ماہِ شعبان میں اعمال اُٹھائے جانے کا حکم:
Question
۱: شعبان المعظم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ؛ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر صحیح ہو تو پیر و جمعرات کے بارے میں بھی سنا گیا ہے اور صبح اور عصر کے بارے میں بھی روایت سنی ہے ۔ کیا یہ سب روایات صحیح ہیں یا بعض صحیح ہے اور بعض ضعیف ہے؟ اور ان میں کون سی بات صحیح ہے؟
Answer
کتبِ حدیث کی ورق گردانی سے پتا چلتا ہے کہ تینوں قسم کی روایات مروی ہیں، سب ثابت اور قابل استدلال ہیں؛ پہلی قسم کی وہ احادیث جن میں یہ بات موجود ہے کہ شعبان کے مہینہ میں اعمال اٹھائے جاتے ہیں ۔ ملاحظہ کیجیے؛ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
عن أسامة بن زيد، قال: قلت: يا رسول الله! رأيتك تصوم في شعبان صوماً لا تصومه في شيء من الشهور، إلا في شهر رمضان؟ قال: ذلك شهر يغفل الناس عنه، بين رجب وشهر رمضان، ترفع فيه أعمال الناس، فأحب أن لا يرفع لي عمل إلا وأناْ صائم.
قال الشيخ محمد عوامة: رواه المصنف في مسنده (۱٦٦) بهذا الإسناد، ورواه أحمد (۵/۲۰۱)، مطولاً، والنسائي مختصراً (۲٦٦٦) من طريق ثابت بن قيس، عن أبي سعيد، عن أسامة بن زيد دون ذكر أبي هريرة رضي الله عنه. وروى طرفاً آخر منه: النسائي (۲٦٦۸) من طريق زيد بن الحباب، به وفيه: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن أسامة، وإسناده حسن من أجل ثابت بن قيس. (مصنف ابن أبي شيبة مع التعليقات: ٦/۳۳۷/۹۸۵۷، ط: المجلس العلمي).
قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده حسن. (التعليقات على مسند أحمد، رقم: ۲۱۸۰۱).
دوسری قسم ؛ وہ روایت جس میں پیر و جمعرات کا تذکرہ موجود ہے: ملاحظہ ہو :
أخرج الإمام مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: تعرض أعمال الناس في كل جمعة مرتين يوم الاثنين ويوم الخميس فيغفر لكل عبد مؤمن إلا عبداً بينه وبين أخيه شحناء
الخ. (صحيح مسلم، رقم: ۲۵٦۵، باب النهي عن الشحناء والتهاجر).
یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ دیگر کتبِ احادیث میں بھی منقول ہے ۔
تیسری قسم ؛ وہ روایت جس میں روزانہ کی پیشی کا ذکر ہے: ملاحظہ ہو :
أخرج الإمام مسلم عن أبي موسي رضي الله عنه قال: قام فينا رسول الله ﷺ بأربع إن الله لا ينام ولا ينبغي له أن ينام يرفع القسط ويخفضه ويرفع إليه عمل النهار بالليل وعمل الليل بالنهار. (صحيح مسلم، رقم: ۱۷۹).
