عصبات کے غیر متناہی ہونے کی تحقیق:
Question
کیا عصبات کا سلسلہ اولاد عم الجد پر ختم ہوتا ہے یا آگے تک چلتا ہے؟ یعنی عم الجد اور ان کی اولاد پھر عم اب الجد اور عم جد الجد پھر ان کی اولاد تک یہ سلسلہ جاتا ہے؟ اگر یہ سلسلہ آگے تک جاتا ہے تو پھر سراجی وغیرہ میں صرف عم الجد تک کا سلسلہ کیوں رکھا گیا؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ عصبات کا سلسلہ اولاد عم الجد پر ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ آگے تک سلسلہ چلتا ہے یعنی عم اب الجد اور ان کی اولاد پھر عم جد الجد تا آخر سلسلہ۔ فتاوی بزازیہ میں مرقوم ہے:
أقربهم الابن ثم ابن الابن وإن سفل
وهكذا عمومة الأجداد وإن علوا وأولادهم الذكران وإن سفلوا. (الفتاوى البزازية بهامش الفتاوى الهندية: ٦/٤۵٦).
(وكذا في لسان الحكام في معرفة الأحكام لابن الشحنة الحلبي، ص ٤۲٦، ط: دار الفكر).
احسن الفتاوی میں تفصیلی فتوی مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو:
سلسلہ عصبات عم الجد پر ختم نہیں ہوتا، بزازیہ میں ہے:
وهكذا عمومة الأجداد وإن علوا وأولادهم الذكران وإن سفلوا،
اور معین الحکام کے حاشیہ پر لسان الحکام میں بھی
"وإن علوا"
کی تصریح موجود ہے، عام کتب میں اس کی تصریح نہ کرنے وجہ یہ ہے کہ پہلے مراتب میں بار بار عموم کی تصریح کی جاچکی تو اب ہر مرتبہ میں اس کی ضرورت نہ رہی بلکہ علی سبیل المقایسہ فہمِ مخاطب پر پر چھوڑ دیا گیا اور بعض مصنفین نے احتیاطاً ذکر بھی کر دیا۔ چونکہ وراثت کا مدار ثبوتِ نسب پر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اپنا سلسلہ نسب اپنے اباء کے اسماء سے میت کے کسی جد تک ثابت کر دے تو وارث ہوگا۔ والا فلا، محض شرکت فی النسب مبہم طور پر کافی نہیں۔ کیوں کہ ابہام کی حالت میں عصبات کے قرب و بعد کا پتا چلنا محال ہے، اور بلا لحاظ قرب و بعد ساری دنیا پر میراث تقسیم کرنا بھی محال، اور امر محال کو مستلزم قول باطل ہے، پس ذوی الارحام اور اصنافِ متأخرہ کی توریث پر کوئی اعتراض نہ رہا۔ عمومۃ الاجداد میں
وإن علوا
کا عموم کتب بالا میں مصرح ہے۔ حضراتِ فقہائے کرام رحمه الله کے جزء الجد کے بعد عم الاب و عم الجد کو مستقل ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عصبات کی توریث میں تین قسم کی ترتیب ملحوظ ہے، پہلے ترتیب فی الجہۃ، پھر ترتیب فی الدرجہ، پھر ترتیب فی القوۃ و الضعف، جزء الجد کے مرتبہ میں یہ وہم ہوتا تھا کہ عم اور عم الاب و عم الجد وغیرہ ایک ہی صنف ہیں اور متساوی فی الجہۃ ہیں، اس وہم کے دفعیہ کے لیے ثم عم الاب ثم عم الجد کا اضافہ کیا گیا، تاکہ ان میں اختلافِ جہت اور ہر ایک کا علیحدہ صنف ہونا ظاہر ہو جائے، لہذا ابن ابن العم کی موجود گی میں عم الاب محروم ہوگا۔ کیوں کہ جہت میں متأخر ہے، اگر ان سب کو ایک ہی جہت سمجھا جاتا تو معاملہ برعکس ہوتا، کیوں کہ اتحادِ صنف کے بعد اقرب فی الدرجہ مقدم ہوتا ہے اور عم الاب اس لحاظ سے اقرب ہے۔
