ایکسیڈنٹ میں مرنے کی وجہ سے ڈرائیور کے لیے حرمانِ ارث کا حکم:
Question
ایک نوجوان اپنے والد کے ساتھ کار میں سفر کر رہا تھا، راستہ میں ایکسیڈنٹ ہو گیا، نوجوان ڈرائیور بچ گیا اور والد کا انتقال ہو گیا، اس بیٹے کو والد کی وراثت میں سے حصہ ملے گا یا نہیں ؟ یہ قتل خطأ کی تعریف میں آئے گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر نوجوان کی طرف سے کوتائی یا غلطی ہو گئی، یا راستہ کے قوانین کی مخالفت کی جس کے نتیجہ میں ایکسیڈنٹ ہوا، تو یہ قتل خطا کے حکم میں ہے، ڈرائیور پر کفارہ واجب ہوگا اور عاقلہ پر دیت آئے گی، اور مرحوم والد کی میراث سے محروم ہوگا۔
لیکن اگر ڈرائیور حکومت کے قوانین کی رعایت کرتے ہوے چلا رہا تھا اور ناگہانی طورپرحادثہ پیش آیا جس میں ڈرائیور بے بس تھا، تو ایسی صورت قتل خطأ کے حکم میں نہیں ہے بلکہ قتل بالسبب ہے اور اس میں بیٹا والد کی میراث سے محروم نہ ہوگا۔ ملاحظہ ہو
شریفیہ شرح السراجیہ میں ہے:
وأما القتل الذي يتعلق به وجوب الكفارة فهو إما شبه عمد
وإما خطأ كأن رمي إلى صيد فأصاب إنساناً وانقلب في النوم عليه فقتله أو وطئته دابته وهو راكبها أو سقط من سطح عليه أو سقط حجر من يده فمات، وموجبه الكفارة والدية على العاقلة ولا إثم فيه فعندنا يحرم القاتل عن الميراث في هذه الصور كلها؛
لأن المخطئ مباشر للقتل بفعله فيلزمه الكفارة والحرمان. (الشريفية شرح السراجية، ص ٤۸، ط: الرياض).
بعض حالات میں ڈرائیور بالکل بے بس ہو جاتا ہے تو ایسی صورتوں میں تاوان نہیں آئے گا۔
وہ صورتیں درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱۔ آدمی گاڑی چلا رہا تھا اور کوئی اچانک گاڑی کے سامنے دوڑایا اور ڈرائیور گاڑی روک نہ سکا تو اس پر تاوان نہیں آئے گا۔
۲۔ گاڑی اشارہ پر کھڑی ہے اور سبز بتی کا انتظار ہے اور کوئی پیچھے سے آ کر مار دے اور اس کی گاڑ ی آگے والی گاڑی سے ٹکرا جائے تو اس صورت میں درمیان والے کی طرف مباشرت کی نسبت مشکل ہے، لہذا تاوان نہیں آئے گا۔
۳۔ گاڑی صحیح سالم تھی، اور معروف طریقے پر چلا رہا تھا، اور اچانک کوئی خرابی واقع ہوئی اور گاڑی بے قابو ہو گئی تو بھی تاوان نہیں آئے گا۔
٤۔ آدمی گاڑی قانون کے موافق چلا رہا تھا کہ اچانک سامنے والے نے بریک لگادی اور نقصان ہوا تو اس صورت میں بھی تاوان نہیں آئے گا۔ مستفاد از (بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرۃ:
۱
/
۳۱۱
،
۳۱۵
)۔
وللمزيد ينظر: (بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ۱/۳۱۱. ۳۱۵، مكتبه دار العلوم كراتشي، ومجمع الضمانات ۱/٤۰۲، ط: دار السلام، وبدائع الصنائع، كتاب الجنايات: ۱۰/۳٤۷، ط: ديوبند،
و اسلامی فقہ: ۲/٦٤۲، و الجنایات فی الفقہ الاسلامی، ص ۲۲۳، و تکملہ فتح الملہم: ۲/۵۲۳، فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٦۰۹، و السراجی، ص ٦، و فتاوی ہندیہ: ٦/٤۵٤، و فتاوی حقانیہ: ٦/۵۲۱)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.