فضیلتِ صوم کے بارے میں "وأناْ أَجزِ ي بہ "کے معنی کی تحقیق:
Question
روزہ کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث شریف میں ہے:"
الصوم لي وأناْ أجزي به
"بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ لفظ اجزی مجہول کے صیغہ کے ساتھ بھی صحیح ہے اور اس کا معنی یہ ہے: اللہ تعالی کا دیدار اور رضامندی اس کو دی جائے گی ۔ کیا عربی قواعد کے اعتبار سے یہ معنی صحیح ہے؟
Answer
اکثر کتبِ احادیث میں اجزی معروف کے صیغہ کے ساتھ آیا ہے اور اکثر محدثین اور شراحِ حدیث کے نزدیک یہی مشہور ہے، اس لیے یہی صحیح ہے ۔ چند علماء کی تشریح پیش خدمت ہے:
قال العلامة العيني: قوله أناْ أجزي به بيان لكثرة ثوابه لأن الكريم إذا أخبر بأنه يتولى بنفسه الجزاء اقتضى عظمته وسعته
الظاهر من السياق الأول أي أنا أجازيه لا غيري بخلاف سائر العبادات فإن جزاءها قد يفوض إلى الملائكة. (عمدة القاري: ۸/۱۲، باب فضل الصوم، ط: دار الحديث ملتان).
وفي غريب الحديث، قال: إنما خص الصوم بأن يكون هو الذي يتولى جزاءه. (۱/۳۲۵، ط: بيروت).
وفي فتح الباري: وأناْ أجزي به أي أجازي عليه جزاء كثيراً من غير تعيين لمقداره. (فتح الباري: ٤/۱۰۸، ط: دار المعرفة بيروت).
قال في فيض القدير: وأناْ أجزي به، صاحبه جزاءاً كثيراً وأتولى الجزاء عليه بنفسي فلا أكله إلى ملك مقرب ولا غيره لأنه سر بيني وبين عبدي لأنه لما كف نفسه عن شهواتها جوزي بتولي الله سبحانه إحسانه. (فيض القدير: ٤/۳۲۹/۵۱۹۸).
قال في المرقات: وأناْ أجزي به أي وأنا العالم بجزائه. (مرقاة: ٤/۲۳۲، كتاب الصوم، إمداديه).
وقال النووي: وقيل: معناه أناْ المنفرد بعلم مقدار ثوابه. (شرح صحيح مسلم: ۸/۲۹، فضل الصيام، ط: دار إحياء التراث العربي).
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اس حدیث کا ترجمہ کرتے ہوے لکھتے ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے، اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں، دو بار کہہ دے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے ۔ وہ کھانا، پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں، اور نیکی دس گنا ملتی ہے ۔ (انعام الباری: ۵/ ٤۸٦، باب فضل الصیام، مکتبۃ الحراء، کراچی) ۔
اہل لغت بھی اس کو فعل معروف کے ساتھ ہی ذکر کرتے ہیں:
قال في القاموس الفقهي: جزى الشئء جزاء، كفى وأغنى، وقوله تعالى: واتقوا يوماً لا تجزي نفس عن نفس شيئاً. (البقرة: ٤۸). (القاموس الفقهي: ۱/٦۲، دار الفكر دمشق).
وفي تاج العروس: جزاه كذا وبه وعليه جزاء، ومنه قوله تعالى:
وجزاهم بما صبروا جنة وحريراً. أولئك يجزون الغرفة بما صبروا. ولا تجزون إلا ما كنتم تعملون. (تاج العروس: ۳۷/۳۵۱، ط: دار الهداية).
