسوب کیا ہے اور اس سے حوالے بھی نقل کیے ہیں۔
ملاحظہ ہو: علامہ تاج الدین السبکی نے الاشباہ و النظائر میں (۲: ۱۳۱، دار الکتب العلمیۃ)، و محقق ابن ہمام رحمه الله نے فتح القدیر میں (۲/۱٤۵، دار الفکر)، و علامہ زیلعی رحمه الله نے نصب الرایہ میں (۲: ۳۱٤، موسسۃ الریان)، و ابن عساکر تاریخ دمشق میں (۲۷/۱٤۰، دار الفکر)۔ و علامہ شہاب الدین الحموی نے معجم الادباء میں (٦/۲۵۹۸، دار الغرب الاسلامی)۔
حضرت ضرار بن ازور
رضي الله عنه
صحابی ہیں، ان کا تذکرہ تراجمِ صحابہ پر لکھی گئی مختلف کتابوں میں مرقوم ہے؛ مثلاً
الإصابة (۵/۳٤۰) ومعرفة الصحابة (۳/٦۱، العلمية) والاستيعاب في معرفة الأصحاب (۲/۷٤٦، دار الجيل) ومعجم الصحابة للبغوي (۳/۳۹۵) وأسد الغابة، (۳/۵۲، العلمية)،
ان میں سے کسی میں بھی خولہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی حضرت ضرار کی کسی خولہ نامی بہن کا کوئی تذکرہ ہے۔
فتوح الشام، محمد بن عمر واقدی کی طرف منسوب ہے۔ علماء نے ان پر بہت کچھ کلام فرمایا ہے؛ محدثین کے چند اقوال ملاحظہ کیجیے:
قال الإمام الحافظ شمس الدين الذهبي في سير أعلام النبلاء: محمد بن عمر بن واقد الأسلمي مولاهم الواقدي المديني القاضي، صاحب التصانيف والمغازي، العلامة الإمام أبوعبد الله، أحد أوعية العلم على ضعفه المتفق عليه
وذكره البخاري، فقال: سكتوا عنه، تركه أحمد وابن نمير، وقال مسلم وغيره: متروك الحديث. وقال النسائي ليس بثقة. قال محمد بن سلام الجمحي: الواقدي عالم دهره. وقال يونس بن عبد الأعلى قال لي الشافعي: كتب الواقدي كذب. وقال البخاري: ما عندي للواقدي حرف، وما عرفت من حديثه، فلا أقنع به. وقال أبو زرعة: ترك الناس حديث الواقدي.
(قال الذهبي) وقد تقرر أن الواقدي ضعيف، يحتاج إليه في الغزوات، والتاريخ، ونورد آثاره من غير احتجاج، أما في الفرائض فلا ينبغي أن يذكر، فهذه الكتب الستة، ومسند أحمد، وعامة من جمع في الأحكام، نراهم يترخصون في إخراج أحاديث أناس ضعفاء، بل ومتروكين، ومع هذا لا يخرجون لمحمد بن عمر شيئاً، مع أن وزنه عندي أنه مع ضعفه يكتب حديثه، ويروي، لا ني لا أتهمه بالوضع، وقول من أهدره فيه مجازفة من بعض الوجوه، كما أنه لا عبرة بتوثيق من وثقه
إذ قد انعقد الإجماع اليوم على أنه ليس بحجة، وأن حديثه في عداد الواهي. (سير أعلام النبلاء: ۹/٤۵٤. ٤٦۹، ط: مؤسسة الرسالة). وقال في مقدمة الموضوعات الكبري: وكتب الواقدي كذب. (ص ٦).
وينظر للمزيد: تهذيب التهذيب (۹/۳۱٦، العلمية). وميزان الاعتدال (۵/۱۰۸/۷۹۹۳). وهدية العارفين (۲/۱۰).
واقدی کے بارے میں مختلف اقوال کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی رحمه الله سیرۃ المصطفی میں لکھتے ہیں: خلاصہ کلام یہ کہ واقدی کے بارے میں قولِ محقق، راجح اور اقرب الی الصواب یہ ہے کہ واقدی ضعیف ہے دروغ گو اور افسانہ ساز نہیں۔ واقدی کی روایت کا وہی حکم ہے جو ضعیف راوی کی روایت کا حکم ہے یعنی جب تک کوئی حدیث صحیح اس ضعیف حدیث کے معارض نہ ہو اس وقت تک ضعیف حدیث کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ خصوصاً جب کہ وہ ضعیف حدیث متعدد طریق اور مختلف اسانید سے مروی ہو۔ (سیرۃ المصطفی:
۱
/
۱۰۲
، ط: مکتبہ عثمانیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.