۵۰ ہزار سے زائد پر فروخت کرو تو زائد آپ کے لیے ہے، اِس شرط کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #392Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک شخص نے دوسرے سے یہ کہا کہ اگر تم ۵۰ ہزار سے زائد پر میری کار فروخت کرو تو زائد جتنے ہوں وہ سب آپ کے ہیں یا یہ کہا کہ زائد میرے اور آپ کے درمیان آدھے آدھے ہیں ۔ کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر زائد پر کار بیچی تو زائد رقم لے سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ کپڑا اتنے میں بیچ دو، جو بھی اس سے زیادہ ہو وہ آپ کے ہیں، نیز محمد بن سیرین رحمه الله سے منقول ہے آپ نے کہا: اس کو بیچ دو جو بھی نفع ہو وہ آپ کا ہے یا میرے اور آپ کے درمیان ہوگا، تو ان آثار کی روشنی میں صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملہ بعض علماء کے ہاں جائز اور درست ہوگا ۔ ملاحظہ امام بخاری رحمه الله صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:

باب أجر السمسرة، ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأساً وقال ابن عباس رضي الله عنه: لا بأس أن يقول: بع هذا الثوب فما زاد علي كذا وكذا فهو لك، وقال ابن سيرين: إذا قال: بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به وقال النبي ﷺ: المسلمون عند شروطهم. (صحيح البخاري: ۱/۳۰۳).

لیکن شراحِ بخاری نے اس معاملہ کو مذہبِ احناف میں مکروہ قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

وأما قول ابن عباس رضي الله عنه وابن سيرين فأكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع وممن كرهه الثوري والكوفيون وقال الشافعي ومالك: لا يجوز فإن باع فله أجر مثله وأجازه أحمد وإسحاق وقالا: هو من باب القراض وقد لا يربح المقارض. (عمدة القاري: ۸/٦۲٤، ط: ملتان).
شيخ أبو الحسن ابن بطال قرطبي رحمه الله
فرماتے ہیں:

وأما قول ابن عباس رضي الله عنه: بع هذا الثوب فما زاد على كذا فهو لك، وقول ابن سيرين: بعه بكذا فما كان من الربح فهو لك، أو بيني وبينك، فإن أكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع، وممن كرهه النخعي رحمه الله والحسن رحمه الله والثوري رحمه الله والكوفيون، وقال مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله: لا يجوز، فإن باع فله أجر مثله. (شرح صحيح البخاري: ٦/٤۰۲، الرياض).

علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله فرماتے ہیں کہ اجرت کی جہالت کی وجہ سے یہ اجارہ فاسد ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:

وهذه الإجارة فاسدة عندنا لجهالة الأجرة فيستحق أجرة المثل. (فيض الباري: ۳/۵۱٤).

مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس معاملہ کو ناجائز کہہ کر جواز کی صورت تحریر فرمائی ہے:
حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ یہ صورت جائز نہیں، ہو سکتا ہے یہ کہا جائے کہ بھائی! یہ چیز سو روپے میں بیچ دو، تمہاری اجرت دس روپے ہے، لیکن اگر سو روپے میں زیادہ میں بیچ دیا تو جتنا زیادہ ہوگا وہ بھی تمہارا ہوگا، یعنی اجرت مقرر کر لی کہ یہ اس کو ملے گی لیکن اگر ایک سو سے زیادہ میں فروخت کیا تو وہ بھی اس کا ہوگا، تو ہمت افزائی کے طور پر زیادہ حصہ بھی مقرر کر دیا جائے اور اس کو خاص مقدار ثمن پر معلق کر دیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (انعام الباری: ٦/٤٦٤)۔
لیکن شیخ وہبہ زحیلی شافعی رحمه الله نے الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں احناف کی طرف اس معاملہ کی صحت کی نسبت فرمائی ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:
ويجوز عند الحنفية أن يشترط لا حد المتعاقدين دراهم عديدة إن زاد الربح على مقدار كذا من الدراهم، فذلك شرط صحيح لا يؤثر في صحة المضاربة لأنه لا يؤدي إلى جهالة الربح. (الفقه الإسلامي وأدلته: ٤/۸٤۹، بحواله الشركات للأستاذ الخفيف، ۷۱)،
چنانچہ ہمارے عرف میں بھی یہ رائج ہے کہ جب گاڑی والا کسی تاجر کو گاڑی بیچنے کے لیے دیتا ہے تو گاڑی کی مارکیٹ ویلیو سے تین چار ہزار کم میں دیتا ہے، مثلاً ایک گاڑی کی مارکیٹ ویلیو ٦۰ ہزار ہے تو مالک تاجر سے کہے گا کہ ۵۵ ہزار مجھے چاہیے باقی آپ رکھ لینا، اب تاجر اس کو ۵۷ یا ٦۰ میں فروخت کرنے کی پوری کوشش کرے گا اور کم از کم ۵، ۷ ہزار سے کم نفع پر تیار نہ ہوگا ۔ گویا تاجر کو یہ بات معلوم ہے کہ اس گاڑی پر میرا کتنا نفع ہے پھر سوچ کر ہی گاڑی قبول کرے گا، لہٰذا اس معاملہ میں نہ جہالت ہے اور نہ فساد کی کوئی اور وجہ ہے، یہ معاملہ کار ڈیلروں کے درمیان معروف و مشہور ہے ۔ اور فقہاء کے یہاں ایک قاعدہ مشہور ہے:

المعروف بين التجار كالمشروط بينهم، قال الشيخ أحمد زرقا: هذه خاصة في عرف التجار فإذا وقع التعارف والاستعمال بينهم على شيء غير متصادم للنص يتبع وينصرف إليه عند الإطلاق ولا تسمع دعوي إرادة خلافه كما لو باع التاجر شيئاً وقد جري العرف علي أن يكون بعض معلوم القدر من الثمن حالاً، أو علي أن دفع كل الثمن يكون منجماً على نجوم معلومة يكون ذلك العرف مرعياً بمنزلة الشرط الصحيح. (شرح القواعد ص ۲۳۹، ط: دار القلم، دمشق).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.