ناپاک اجزا ملائے ہوے شیمپو کے استعمال کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #15Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

آج کل بالوں کے دھونے کی مختلف اشیاء تیار ہو رہی ہیں، جیسے شیمپو، کریم، صابن وغیرہ، بعض مرتبہ ان میں غیر مذبوحہ جانور یا خنزیر کے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں، تو کیا سر یا کپڑے دھونے میں اس کا استعمال درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مزاجِ شریعت یہ ہے کہ اس قسم کی مشکوک چیزوں کے استعمال سے احتراز کیا جائے، لیکن اگر کوئی دوسری چیز دستیاب نہ ہو اور اس کے استعمال کی ضرورت ہو تو پھر حکم یہ ہے کہ ناپاک اشیاء کی حقیقت اور ماہیت بدل جانے سے اس کا سابق حکم باقی نہیں رہتا، حقیقت تبدیل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پہلا مصداق و مفہوم بالکل بدل جائے یا اس کی مخصوص صفات باقی نہ رہیں، تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ شیمپو، صابن اور کریم وغیرہ میں ناپاک اجزاء اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں بنا بریں ان کے استعمال کی اجازت ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مرقوم ہے:

لأن الشرع رتب وصف النجاسة على تلك الحقيقة وتنتفي الحقيقة بانتفاء بعض أجزاء مفهومها فكيف بالكل فإن الملح غير العظم واللحم فإذا صار ملحاً ترتب حكم الملح ونظيره في الشرع النطفة نجسة وتصير علقة وهي نجسة وتصير مضغة فتطهر والعصير طاهر فيصير خمراً فينجس ويصير خلاً فيطهر فعرفنا أن استحالة العين تستتبع زوال الوصف المرتب عليها وعلى قول محمد فرعوا الحكم بطهارة صابون صنع من زيت نجس. (فتح القدير: ۱/۲۰۱، ط: دار الفكر). (وكذا مجمع الأنهر: ۱/۹۱، ط: دار الكتب العلمية، وفتاوى الشامي: ۱/۳۲۷، سعيد، وبداية المجتهد: ۱/۳٤۹).
البحر الرائق
میں ہے:

انقلاب العين، فإن كان في الخمر فلا خلاف في الطهارة، وإن كان في غيره كالخنزير والميتة تقع في المملحة فتصير ملحاً يؤكل والسرقين والعذرة تحترق فتصير رماداً تطهر عند محمد خلافاً لابي يوسف رحمه الله وضم إلى محمد رحمه الله أبا حنيفة رحمه الله في المحيط وكثير من المشايخ اختاروا قول محمد رحمه الله وفي الخلاصة وعليه الفتوى. (البحر الرائق: ۱/۲۲۷، كوئته).

بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرہ میں مرقوم ہے:

الخمائر والجلاتين من الخنزير: إن كان العنصر المستخلص من الخنزير تستحيل ماهيته بعملة كيمياوية، بحيث تنقلب حقيقته تماماً، زالت حرمته ونجاسته وإن لم تنقلب حقيقته بقي على حرمته ونجاسته، لأن انقلاب الحقيقة مؤثر في زوال الطهارة والحرمة عند الحنفية. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة: ۱/۳٤۱، ط: دار العلوم كراچي).

کفایت المفتی میں مذکور ہے:
واضح ہو کہ انقلابِ حقیقت سے مراد یہ ہے کہ وہ شئی فی نفسہٖ اپنی حقیقت چھوڑ کر کسی دوسری حقیقت میں متبدل ہو جائے جیسے شراب سرکہ ہو جائے یا خون مشک بن جائے یا نطفہ گوشت کا لوتھڑا وغیرہ وغیرہ کہ ان صورتوں میں شراب نے فی نفسہٖ اپنی حقیقت خمریہ اور خون نے اپنی حقیقتِ دمویہ اور نطفہ نے اپنی حقیقتِ منویہ چھوڑ دی اور دوسری حقیقتوں میں متبدل ہو گئے حقیقت بدل جانے کا حکم اسی وقت دیا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ اولی منقلبہ کے آثارِ مختصہ اس میں باقی نہ رہیں جیسا کہ امثلہ مذکورہ میں پایا جاتا ہے کہ سرکہ بن جانے کے بعد شراب کے آثارِ مختصہ بالکل زائل ہو جاتے ہیں ۔ بعض آثار کا زائل ہو جانا یا بوجہ قلت آثار کا محسوس نہ ہونا موجبِ انقلاب نہیں الخ ۔ (کفایت المفتی: ۲/۳۳۳، ط: دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ٦/٦۰۰، زمزم، و جدید فقہی مسائل: ۱/۱۱۵، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.