یہ روایت کئی کتبِ حدیث میں مذکور ہے ۔
تینوں روایات کے مابین تطبیقات ملاحظہ کیجیے:
۱ ۔ بعض شراح فرماتے ہیں اعمال کی تفصیلی پیشی روزانہ ہوتی ہے، پھر اس کا خلاصہ ہفتہ واری پیر، جمعرات کو پیش ہوتا ہے، اور اجمالی پیشی ماہِ شعبان المعظم میں ہوتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہفتہ میں دو دن: پیر، جمعرات میں ہفتہ کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور سال بھر کا خلاصہ شعبان میں پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی مالدار آدمی کسی ملازم کو زکوٰۃ دینے کا وکیل بنا دے تو جو روزانہ دیتا ہے وہ مخدوم کے سامنے روزانہ پیش کرتا ہے پھر ہفتہ میں دو مرتبہ ہفتہ کا خلاصہ پیش کرتا ہے پھر سال بھرکی زکوٰۃ کا مجموعہ سال کے بعد پیش کرتا ہے ۔
۲ ۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ انسانی اعمال کی مختلف قسمیں ہیں ؛تو ممکن ہے کہ بعض مخصوص اعمال کی پیشی سالانہ، ماہِ شعبان میں ہوتی ہو، اور کچھ خاص اعمال پیر و جمعرات میں پیش ہوتے ہوں، اور کچھ خاص نوعیت والے روزانہ پیش ہوتے ہوں ۔ مثلاً: ممکن ہے کہ نمازوں کی پیشی روزانہ ہو اور نفلی روزوں کی پیر، جمعرات کو ہو اور سال میں مہینوں کا خلاصہ ہو، کہ رمضان، شوال، ذی الحجہ، محرم، رجب وغیرہ کیسے گزرے ۔
۳ ۔ اعمال کی پیشی تین مرتبہ ہوتی ہے یومیہ، ہفتہ واری اور سالانہ اور ہر ایک پیشی میں خاص حکمت ہوتی ہے جس کو اللہ تعالی خوب جانتے ہیں ۔ مثلاً: یہ حکمت ہو سکتی ہے کہ اللہ والوں کی تعریف روزانہ اور ہفتہ وار اور سالانہ، بار بار ہو جائے اور شیطان کے پھندے میں گرفتار لوگوں کی مذمت بار بار ہو جائے جیسے کسی محسن کی تعریف روزانہ، ہفتہ وار اور سالانہ ہوتی ہے ۔
٤ ۔ ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں کہ یومیہ اعمال جمع کیے جاتے ہیں اور ہفتہ میں دو دن: پیر و جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں ۔
شراحِ حدیث کی عبارات ملاحظہ فرمائیں: ملا علی قاری رحمه الله مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں:
تعرض الأعمال أي على الملك المتعال يوم الاثنين والخميس
فأحب أن يعرض عملي وأناْ صائم أي طلباً لزيادة رفعة الدرجة، قال ابن الملك: وهذا لا ينافي قوله عليه الصلاة والسلام يرفع عمل الليل قبل عمل النهار وعمل النهار قبل عمل الليل للفرق بين الرفع والعرض لأن الأعمال تجمع في الأسبوع وتعرض في هذين اليومين
قال ابن حجر: ولا ينافي هذا رفعها في شعبان فقال: إنه شهر ترفع فيه الأعمال وأحب أن يرفع عملي وأناْ صائم لجواز رفع أعمال الأسبوع مفصلة وأعمال العام مجملة، قلت: وفيه إيماء إلى أن شعبان آخر السنة وإن أولها رمضان عند الله باعتبار الآخرة كما قدمناه في حديث تزخرف الجنة لرمضان من أول الحول والذي يلوح لي الآن أن ليلة النصف هي التي تعرض فيها أعمال السنة الماضية (مرقاة المفاتيح: ٤/۱٤۲، باب صيام التطوع).
قال السندي في حاشيته على المسند: قال الشيخ عز الدين: معنى العرض هنا: الظهور، وذلك أن الملائكة تقرأ الصحف في هذين اليومين. وقال الشيخ ولي الدين: إن قلت: ما معنى هذا مع ما ثبت في الصحيحين، إن الله تعالى يرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار وبالعكس؟ قلت: يحتمل أن أعمال العباد تعرض على الله تعالى كل يوم، ثم تعرض عليه أعمال الجمعة في كل اثنين وخميس، ثم تعرض عليه أعمال السنة في شعبان! فتعرض عرضاً بعد عرض، ولكل عرض حكمة يطلع عليها من يشاء من خلقه أو يستأثر بها عنده مع أنه تعالى لا يخفى عليه من أعمالهم خافية، ويحتمل أن الأعمال تعرض في اليوم تفصيلاً، ثم في الجمعة أو بالعكس، انتهى. (تعليقات الشيخ شعيب على سنن أبي داود: ۷/ ۲۷٦/ ٤۹۱٦).
و في المرقاة للملا على القاري: ولا ينافيه رفعها كل يوم أعمال الليل بعد صلاة الصبح وأعمال النهار عند صلاة العصر وكل يوم اثنين وخميس لأن الأول رفع عام لجميع ما يقع في السنة والثاني: رفع خاص لكل يوم وليلة، والثالث: رفع لجميع ما يقع في الأسبوع وكان حكمة تكرير هذا الرفع مزيد تشريف الطائعين وتقبيح العاصين. (مرقاة المفاتيح: ۳/۹۷٤، باب قيام شهر رمضان). والله سبحنه وتعالى أعلم بالصواب.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.