جانور کی ہڈیوں سے بنا ہوا فلٹر استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #8Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

مختلف جانوروں کی ہڈیوں سے پانی فلٹر کرنے کا برتن بناتے ہیں، بعض کمپنیوں کا یہی طریقہ کار ہے، کیا اس برتن میں پانی رکھنا یا اس سے پینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

انسان اور خنزیر کے استثناء کے ساتھ تمام جانوروں کی ہڈیاں پاک ہیں، اور ان سے بنائے ہوئے فلٹر کا استعمال بھی جائز اور درست ہے، وجہ یہ ہے کہ اگر جانور مذبوح ہے تو ان کا پاک ہونا ظاہر ہے اور اگر مردار ہے تو ہڈیوں میں حیات نہ ہونے کی وجہ سے موت حلول نہیں کرتی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:

وشعر الميتة وعظمها طاهر. (الهداية: ۱/٤۱، ط: المصباح). وفيه أيضاً: ولا بأس ببيع عظام الميتة وعصبها وصوفها وقرنها وشعرها ووبرها والانتفاع بذلك كله لأنها طاهرة لا يحلها الموت لعدم الحياة. (الهداية: ۳/۵۵، ط: شركة علمية).
وفي البحر الرائق: وفي التجنيس: لا بأس ببيع عظام الموتى لأنه لا يحل العظام الموت وليس في العظام دم تتنجس فيجوز بيعها إلا بيع عظام الآدمي والخنزير، وفي المحيط: إن عظم الميتة إذا كان عليه دسومة ووقع في الماء نجسه. (البحر الرائق: ۱/۱۱۳).
و للاستزادة راجع: (الفتاوى الهندية: ۱/۲٤، والدر المختار: ۱/۲۰٦، ط: سعيد، وبدائع الصنائع: ۵/۱٤۲، سعيد).

ہاں اگر مردار جانور کی ہڈی پر کچھ گوشت یا چکناہٹ ہو تو وہ ناپاک ہے پانی میں گر جائے تو پانی ناپاک ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو المحیط البرہانی میں مرقوم ہے:

فالحاصل: إن عظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات، إذا كان الحيوان ذكاة أنه طاهر سواء كان العظم رطباً أو يابساً، وأما إذا كان الحيوان ميتاً، فإن كان عظمه رطباً فهو نجس، وإن كان يابساً فهو طاهر، لأن اليبس في العظم بمنزلة الدباغ من حيث أنه يقع الأمن في العظم باليبس عن الفساد كما يقع الأمن في الجلد بالدباغ، فكذا العظم باليبس، وأما عظم الخنزير فنجس. (المحيط البرهاني: ۲/۲۷، مكتبه رشيديه كوئته).

امداد الفتاوی میں ہے: مردار جانوروں کی کھال سوائے آدمی و خنزیر کے دباغت سے پاک ہو جاتی ہے اور ہڈی اور پیٹھ اور سینگ اور بال اور اون سب پاک ہیں، انتفاع ان سے جائز ہے اور چربی مردار کی ناپاک ہے اس کا کسی طرح استعمال نہ چاہیے ۔ بحوالہ ہدایہ و عالمگیری ۔ (امداد الفتاوی: ۱/ ۱۰۹، ط: دار العلوم کراچی) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (کفایت المفتی: ۱۲/۵۱۲، ط: جامعہ فاروقیہ، و احسن الفتاوی: ۸/۱۲۸، ط: سعید، و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱/۲۷۳، ط: دار الاشاعت، و قاموس الفقہ: ٤/ ۳۹۹، ط: زمزم، و کتاب المسائل: ۱/۱۱۲، ط: نعیمیہ دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.