عبادات بزبانِ عربی انجام دینے کی حکمت:
Question
مسلمان جو عبادات ؛ مثلاً: نماز، تلاوت، ذکر اور ادعیہ وغیرہ پڑھتے ہیں وہ عربی زبان میں کیوں ہے؟ اپنی ملکی اور مقامی زبان میں کیوں نہیں کرتے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عربی زبان چند ایسی خصوصیات کی حامل ہے جو دیگر زبانوں سے حاصل نہیں ہوتیں، اور اگر دوسری مقامی زبان میں عبادات انجام دینے کی کو شش کریں گے تو اس میں بہت بڑا فرق واقع ہو گا جس کی وجہ سے الفاظ اور معانی میں تحریف اور تبدیلی کا قوی اندیشہ ہے، جیسے قلب کو اگر انگریزی میں منتقل کریں گے تو کلب بن جائے گا اور قلب کے معنی دل اور کلب کے معنی کتے کے ہیں ۔
نیز عربی الفاظ معانی کا سمندر ہوتے ہیں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں دوسری زبان میں ترجمہ سے اس کا لحاظ باقی نہیں رہے گا ۔ جواہر الفقہ میں مذکور ہے:
جہاں تک تحقیق سے معلوم ہوا، ان سب عجمی زبانوں میں بہت سے وہ حروف بالکل نہیں ہیں، جو عربی زبان اور قرآن میں موجود ہیں، مثلاً: ذ، ز، ظ، ض، انگریزی، ہندی، ٹامل، گجراتی زبانوں میں ان حروف کے لیے علیحدہ علیحدہ کوئی صورت تجویز نہیں کی گئی بلکہ سب کو ایک ہی نقش سے ادا کیا جاتا ہے حالانکہ ان حروف کے فرق سے معانی بہت بدل جاتے ہیں ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۸۹، رسالہ: تحذیر الانام عن تغییر رسم الخط من مصحف الامام) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
(۱) عربی میں ح اور ھ میں فرق ہے گجراتی میں نہیں ہے، (۲) عربی میں ق اور ک میں فرق ہے گجراتی میں نہیں ہے، (۳) عربی میں ہمزہ اور ع الگ الگ ہیں گجراتی میں نہیں (٤) عربی میں ت اور ط جدا جدا ہیں گجراتی میں نہیں ۔ (۵) عربی میں س اور ص اور ث میں فرق ہوتا ہے گجراتی میں نہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ عربی میں جس طرح ھ اور ح، ق اور ک، ع اور ء، اور ت اور ط، س اور ص، ث اور ذ، ض، ز، ظ کے رسم الخط اور ادائیگی میں نمایاں فرق ہے ۔ یہ فرق اور امتیاز گجراتی میں نہیں ہے، اگر علامتیں مقرر کی جائیں پھر بھی ناقص ہیں، جس میں تحریر اور رسم الخط کی تحریف کے ساتھ ساتھ ادائیگی میں نمایاں فرق ظاہر ہو گا جس سے بیسیوں غلطیاں اور غلط تلفظ سے حروف میں تبدیلی آنے کی وجہ سے مطلب بھی بدل جائے گا، اور ثواب کی جگہ عقاب اور رحمت کی جگہ لعنت کا حقدار ہوگا، جیسا کہ مشہور فرمان ہے:
رب تالٍ للقرآن، والقرآن يلعنه
یعنی بہت سے قرآن کے تلاوت کرنے والے ایسے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۵۹، ط: الاحسان، دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.