بیت اللہ کی طرف پیر پھیلانا مکروہ ہے:
Question
شامی میں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ قبلہ کی طرف پیر پھیلانا مکروہِ تحریمی ہے اور وہ شخص مردود الشہادۃ ہو جاتا ہے، تو مکروہِ تحریمی کی کیا دلیل ہے؟ نیز مردود الشہادۃ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
احادیث کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عمداً قبلہ کی طرف پیر پھیلانا مکروہ ہے، پھر علامہ شامی رحمه الله کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اور علامہ رحمتی کے نزدیک مردود الشہادۃ ہے جو کہ تحریمی کی طرف مشیر ہے اور یہ صرف علامہ رحمتی نے لکھا ہے دوسرے فقہاء اس کو خلافِ اولی کہتے ہیں، ہاں علامہ رحمتی کے قول میں احتیاط کا پہلو غالب ہے۔ نیز بیت اللہ، شعائر اسلام میں سے ہے اور اللہ تعالی نے شعائر اسلام کی تعظیم اور ادب و احترام کا حکم دیا ہے۔
قال الله تعالى: ﴿ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب﴾ [سورة الحج: ۳۲].
شافعیہ میں سے امام نووی رحمه الله نے بھی روضۃ الطالبین میں مکروہ لکھا ہے۔
بیت اللہ کی تعظیم اور بے ادبی کی ممانعت میں چند احادیث بطورِ مشتے نمونہ از خروارے، ملاحظہ فرمائیں:
۱ـ عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن لكل شيء سيداً وإن سيد المجالس قبالة القبلة، رواه الطبراني في الأوسط، وإسناده حسن (مجمع الزوائد: ۸/۵۹، دار الفكر).
۲ـ وعن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أكرم المجالس ما استقبل به القبلة، رواه الطبراني في الأوسط، وفيه حمزة بن أبي حمزة وهو متروك. (
حوالہ سابقہ)۔
۳ ـ وعن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن لكل شيء شرفاً وإن أشرف المجالس ما استقبل به القبلة، رواه الطبراني، وفيه: هشام بن زياد أبو المقدام وهو متروك. (
حوالہ سابقہ)۔
مذکورہ بالا روایات میں بیت اللہ کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کو سید اور اشرف نشست فرمایا گیا ہے۔
اب وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جن میں بے ادبی کی ممانعت وارد ہوئی ہے:
٤ ـ عن ابن عمر رضي الله عنه قال: نهى رسول الله ﷺ أن يصلى في سبع مواطن: في المزبلة، والمجزرة، والمقبرة، وقارعة الطريق، والحمام، ومعاطن الإبل، وفوق الكعبة. (سنن ابن ماجه، رقم: ۷٤٦).
وفي إسناده: زيد بن جبيرة وفيه كلام.
رسول اللہ ﷺ نے کوڑا خانہ اور جانوروں کے مذابح میں اور مقبرہ اور راستہ کے بیچ میں اور حمام میں اور خانہ کعبہ کے اوپر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
خانہ کعبہ کے اوپر نماز کی ممانعت کی وجہ بے ادبی ہے اور پاؤں پھیلانے میں بھی عرفاً بے ادبی ہے۔
۵ ـ عن أبي أيوب الأنصاري أن النبي ﷺ قال: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا قال أبو أيوب فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض بنيت قبل القبلة فننحرف ونستغفر الله تعالى. (صحيح البخاري: ۱/۸۸).
یعنی قضائے حاجت میں قبلہ کی طرف منہ مت کرو اور نہ پشت کرو لیکن مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرو، کیوں کہ قضائے حاجت میں قبلہ کی طرف رخ کرنے میں بے ادبی ہے۔
٦ـ عن زر بن حبيش عن حذيفة أظنه عن رسول الله ﷺ قال: "من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة تفله بين عينيه، ومن أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا. (السنن الكبرى للبيهقي: ۳/۹۷۵، وسنن أبي داود، رقم: ۳۸۲٤، وصحيح ابن خزيمة: ۳/۸۳، بيروت).
اس حدیث میں جانبِ قبلہ تھوکنے کی ممانعت ہے کہ اس میں بے ادبی ہے آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تھوک تھوکنے والے کی دونوں آنکھوں کے درمیان ظاہر ہوگا۔
۷ ـ وعن عبد الله بن الحسن عن أبيه عن جده: رفعه: من جلس يبول قبالة القبلة فذكر فتحرف عنها إجلالاً لها لم يقم من مجلسه حتى يغفر له. أخرجه الطبري في تهذيبه. وفيه: كذاب. (جامع الأحاديث للسيوطي: ۲۰/۲۲۹).
فقہائے کرام کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
قال في الهندية: ويكره مد الرجلين إلى الكعبة في النوم وغيره عمداً، وكذلك إلى كتب الشريعة وكذلك في حال مواقعة الأهل، كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱۹).
وفي المحيط البرهاني: ويكره مد الرجلين إلى القبلة في النوم وغيره عمداً، وكذلك يكره مد الرجلين إلى المصحف، وإلى كتب الفقه لما فيه من ترك تعظيم جهة القبلة، وكلام الله تعالى، ومعاني كلام الله تعالى. (المحيط البرهاني: ٦/۵۱، رشيديه).
علامہ شامی رحمه الله کی عبارت ملاحظہ کیجیے:
قال في الدر المختار: كره مد رجليه في نوم أو غيره إليها، أي عمداً لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير
وفي الشامية: (قوله مد رجليه) أو رجل واحدة ومثل البالغ الصبي في الحكم المذكور، قوله أي عمداً، أي من غير عذر إما بالعذر أو السهو فلا، قوله لأنه إساءة أدب، أفاد أن الكراهة تنزيهيه، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته، قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر. (فتاوى الشامي: ۱/٦۵۵، وكذا في ۱/۳٤۲، سعيد).
فتاوی دار العلوم زکریا میں مرقوم ہے:
فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر بجانب قبلہ پیر پھیلا کر سونا مکروہِ تحریمی ہے، کعبہ شعائر اسلام میں سے ہے اور اس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اور یہ مسئلہ اور حکم خلاف قیاس نہیں کہ اس کو اپنے محل تک محدود رکھیں بلکہ یہ عرف پر مبنی ہے تو عرف میں جیسے بیت اللہ پر نماز بے ادبی ہے اسی طرح قبلہ کی طرف پیر پھیلانا بھی بے ادبی ہے، اگر کسی کے سامنے معزز آدمی بیٹھا ہو اور اس کی طرف پاؤں پھیلا دے تو اس کو حاضرین بے ادبی سمجھتے ہیں۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ۷/۸۱۹، ط: ممبئی)۔
فتاوی رحیمیہ میں مکتوب ہے:
بجانبِ قبلہ پھیلا کر سونا مکروہِ تحریمی، قریب حرام ہے، جو شخص جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے یعنی شرعاً اس کی گواہی مردود اور نا مقبول ہے۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۵۷۷)۔
معارف القرآن میں مرقوم ہے:
شعائر اللہ کی تعظیم دل کے تقوی کی علامت ہے ان کی تعظیم وہی کرتا ہے جس کے دل میں تقوی اور خوفِ خدا ہو۔ (معارف القرآن: ٦/۲٦۳، ط: ادارۃ المعارف کراچی)۔
مزید ملاحظہ ہو: (
الاستخفاف بشعائر الله لعبد الكريم هجيع).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.