لیکن بعض علماء نے حدیث کے معروف و مجہول دونوں صیغے ذکر کر کے معانی بیان کیے ہیں ۔ ملاحظہ ہو :
فیض الباری کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
وقد قرأه بعضهم: وأناْ أجزى به، مجهولاً، وحينئذٍ يكون كناية عن رؤيته تعالى، وقد نظمه الشيخ يعقوب الكشميري تلميذ التلميذ للعارف الجامي، وتلميذ الحافظ ابن حجر رحمه الله المكي الشافعي، في الحديث: (
جو در روزہ امساک از ما سوا است، جزائش آ کر حق بود خودسرا است) انتہی تعریبہ ۔ (حاشیۃ فیض الباری: ۳/۱٤۹، کتاب الصوم) ۔
سراج القاری میں بحوالہ اوجز المسالک مرقوم ہے:
وأناْ أجزي به
، اس کو دو طرح پڑھا گیا ہے، ایک تو
"أناْ أجزِي به "
(فعل معروف) یعنی میں خود اس کا بدلہ دوں گا، جو میری شان کے موافق ہوگا اور ایک
"أناْ أجزى به "
(فعل مجہول) یعنی میں خود اس بدلے اور انعام میں دیا جاؤں گا، مطلب یہ ہے کہ اس کو رضا اور خوشنودی دوں گا ۔ (سراج القاری: ٦/۲۳۷) ۔
حضرت شیخ رحمه الله کی عبارت ملاحظہ ہو : (اوجز المسالک، جامع الصیام: ۵/۳۳٦/٦۱۸) ۔
مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے:
قولہ: اجزی، مجہول بھی پڑھا گیا ہے، اور معروف بھی، مشہور قراءت معروف کی ہے اور محدثین معروف ہی پڑھتے ہیں، مجہول صوفیا پڑھتے ہیں، مجہول کے معنی ہیں: میں روزے کے بدلے میں دیا جاتا ہوں، یعنی روزہ دار کو اللہ تعالی کا وصال (قرب) نصیب ہوتا ہے، اور معروف کے معنی معروف ہیں، یعنی میں قیامت کے دن اس کا بدلہ دوں گا ۔ (تحفۃ القاری: ٤/۵۷۱، مکتبہ حجاز دیوبند) ۔
لیکن مذکورہ بالا ترجمہ قرآن، حدیث اور لغت کی روشنی میں سمجھ میں نہیں آتا؛ کیونکہ مجہول کا ترجمہ عربی قواعد کے اعتبار سے یہ ہے: انا اجزی بہ، مجھے بدلہ دیا جائے گا، اور اللہ تعالی کو بدلہ دیا جانا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
نیز قرآنِ کریم کی آیاتِ کثیرہ سے پتا چلتا ہے کہ اُجزی مجہول کا نائب فاعل معطی لہ ہوتا ہے تو اس میں اللہ تعالی کو جزا اور بدلہ ملے گا، یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ صائم کو صوم کی وجہ سے اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہوگا؛ حدیث شریف میں ہے: "
للصائم فرحتان؛ فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه ". (رواه مسلم، رقم: ۱۱۵۱)،
روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ؛۱ ۔ افطار کے وقت کی خوشی اور ۲ ۔ اللہ تعالی کی ملاقات اور رؤیت کی خوشی، لیکن اُجزی مجہول سے اللہ تعالی کی رویت کشید کرنا صحیح نہیں ۔ مجہول کا ترجمہ قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے:
