صفوف کی درستگی سے متعلق چند مسائل:
Question
(۱) کیا نماز باجماعت میں صفوف کی درستگی کا حکم دینا امام کی ذمہ داری ہے؟
(۲) اگر مصلیوں کی بڑی تعداد ہے تو کیا امام یہ کام اپنے نائبین سے لے سکتا ہے کہ وہ صف بندی کریں اور امام کو مطلع کر دیں؟
(۳) آج کل صفوف کی درستگی میں بڑی کوتاہی ہے تو کیا اس کو دور کرنے کے لیے امام اقامت سے پہلے صفوف درست کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟ ہمارے فقہاء اور علمائے دیوبند کی تحقیقات کی روشنی میں تسویۂ صفوف کا حکم کیا ہے؟
(٤) کیا ہماری فقہ کی کتابوں میں تسویۃ الصفوف کا ذکر ہے یا نہیں؟ کیا امام بخاری رحمه الله کے ذکر کردہ باب"
باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها "
میں
بعدها
کے مقابلہ میں
عند الإقامة
سے
قبلها
لینے کی گنجائش ہو سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
(۱) مقتدی حضرات کو خود صفوف درست کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ مقتدی حضرات اہتمام نہ کرتے ہوں تو امام کے لیے بہتر یہ ہے کہ صف درست کرنے کا حکم دے، صحیح ابن حبان میں باب قائم کیا ہے کہ امام کے لیے مستحب یہ ہے کہ مقتدیوں کو صف درست کرنے کا حکم کرے،
ذكر الاستحباب للإمام أن يأمر المأمومين بتسوية الصفوف واعتدالها عند قيامه إلى الصلاة. (صحيح ابن حبان: ٤/۳۰۰، الأثرية).
قال في البحر الرائق: وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك. (البحر الرائق: ۱/۳۵۳، ط: كوئته).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸۹، وتبيين الحقائق: ۱/۱۳٦، إمداديه، ملتان).
وقال في الدر المختار: ويصف أي يصفهم الإمام بأن يأمرهم بذلك قال الشمني: وينبغي أن يأمرهم بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا مناكبهم ويقف وسطاً. (الدر المختار: ۱/۵٦۸، سعيد).
(۲) اگر مصلیوں کی تعداد زیادہ ہو، تو امام چند آدمیوں کو صفوف درست کرنے کی خاطر مقرر کر سکتا ہے، جب وہ صفوف درست کر لیں تو امام کو مطلع کر دیں۔ جیسا کہ حضرت عمر و عثمان رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے تھے۔
وفي شرح صحيح البخاري لا بن بطال: تسوية الصفوف من سنة الصلاة عند العلماء وأنه ينبغي للإمام تعاهد ذلك من الناس، وينبغي للناس تعاهد ذلك من أنفسهم، وقد كان لعمر رضي الله عنه وعثمان رضي الله عنه رجال يوكلونهم بتسوية الصفوف، فإذا استوت كبر. (شرح صحيح البخاري لابن بطال: ۲/۳٤٤، ط: الرياض). (وكذا في شرح أبي داود للعيني: ۳/۲۱۲، ط: مكتبة الرشد).
مؤطا امام مالک میں روایت ہے:
مالك عن نافع أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يأمر بتسوية الصفوف فإذا جاءوه فأخبروه أن قد استوت كبر. (المؤطا للإمام مالك: ۲/۲۱۹/۵٤۲).
(۳) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله نے لامع الدراری میں تحریر فرمایا ہے کہ صفوں کو اقامت کے دوران یا اس کے بعد تکبیر سے پہلے ٹھیک کرنے کو خاص و مقید نہ کیا جائے کیوں کہ
سووا صفوفكم (صحيح البخاري، رقم: ۷۲۳)،
کے عموم سے پتا چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کی جا سکتی ہے، مزید یہ کہ
"إني أراكم خلف ظهري "(صحيح البخاري، رقم: ۷۲۲)
سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی امام کی نظر مقتدیوں پر پڑے صفوں کو ٹھیک کر لیا جائے۔
قال الشيخ في لامع الدراري: باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها والحجة عليها عموم قوله: سووا صفوفكم وإطلاقه فلا يتقيد ولا يختص بوقت وأيضاً فإن قوله إني أراكم خلف ظهري يقتضي الاهتمام بتسوية الصفوف إذا وقعت ناظرة الإمام عليهم. (لامع الدراري: ۱/۲۷۸، ط: سعيد، وسراج القاري: ۳/٤۳۳).
