شہر کے اوپر ہوائی جہاز سے پرواز کرنے سے اقامت کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص کیپ ٹاؤن سے بذریعہ ہوائی جہاز جوہانسبرگ آیا اور یہ شخص جوہانسبرگ کا رہنے والا ہے اور جہاز جوہانسبرگ پر پرواز کر کے ایئرپورٹ اترا، تو یہ شخص اپنے شہر پر پرواز کرنے کی وجہ سے مقیم بن گیا یا تاہنوز مسافر ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہائے کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے شہر میں داخلہ سے سفر باطل ہوتا ہے اور شہر کے اوپر سے پرواز کرنے کو داخلہ نہیں کہتے، جیسے اگر کوئی شخص دربن شہر پر پرواز کرے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ فلان دربن میں داخل ہوا، بلکہ فضا میں داخل ہونا کہتے ہیں، نیز فقہاء میقات پر سے گزرنے کو یا میقات کی برابری میں گزرنے کو محاذات کہتے ہیں دخولِ میقات نہیں کہتے اسی طرح ہوائی جہاز میں اوپر سے گزرنا کسی شہر کی محاذات ہے دخول نہیں اور اپنے شہر میں داخلہ سے سفر باطل ہوتا ہے ۔ ملاحظہ ہو فقہاء لکھتے ہیں کہ دخولِ شہر مبطلِ سفر ہے:
قال في الخلاصة: وإنما يصير المسافر مقيماً إما بدخوله مصراً له فيه أهل أو بأن بدا له العود إليه بعد ما خرج
وسواء دخل مصره بنية الاختيار أو لقضاء حاجته والخروج بعد ذلك صار مقيماً حين دخلها. (خلاصة الفتاوى: ۱/۱۹۹). (وكذا في بدائع الصنائع: ۱/۱۰۳، سعيد، والفتاوى التاتارخانية: ۲/۵۱۳، والفتاوى السراجية، ص ۷۹).
میقات کی محاذات کے متعلق فقہائے کرام کی عبارات ملاحظہ کیجیے:
قال في الشامية: أنه لا يتصور عدم المحاذاة، أي لأن المواقيت تعم جهات مكة كلها فلا بد من محاذاة أحدها. (فتاوى الشامي: ۲/٤۷٦، سعيد).
قال في لباب المناسك مع شرحه: وأعيان هذه، أي المواقيت فقط (ليس بشرط) ولهذا يصح الإحرام قبلها، بل الواجب عينها أو حذوها، أي محاذاتها ومقابلتها. (لباب المناسك مع شرحه وإرشاد الساري، ص ۹۰، ط: بيروت).
جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے:
اب رہا ہوائی جہاز سے سفر کی صورت میں احرام کہاں سے باندھا جائے تو اس کو بھی اسی پر قیاس کرنا چاہیے کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ احرام کا لباس پہن کر ہی سفر کی ابتدا کرے لیکن یہ بات بھی جائز ہو گی کہ دورانِ سفر اس آخری مقام سے احرام ضرور باندھ لیا جائے جو کسی میقات کے مقابل میں آتا ہو اور اس کے بعد کوئی ایسی جگہ نہ ہو جو میقات کے مقابل آنے والی ہو اگر ٹھیک میقات ہی کے اوپر سے گزرتا ہو اور میقات کے بعد سفر حرم کی سمت ہو رہا ہو تو پھر وہیں سے احرام باندھنا ضروری ہوگا ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۳۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.