۱ ۔
﴿فاليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تستكبرون في الأرض بغير الحق وبما كنتم تفسقون﴾ [الأحقاف: ۲۰]،
ترجمہ: سو آج تم کو ذلت کی سزا دی جائے گی اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نا فرمانیاں کیا کرتے تھے ۔ (مکمل بیان القرآن: جلد ۱۱، ص۷) ۔
۲ ۔
﴿لتجزى كل نفس بما تسعى﴾ [طه: ۱۵]،
ترجمہ: تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ مل جاوے ۔ (بیان القرآن: ۷/۲۰، تاج پبلشرز دہلی) ۔
۳ ۔
﴿اليوم تجزى كل نفس بما كسبت لا ظلم اليوم﴾ [غافر: ۱۷]،
آج ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جاوے گا ۔ (بیان القرآن: ۱۰/۳٦، تاج) ۔
٤ ۔
﴿اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق
﴾ [الانعام: ۹۳]،
ترجمہ: آج تم کو ذلت کی سزا دی جاوے گی اس سبب سے کہ تم اللہ تعالی کے ذمہ جھوٹی باتیں بکتے تھے ۔ (بیان القرآن: ۳/۱۱۳، تاج) ۔
۵ ۔
﴿هل تجزون إلا بما كنتم تكسبون﴾ [يونس: ۵۲]،
ترجمہ: تم کو تو تمہارے ہی کیے کا بدلہ ملا ہے ۔ (بیان القرآن: ۵/۱۷، تاج) ۔
٦ ۔
﴿اليوم تجزون بما كنتم تعملون﴾ [الجاثية: ۲۸]،
ترجمہ: آج تم کو تمہارے کیے کا بدلہ ملے گا ۔ (بیان القرآن: ۱۰/۱۱۳، تاج) ۔
۷ ۔
﴿سيجزون بما كانوا يقترفون﴾ [الأنعام: ۱۲۰]،
ترجمہ: ان کو ان کے کیے کی عنقریب سزا ملے گی ۔ (بیان القرآن: ۳/۱۲٤، تاج) ۔
۸ ۔
﴿أولئك يجزون الغرفة بما صبروا﴾ [الفرقان: ۷۵]،
ترجمہ: ایسے لوگوں کو بالا خانے ملیں گے بوجہ ان کے ثابت قدم رہنے کے ۔ (بیان القرآن: ۸/۵۷، ط: تاج) ۔
۹ ۔
﴿من يعمل سوءاً يجز به﴾ [النساء: ۱۲۳]،
ترجمہ: جو شخص کوئی برا کام کرے گا وہ اس کے عوض میں سزا دیا جاوے گا ۔ (بیان القرآن: ۲/۱۵۹، تاج) ۔
اگر وہ ترجمہ مقصود ہوتا جو ہمارے اکابر رحمه الله نے فرمایا، تو پھر عبارت یوں ہوتی:
[الصوم لي وأنت تجزى بي،
یا
الصائم يجزى بي أي برؤيتي)، أنا أجزي به،
نہ ہوتا ۔
نیز ہدایۃ المحتار میں بھی مجہول والے ترجمہ کو رد کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے:
ملحوظة: قوله (وأنا أجزي به) يقرؤه بعض الناس مبنياً للمفعول، ويعنون به أن الله هو الجزاء للصائم، وهو خطأ؛ لأن نائب الفاعل يكون من ينال الجزاء، وأن الجزاء يكون مجرور الباء هنا، ولو كان الأمر كما ظنوا لكان حق العبارة أن يقال: (الصوم لي والصائم يجزى بي). (هداية المحتار في دراية الآثار، لمولانا محمد هداية الله القاسمي، ص ۱۲۹، ط: ديوبند).