وزاد الشيخ زكريا وقال: وجعل الحافظ (فتح الباري: ۲/۲۰۷) الترجمة من الأصل الحادي عشر إذ قال: ليس في حديثي الباب دلالة على تقييد التسوية بما ذكر لكن أشار بذلك إلى ما في بعض الطرق كعادته ففي حديث النعمان عند مسلم أنه ﷺ قال: ذلك عند ما كاد أن يكبر وفي حديث أنس رضي الله عنه في الباب الذي بعد هذا أقيمت الصلاة فأقبل علينا، فقال
(حاشية اللامع: ۱/۲۷۸، ط: سعيد، والأبواب والتراجم، ص ۹۰، ط: سعيد).
تسویۃ الصفوف کو ہمارے دیوبندی علماء میں سے حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله اور حضرت شیخ رحمه الله نے سنت لکھا ہے لیکن حضرت شاہ صاحب رحمه الله نے وجوب کا قول تحریر فرمایا ہے، اور مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری نے بھی اسی کو اختیار فرمایا ہے، اور ہمارے دیگر اکابر رحمه الله کے فتاوی میں بھی تسویۃ الصفوف کی تاکید مذکور ہے، حوالہ جات نمبر ٤ کے تحت ملاحظہ کیجیے۔
(٤) مذہبِ احناف کی کتبِ فقہ میں بھی تسویۃ الصفوف کے بارے میں تاکید منقول ہے:
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں منقول ہے:
فيأمرهم الإمام بذلك، تفريع على حديث الدال على طلب الموالاة واسم الإشارة راجع إليها ويأمرهم أيضاً بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويستووا مناكبهم وصدورهم كما في الدر عن الشمني وفي الفتح: ومن سنن الصف التراص فيه والمقاربة بين الصف والصف والاستواء فيه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۳۰٦، ط: قديمي).
عمدۃ القاری میں ہے:
الأمر بتسوية الصفوف، وهي من سنة الصلاة عند أبي حنيفة رحمه الله والشافعي رحمه الله ومالك رحمه الله
ولكنها ليست من واجبات الصلاة بحيث أنه إذا تركها فسدت صلاته أو نقصتها، غاية ما في الباب إذا تركها يأثم. (عمدة القاري: ٤/۳۵٤، ط: دار الحديث، ملتان).
الأبواب والتراجم
میں ہے:
ثم تسوية الصفوف من سنة الصلاة وليس بشرط عند الأئمة الثلاثة وقال أحمد من صلى خلف الصف وحده بطلت صلاته. (الأبواب والتراجم، ص ۹۰)
إعلاء السنن
میں مذکور ہے:
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
باب سنية تسوية الصف ورصها
قلت: دلالته على الجزء الأول من الباب ظاهرة والحديث وإن وقع فيه لفظ الأمر وأصله الوجوب ولكنه محمول على الندب لما جاء في الباب أحاديث
الخ. (إعلاء السنن: ٤/۳۵۳، ط: إدارة القرآن).
فيض الباري
میں ہے:
وكان في زمن عمر رضي الله تعالى عنه رجل موكل على التسوية كان يمشي بين الصفوف ويسويهم وهو واجب عندنا تكره الصلاة بتركه تحريماً وسنة عند الشافعية لانتفاء مرتبة الواجب عندهم وذهب ابن حزم إلى أنه فرض. (فيض الباري: ۲/۲۳٤، ط: حجازي، القاهرة، وتحفة الألمعي: ۲/۵۸۰).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
احادیث میں صفوف کے ہموار کرنے کا حکم وارد ہوا ہے یعنی قیام کی جگہ ایک ہو، ایسا نہ ہو کہ کوئی بلندی پر کھڑا ہو، کوئی پستی پر اور اقدام برابر ہوں، یعنی ایسا نہ ہو کہ کوئی آگے کھڑا ہو کوئی پیچھے اور اتصال ہو، یعنی ایسا نہ ہو کہ دو شخصوں کے درمیان ایک آدمی کی جگہ خالی رہے اور پہلی صف پوری ہونے پر دوسری صف شروع کی جائے، یعنی ایسا نہ ہو کہ پہلی صف میں جگہ باقی ہو اور دوسری صف شروع کی جائے، تسویۃ الصفوف ان چاروں امور کو مشتمل ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٤۸۰، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
اگر نماز ی آگے پیچھے ہوں یا صف میں جگہ خالی ہو تو امام کو ہدایت کرنی چاہیے ۔ (ج: ۳/٤۵۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی حقانیہ: ۳/۱۲۲، و فتاوی فریدیہ: ۲/۳۰۱) ۔
امام بخاری رحمه الله کے ترجمۃ الباب
"باب تسوية الصفوف عند الإقامة وبعدها،
میں
عند الإقامة
سے
قبل الإقامة
کا معنی غالباً کسی شارح نے ذکر نہیں کیا، ہاں حضرت گنگوہی رحمه الله نے اس طرح تشریح فرمائی ہے کہ کسی قید یا کسی مخصوص حالت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اپنے عموم پر ہے ۔
قال: فلا يتقيد بقيد ولا يختص بوقت. (لامع الدراري: ۱/۲۷۸، ط: سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.