ربیعۃ الرائے کا صحابی پر تنقید کرنا :

4 min readFatwa Vol 1 #36Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (٤): صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالی علیہم اجمعین کا بیان

Question

یہ قول مشہور ہے "
كل الصحابة عدول"
لیکن ہ میں یہ تعجب ہوتا ہے کہ ربیعہ جیسے جلیل القدر عالم نے کسی صحابیہ کے بارے میں نامناسب بات کہی ہے ۔ طحاوی شریف میں ان کی بات نقل کی گئی ہے ۔ ملاحظہ ہو: "
لو أن بسرة رضي الله عنه شهدت على هذه النعل لما أجزت شهادتها". (شرح معاني الآثار: ۱/۵۸، باب مس الفرج هل يجب فيه الوضوء أم لا، فيصل).

کیا ائمہ اپنی دلیل میں تقویت حاصل کرنے کے لیے کسی صحابی کے بارے میں ایسی باتیں کہ سکتے ہیں؟
ہ میں تعلیم دی جاتی ہے کہ صحابہ پر سب و شتم کرنا ایمان کا نقصان ہے اور نفاق کی علامت ہے مفتیان کرام کیا کہتے ہیں؟

Answer

امام طحاوی رحمہ اللہ (
۲۳۹. ۳۲۱هـ)
نے ربیعۃ الرائے سے حضرت بسرہ رضي اللہ عنہ پر تنقید نقل فرمائی ہے کہ اگر وہ جوتے پر گواہی دیں تو بھی مقبول نہیں، اس سلسلہ میں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ خود ربیعۃ الرائے کے متعلق حافظ الذہبی نے میزان الاعتدال میں ابن الصلاح سے نقل کیا "
أنه تغير في الآخر"
نیز ابو حاتم محمد بن حبان (
م۳۵٤هـ)
نے کتاب الضعفاء میں اس کا ذکر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (
الميزان: ۲/۲۳٤، ترجمة: ۲۷۵۳).

عام محدثین ربیعہ کو ثقہ کہتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ یہ قول ان سے آخری وقت میں صادر ہوا ہو جب ان میں تغیر آ گیا تھا اور جب تغیر آتا ہے تو ذہن پر غصہ غالب ہو تا ہے اور زبان کبھی بے قابو ہو جاتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس قول کو جس سند سے نقل کیا ہے اس میں ابن زید ہے ابن زید کا پتہ نہیں کون ہے، بعض کہتے ہیں یونس بن زید ایلی ہیں جو صحیحین کے راوی ہیں، بعض کہتے ہیں عبد الرحمن بن زید بن اسلم ہے جو ضعیف بلکہ اضعف راوی ہے، بعض کہتے ہیں کہ اسامۃ بن زید ہیں، تو اس کی سند کا یہ حال ہے، نیز اس قول کا جوہر بھی یہ بتلاتا ہے کہ عبد الرحمن بن زید بن اسلم ہوں گے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس قسم کے اقوال کی تاویل کی جاتی ہے مثلاً صحابہ کے متعلق جب "
صدق أم كذب"
آتا ہے تو اس کے معنی
"أصاب أم أخطأ"
ہو تے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت بسر رضي اللہ عنہ ہ کوئی حدیث سنا دیں تو اس کو بغیر چوں و چرا کے قبول نہ کریں، بلکہ اس کی تحقیق شہادت کی طرح کرنی چاہیے کہ یہی الفاظ سنے یا روایت بالمعنی کی ہیں اور الفاظ کچھ اور تھے، ممکن ہے کہ انہوں نے جو الفاظ سنے وہ ٹھیک ہیں لیکن اس کا مطلب اپنے ذہن کے مطابق لیا، حالانکہ اس کا مطلب دوسرا ہے، مثلاً یہاں مس الذکر پیشاب سے کنایہ ہو یا "
فليتوضأ"
سے استحبابی حکم مراد ہو، علاوہ ازیں مس الذکر کی روایت امام زہری کے عنعنة کی وجہ سے بھی محلِ کلام ہے کیونکہ امام زہری مدلس ہیں ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.