غرضیکہ اس اضافہ سے حضراتِ فقہائے کرام رحمه الله کا مقصد سلسلہ عصبات کو ختم کرنا نہیں بلکہ میت کے ہر درجہ کے اب کی اولاد ذکور کو مستقل صنف اور مختلف الجہہ ظاہر کرنا مطلوب ہے، مراتبِ غیر محصورہ میں سے دو تین مراتب کو ذکر کر کے عموم و شمول مراد لینا اور بقیہ کو علی سبیل المقایسہ فہمِ مخاطب کے اعتماد پر چھوڑ دینا عام طور پر شائع و ذائع ہے، واللہ اعلم۔ (احسن الفتاوی:
۹
/
٤٤۵
۔
٤٤۷
، ضمیمہ ثالث، ط: سعید)۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کی پہلی رائے یہ تھی کہ عصبات اولادِ عم الجد تا آخر سلسلہ پر ختم ہو جاتے ہیں، پھر انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا۔ مرجوح قول امداد الفتاوی: ٤/۳٤۳، پر مذکور ہے، اور اس کے حاشیہ میں یہ عبارت مرقوم ہے: اس سے حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے رجوع فرمایا ہے جس کی تفصیل کتاب میں درج ہونے سے رہ گئی ہے۔ (حاشیہ امداد الفتاوی: 4/344)۔
نوٹ: اشرف الاحکام جو امداد الفتاوی کا تتمہ ہے اس میں بھی یہ مسئلہ نہیں مل سکا۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
حضرت تھانوی رحمه الله نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا تھا۔ صحیح وہی ہے جس کو حضرت مولانا اصغر حسین صاحب رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے۔ الجامع الوجیز میں اس کی تصریح ہے، جس وقت کسی عصبہ کی تحقیق نہ ہو تو ذوی الارحام کو ترکہ ملے گا (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
٤۲۰
، جامعہ فاروقیہ)۔
حضرت مولانا اصغر حسین صاحب رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
مفید الوارثین میں لکھتے ہیں: درجہ دوم عصبات کا بیان یہاں تک ختم کر دیا گیا، اسی طرح پانچویں چھٹی پشت تک لکڑ دادا اور پکڑ دادا تک اور پھر اس سے اوپر تک سلسلہ چل سکتا ہے جب تک ان میں سے کوئی بھی موجود ہوگا، خواہ کتنی ہی دور کی پشت کا ہو درجہ سوم کے عصبات ہرگز وارث نہ ہوں گے۔ (مفید الوارثین، ص 141، پانچواں باب عصبات کا بیان، ط: ادارہ اسلامیات، لاہور)۔
سراجی میں ہے:
العصبات النسبية ثلاثة: عصبة بنفسه، وعصبة بغيره، وعصبة مع غيره، أما العصبة بنفسه: فكل ذكر لا تدخل في نسبته أنثي، وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله، وجزء أبيه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب، يرجحون بقرب الدرجة
ثم جزء جده أي الأعمام ثم بنوهم وإن سفلوا ثم يرجحون بقوة القرابة، أعني به، أن ذا القرابتين أولي من ذي قرابة واحدة، ذكراً كان أو أنثى
وكذلك الحكم في أعمام الميت، ثم في أعمام أبيه، ثم في أعمام جده. (السراجي في الميراث، ص ۳۵. ۳۸، ط: مكتبة البشرى).
وقال العلامة نظام الدين الكيرانوي في حاشية السراجي: جزء جده: أي الأعمام، ثم عم الأب ثم عم الجد، ثم أبيه كذلك وإن سفل
فظهر أن جهات العصبة بنفسه أربعة
والرابعة ـ العمومة له أو لا بيه أو لجده وإن علا، وكذا بنوهم. (حاشية السراجي المسمى بدليل الوراث، ص ۳۷). (
و کذا فی امداد الاحکام: 4/611) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.