قریہ کبیرہ میں اقامتِ جمعہ کے لیے اذنِ حاکم کا حکم:
Question
مشہور یہ ہے کہ قریہ کبیرہ میں جمعہ لازم ہے لیکن شامی رحمه الله نے قہستانی کے حوالہ سے قریہ کبیرہ میں جمعہ کے لیے حاکم کی اجازت کی شرط نقل فرمائی ہے، تو کیا اذنِ حاکم شرط کے درجہ میں ہے یا نہیں؟ نیز دوسرے فقہاء نے اس کو ذکر کیا ہے یا نہیں؟ (۲) اگر قریہ صغیرہ میں حاکم جمعہ کے قائم کرنے کی اجازت دے تو اس کے حکم سے جمعہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) فنائے مصر یا فنائے قریہ کبیرہ میں جمعہ لازم ہے لیکن اگر کوئی آبادی قریہ کبیرہ یا مصر سے کچھ فاصلہ پر ہو اور فنا میں شامل نہ ہو تو اس کی کتنی مقدار ہونی چاہیے؟ احسن الفتاوی میں جو مقدار ذکر کی گئی ہے اگر اس مقدار سے کچھ زائد ہو، لیکن عرف میں وہ آبادی شہر کی تابع سمجھی جاتی ہو تو اس میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ (٤) اگر کسی بستی کی آبادی دو یا تین ہزار ہے تو اس میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
(۱) مسلمان ممالک میں قریہ کبیرہ میں اقامتِ جمعہ کے لیے اذنِ حاکم شرط کے درجہ میں ہے چاہے اذن صراحۃً ہو یا دلالۃً، ہاں غیر مسلم ممالک میں چونکہ مسلمان حاکم موجود نہیں ہے اس لیے اذنِ حاکم شرط نہیں ۔ علامہ شامی رحمه الله کے علاوہ علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے بھی اس شرط کو ذکر فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں مذکور ہے:
وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقاً على ما قاله السرخسي رحمه الله وإذا اتصل به الحكم صار مجمعاً عليه فليحفظ. وفي الشامية: قوله وفي القهستاني، تأييد للمتن، وعبارة القهستاني: تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعاً عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاضٍ ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري: إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقاً على ما قال السرخسي، فافهم والرستاق القرى كما في القاموس. (فتاوى الشامي: ۲/۱۳۸، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو : (
حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۳۹، والبحر الرائق: ۲/۱٤٤، الماجدية).
فتاوی حقانیہ میں ہے:
جہاں کہیں اسلامی سلطنت قائم ہو تو وہاں پر اجازت صراحۃً یا دلالۃً ضروری ہے، لیکن اگر کہیں ایسا انتظام نہ ہو بعد از رعایت شرائط عام مسلمان خود اپنی ذمہ داری محسوس کر کے نمازِ جمعہ کا اہتمام کریں گے ۔
كما ذكر في الهندية: ولو تعذر الاستيذان من الإمام فاجتمع الناس على رجل يصلي بهم الجمعة جاز. الفتاوى الهندية: ۱/۱٤٦، باب صلاة الجمعة. (
فتاوی حقانیہ: ۳/۳۷۷) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (کتاب المسائل: ۱/٤۵۷) ۔
(۲) قریہ صغیرہ میں حاکم کی اجازت سے اقامتِ جمعہ جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے
وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز الصغيرة التي ليس فيها قاضٍ ومنبر وخطيب كما في المضمرات
ألا ترى أن في الجواهر: لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري: إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقاً على ما قال السرخسي، فافهم والرستاق القرى كما في القاموس. (فتاوى الشامي: ۲/۱۳۸، سعيد).
فتاوی فریدیہ میں مذکور ہے: سوال کا ما حصل یہ ہے کہ ایک گاؤں میں صرف ۲۵ مکانات ہیں اور تقریباً سو یا ڈیڑھ سو آدمی ہیں، اس کے متعلق جواب میں فرماتے ہیں: جب بادشاہ کی طرف سے اجازت نامہ ملا ہو تو اس قریہ میں اقامتِ جمعہ درست ہے،
كما في رد المحتار، عن الفتاوى الديناري
قلت: والإذن الصريحي فوق الإذن دلالة، وهو الموفق. (
فتاوی فریدیہ: ۳/۱۳۲) ۔ (و كذا فی امداد الفتاوی: ۱/٤۹۵و ۵٤۰) ۔
(۳) اس مسئلہ کا اصل مدار عرف پر ہوگا، اگر عرفاً چھوٹی بستی، شہر یا قریہ کبیرہ کے تابع سمجھی جاتی ہو تو اس میں اقامتِ جمعہ جائز ہے ورنہ نہیں ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مذکور ہے:
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكناً في توابعه، وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها. (بدائع الصنائع: ۱/۲۵۹، سعيد).
احسن الفتاوی میں فاصلہ کی مقدار درجِ ذیل منقول ہے؛ دو بستیوں کے درمیان وجودِ مزارع یا قدر غلوہ (۱٦ء۱۳۷میٹر) علامتِ انقطاع ہے، مع ہٰذا اگر دو مواضع عرفِ عام میں ایک ہی شہر کے دو محلے سمجھے جاتے ہوں تو فصل مذکور کے باوجود دونوں کو ایک موضع قرار دیا جائے گا ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۷٤) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/٦٤۲، ط: بمبئی) ۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
اگر اس چھوٹے گاؤں کی حیثیت ایک محلہ کی طرح ہو تو پھر درمیان میں خالی زمین اس کے لیے مانع نہیں کہ اس کو اس بڑے گاؤں کے توابع میں شمار کیا جا سکے، توابع ہونے کی صورت میں جمعہ و عیدین یہاں واجب رہیں گے اگر چہ اس کی مستقل آبادی کم ہو ۔ بحوالہ بدائع ۔ (فتاوی حقانیہ: ۳/۳۷۸و ۳۷۹) ۔
(٤) اگر کسی بستی کی آبادی دو ڈھائی ہزار یا تین ہزار ہے تو اس کی آبادی قریہ کبیرہ یا شہر کے درجہ میں ہے اور اشیائے ضرورت بھی بہ سہولت مل جاتی ہے تو اس میں جمعہ جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو عزیز الفتاوی میں مذکور ہے:
دو ہزار کی آبادی جس بستی میں ہو وہ قریہ کبیرہ ہے یا نہیں سو ظاہر یہ ہے کہ وہ قریہ کبیرہ ہے اگر اس میں بازار و دکانیں ہوں تو جمعہ وہاں ادا ہوگا ورنہ آدمیوں کی تعداد صحیح روایات سے ثابت نہیں ہے بلکہ عرفاً جس کو قریہ کبیرہ سمجھیں وہ قریہ کبیرہ ہے اور جس کو قریہ صغیرہ سمجھیں وہ قریہ صغیرہ ہے ۔ (عزیز الفتاوی: ۱/۲۸۹، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی فریدیہ میں مرقوم ہے:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں کی آبادی دو ہزار افراد پر مشتمل ہے اور اشیائے ضرورت بھی ملتی ہیں کیا اس میں جمعہ پڑھنا صحیح ہے؟
الجواب: یہ مقام مصر شرعی ہے اس میں نمازِ جمعہ پڑھنا صحیح بلکہ ضروری ہے،
لأن المصر على الصحيح موضع بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق
(
فتاوی فریدیہ: ۳/۱٦۳) ۔
وللمزيد راجع: (
فتاوی دار العلوم زکریا: ۲/٦٤۳، ط: بمبئی، و خیر الفتاوی: ۳/٤۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.