زانی باپ سے میراث کا حکم:
Question
ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا، اور تین بچے پیدا ہوئے، پھر اس نے اپنی چھوٹی سالی سے ناجائز تعلقات قائم کیے جس کے نتیجہ میں دو تین بچے پیدا ہوئے، پھر بیوی کو طلاق دے کر اس کے ساتھ نکاح کر لیا، اب اس کا انتقال ہو گیا تو ان اِولاد الزنا کو میراث ملے گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اولاد الزنا کو اپنے باپ سے کچھ حصہ نہیں ملے گا، ہاں ماں سے میراث ملے گی۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں مرقوم ہے:
ويرث ولد الزنا واللعان بجهة الأم فقط، لأن نسبه من جهة الأب منقطع فلا يرث به ومن جهة الأم ثابت فيرث به أمه وأخته من الأم بالفرض لا غير وكذا ترثه أمه فرضاً لا غير. (تكملة البحر الرائق: ۸/۵۰۲).
مزید ملاحظہ ہو: (
الفتاوى الهندية: ٦/٤۵۲، والدر المختار مع فتاوى الشامي: ۷/۳٦۹، سعيد، ومجمع الأنهر: ۲/۷۵٤،
و فتاوی دار العلوم زکریا، جلد چہارم، ص
۳۳۱
۔ ط: زمزم)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.