گاڑی کے تصادم سے مرنے پر حرمانِ ارث کا حکم:
Question
زید کی گاڑی کا تصادم عمر کی گاڑی سے ہوا جس سے عمر کا انتقال ہو گیا، اتفاقاً عمر زید کا مورث ہے تو کیا زید عمر کا وارث ہوگا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ گاڑی کے تصادم سے موت قتل خطا کے حکم میں ہے، اس میں ڈرائیور پر کفارہ اور عاقلہ پر دیت واجب ہوتی ہے، بنا بریں زید عمر کی میراث سے محروم ہوگا۔
ملاحظہ ہو شریفیہ شرح سراجیہ میں ہے:
وأما القتل الذي يتعلق به وجوب الكفارة فهو إما شبه عمد
وإما خطأ كأن رمي إلى صيد فأصاب إنساناً وانقلب في النوم عليه فقتله أو وطئته دابته وهو راكبها أو سقط من سطح عليه أو سقط حجر من يده فمات، وموجبه الكفارة والدية على العاقلة ولا إثم فيه فعندنا يحرم القاتل عن الميراث في هذه الصور كلها؛
لأن المخطئ مباشر للقتل بفعله فيلزمه الكفارة والحرمان. (الشريفية شرح السراجية، ص ٤۸، ط: الرياض).
(وكذا في الدر المختار: ٦/۷٦٦، سعيد، والاختيار لتعليل المختار: ۵/۱۱۵).
الجنایات فی الفقہ الاسلامی میں مذکور ہے:
يشترط أن يقع من الجاني أو بسبب منه، فعل على المجني عليه، سواء أكان الجاني أراد الفعل وقصده، كما لو أراد أن يرمي صيداً، فأصاب إنساناً، أو وقع الفعل نتيجة إهماله وعدم احتياطه، دون أن يقصِده، كمن ألقي ماء ساخناً من مكان عالٍ، ولم يري المجني عليه، فوقع عليه فمات. والعقوبة الأصلية الأولي: الدية
واتفق الفقهاء على أن دية القتل الخطأ على العاقلة، مؤجلة في ثلاث سنين
(الجنايات في الفقه الإسلامي، ص ۲۰۳).
والعاقلة أهل الديوان ان كان القاتل من أهل الديوان
واهل الديوان أهل الرايات
لأن العقل كان على أهل النصرة وقد كانت بأنواع بالقرابة والحلف والولاء والعد
ولهذا قالوا لوكان اليوم قوم تناصرهم بالحرف فعاقلتهم أهل الحرفة. (الهداية: ٤/٦٤۵، شركة علمية).
قال الإمام أبو حنيفة رحمه الله: إن العاقلة هم الذين يتناصربهم القاتل
ولنا قضية عمر رضي الله عنه
فالحاصل أن قضاء عمر رضي الله عنه بمحضر من الصحابة دل على أن الحكم كان مناطه النصرة فيتغير بتغيره ويمكن أن يقال في عصرنا: أن التناصر أصبح للعمال بوفاقهم الذي يسمي "تريد يونين"
فينبغي أن تكون عاقلة عامل وفاقه
(تكملة فتح الملهم: ۲/۳۷۹، كراچي).
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: بس اور گاڑیوں کے مصادمہ سے کوئی شخص مارا جائے تو یہ قتل خطأ شمار ہوگا یا قتل کی کوئی اور قسم ہو گی؟ ڈرائیور پر کفارہ اور اس کے عاقلہ پر دیت واجب ہو گی یا اس کا حکم کچھ اور ہوگا؟
الجواب: یہ قتل خطأ ہے، ڈرائیور پر کفارہ اور عاقلہ پر دیت واجب ہو گی۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۵٤۷
، و فتاوی محمودیہ:
۱٤
/
۱۵۲
، جامعہ فاروقیہ)۔
ما قبل میں اس مسئلہ کی تفصیل گزر چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
اگر پوری ذمہ داری کے ساتھ چلانے کی صورت میں ایکسیڈنٹ ہوا اور مخالف سمت سے آنے والے کی کوتاہی تھی، اور ڈرائیور کا والد مر گیا تو ڈرائیور بیٹا میراث سے محروم نہ ہوگا، اس لیے کہ میراث سے محرومی کا سبب وہ قتل ہے جس میں قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہو۔ ملاحظہ ہو: (السراجی، ص
٦
، و فتاوی ہندیہ:
٦
/
٤۵٤
، و فتاوی حقانیہ:
٦
/
۵۲۱
)۔
بعض حالات میں ڈرائیور بالکل بے بس ہو جاتا ہے تو ایسی صورتوں میں تاوان نہیں آئے گا۔
وہ صورتیں درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱۔ آدمی گاڑی چلا رہا تھا اور کوئی اچانک گاڑی کے سامنے دوڑایا اور ڈرائیور گاڑی روک نہ سکا تو اس پر تاوان نہیں آئے گا۔
۲۔ گاڑی اشارہ پر کھڑی ہے اور سبز بتی کا انتظار ہے اور کوئی پیچھے سے آ کر مار دے اور اس کی گاڑ ی آگے والی گاڑی سے ٹکرا جائے تو اس صورت میں درمیان والے کی طرف مباشرت کی نسبت مشکل ہے، لہذا تاوان نہیں آئے گا۔
۳۔ گاڑی صحیح سالم تھی، اور معروف طریقے پر چلا رہا تھا، اور اچانک کوئی خرابی واقع ہوئی اور گاڑی بے قابو ہو گئی تو بھی تاوان نہیں آئے گا۔
٤۔ آدمی گاڑی قانون کے موافق چلا رہا تھا کہ اچانک سامنے والے نے بریک لگادی اور نقصان ہوا تو اس صورت میں بھی تاوان نہیں آئے گا۔ مستفاد از (بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرۃ:
۱
/
۳۱۱
،
۳۱۵
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.