سراجی کے بعض حواشی کے اشعار کی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 8 #330Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

سراجی کے بعض حواشی پر یہ اشعار لکھے ہوے ہیں:
شخصے بسفر رفت از و ماند بسے مال

خ

وارث دو نفر داشت یکے عم و دِ گر خال
خالش پسرِ عم وعمش پسرِ خال

خ

اے مفتی آفاق چہ فتوی است دریں حال؟
یعنی ایک شخص سفر میں چلا گیا (انتقال ہو گیا ) اپنے پیچھے بہت سارا مال چھوڑا، اس کے دو وارث ہیں، ایک چچا اور دوسرا ماموں، اس کا ماموں اس کا چچا زاد بھائی ہے اور اس کا چچا اس کا ماموں زاد بھائی ہے، اے مفتی آفاق ! اس صورت میں کیا فتوی ہے؟ یعنی شرعاً اس کے مال کا مستحق کون ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ مثلاً: احمد بن عمرو نے اپنی چچی فاطمہ سے نکاح کیا، جس سے عبد القیوم پیدا ہوا، اور کریم نے بھی اپنی چچی حبیبہ سے نکاح کیا جس سے قاسم پیدا ہوا۔ اور محمود نے اپنی چچا زاد بہن سے نکاح کیا جس سے عبد الصبور پیدا ہوا، پھر عبد الصبور بن محمود کا انتقال ہوا تو عبد القیوم اس کا خال اور پسر عم ہے، خال اس لیے کہ عبد الصبور کی ماں زینب ہے، اور عبد القیوم اور زینب ماں شریک ہیں، دونوں کی ماں فاطمہ ہے، اور پسرِ عم ہونا تو ظاہر ہے۔ اور قاسم اس کا اخیافی عم اور پسرِ خال ہے، عمِ اخیافی اس لیے کہ عبد الصبور کا باپ محمود اور قاسم ماں شریک ہیں، دونوں کی ماں حبیبہ ہے، اور پسرِ خال اس لیے کہ عبد الصبور کی ماں زینب بنتِ فاطمہ اور قاسم کا باپ کریم بن فاطمہ ہے، تو قاسم کا باپ عبد الصبور کا خال اور قاسم پسرِ خال بن گیا۔
اب اس صورت میں عبد القیوم وارث ہے، کیوں کہ پسرِ عم عیانی ہے اگر چہ خال بھی ہے، اور قاسم محروم ہے، اس لیے کہ وہ عمِ اخیافی اور خال ہے، اور ذوی الارحام میں سے ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
قرابت و رشتہ داری کی وضاحت درجِ ذیل نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں:

ميتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

زید (عمرو کا بھائی) عمرو (زید کا بھائی)
فاطمہ زوجہ زید و مادرِ عبد القیوم حبیبہ زوجہ عمر و و مادرِ قاسم
نکاح
کریم بن زید و فاطمہ زینب بنت زید و فاطمہ احمد بن عمرو و حبیبہ محمود بن عمرو و حبیبہ
قاسم بن کریم و حبیبہ عبد القیوم بن احمد و فاطمہ (پسرِ عم عبد الصبور)
عبد الصبور بن محمودو زینب بنت فاطمہ
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.