ہمارے اکابر رحمه الله میں حضرت تھانوی رحمه الله نے بھی مجہول والے ترجمہ کی تردید فرمائی اور حضرت شیخ یونس رحمه الله نے تصویب فرمائی ۔ مولانا زید ندوی مظاہری نے بیان کیا ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کی کتاب فضائل رمضان جو حضرت شیخ مولانا محمد یونس صاحب رحمه الله کے یہاں رمضان المبارک میں بعد عصر اہتمام سے پڑھی جاتی تھی اس میں روزہ کے فضائل کے تعلق سے حدیث پاک ذکر کی گئی، حق تعالی فرماتا ہے:"
وأناْ أجزي به"
یعنی روزہ دار کے روزہ کا بدلہ اور ثواب میں خود عطا کروں گا لیکن شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمه الله" فضائل رمضان" میں اسی حدیث ۲ کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
" بعض مشائخ سے منقول ہے کہ یہ لفظ
"وأناْ أجزي به "
ہے یعنی یہ کہ اس کے بدلہ میں، میں خود اپنے کو دیتا ہوں اور محبوب کے ملنے سے زیادہ اونچا بدلہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ "(فضائل رمضان، فصل اول، حدیث ۲) ۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب رحمه الله کی مجلس میں فضائل رمضان کا یہ مضمون پڑھا گیا، بعد میں احقر نے حضرت اقدس رحمه الله سے عرض کیا کہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله نے اس کی تردید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ نسخہ غلط ہے، حدیث کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہو سکتا، حضرت تھانوی رحمه الله کی عبارت درجِ ذیل ہے، ارشاد فرمایا:
حدیث شریف میں ہے
"وأناْ أجزِي به"
یعنی میں اس کو بدلہ دوں گا، اور ایک نسخہ
"وأناْ اُجزى به"
مجہول صیغہ سے بھی مشہور ہے یعنی اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو ملوں گا، اگر چہ یہ مضمون فی نفسہٖ صحیح ہے حق تعالی اس کے بدلہ میں مل جائیں گے مگر غلطی یہ ہے کہ اس مضمون کو اس حدیث سے نکالا جاتا ہے، جو شخص ذرا بھی عربیت سے تعلق رکھتا ہو وہ ہرگز اس سے یہ معنی نہ سمجھے گا اس لیے کہ عربیت کے اعتبار سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا" میں بدلہ دیا جاؤں گا "یعنی نعوذ باللہ مجھ کو کوئی جزا دے گا، نہ یہ کہ میں جزا میں مل جاؤں گا، یہ اس کا ترجمہ نہیں ہے، پس یہ نسخہ غلط ہے صحیح وہی ہے، "
وأناْ أجزِي به"
یعنی میں اس کی جزا دوں گا اور روزہ کی فضیلت یہ کیا کچھ کم ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں جزا دوں گا، باقی فی نفسہٖ یہ مضمون صحیح ہے کہ حق تعالی اس کے بدلہ میں مل جائیں گے" (وعظ الصوم، ص ۱۲۰ و احکامِ رمضان المبارک، ص ۷۳)
حضرت تھانوی رحمه الله کے حوالہ سے احقر نے حضرت شیخ رحمه الله سے یہ بات عرض کی اور دریافت کیا کہ حضرت دونوں باتوں میں کون سی بات زیادہ صحیح ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله نے جو کچھ فرمایا ہے روایت و درایت اور سند کے اعتبار سے یہی بالکل صحیح ہے اور فرمایا کہ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله کو اللہ نے ایسا تحقیقی ملکہ عطا فرمایا تھا کہ وہ اپنی بصیرت و درایت اور قوتِ فہم سے جو بات پہلے فرما دیتے ہیں ہم لوگ سیکڑوں صفحات کی ورق گردانی کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں جس کو حضرت تھانوی رحمه الله اپنی درایت اور فہم سے پہلے ہی فرما چکے ہوتے ہیں، واقعی حدیثِ پاک میں " وانااجزی بہ" والی روایت صحیح نہیں ہے حضرت تھانوی رحمه الله نے بالکل صحیح فرمایا ۔ (علمی و اصلاحی ارشادات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحب رحمه الله از مولانا زید مظاہری ندوی، ص ۱۵۷، ۱۵۸) ۔
فائدہ: الصوم لی کے چھ معانی ہو سکتے ہیں: ۱
ـ الصوم لي لا للأصنام،
مشرکین روزہ غیر اللہ کے لیے نہیں رکھتے تھے ۔ ۲
ـ الصوم أحب إلي.
۳
ـ الصوم صفة لي (فإن الله لا يأكل ولا يشرب).
٤
ـ الصوم، لا رياء فيه لأنه ترك لا فعل.
۵
ـ الصوم المفروض لا يعطى في المظالم.
٦
ـ لم يخبر الله بثوابه الملائكة بل أخفى ثوابه الكثير عنده.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.