بیع فاسد ہونے پر نفع واجب التصدق ہونے کا حکم:
Question
ایک شخص نے کسی سے قرض لے کر تجارت شروع کی، اس تجارت سے ایک لاکھ رینڈ فائدہ ہوا اب قرض واپس کر کے اس نے فائدہ کی رقم سے نئی تجارت شروع کی، بعد میں اسے معلوم ہوا کہ پہلی تجارت فاسد تھی، بیع قبل القبض اور اسی طرح دیگر وجوہات کی بنیاد پر، اب کیا حکم ہے؟ کون سا منافع واجب التصدق ہے؟ پہلی تجارت سے حاصل کیا ہوا یا دونوں ملا کر، اگر دونوں ملا کر صدقہ کرتا ہے تو اس کے پاس کھانے، پینے کے لیے کچھ نہیں بچتا ہے، کیوں کہ ذریعہ آمدنی فقط یہی ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پہلی تجارت بیع قبل القبض اور دیگر مفسدِ عقد چیزوں کی وجہ سے فاسد ہو گئی تھی، لہٰذا اس کے منافع ایک لاکھ رینڈ واجب التصدق ہے، اور نئی تجارت میں مفسدِ عقد چیزیں شامل نہیں تھیں بنا بریں دوسری تجارت کے منافع واجب التصدق نہیں ہیں، اس کے استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی عالمگیری میں مرقوم ہے:
ولو اشتري جارية شراء فاسداً وقبضها وباعها وربح فيها تصدق بالربح ولو اشتري بثمنها شيئاً آخر فربح فيه طاب الربح كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ٣/١٤٩).
وقال في الهداية: ومن اشتري جارية بيعاً فاسداً وتقابضا فباعها وربح فيها تصدق بالربح ويطيب للبائع ما ربح في الثمن، والفرق أن الجارية مما يتعين فيتعلق العقد بها فيتمكن الخبث في الربح، والدراهم والدنانير لا يتعينان على العقود فلم يتعلق العقد الثاني بعينها فلم يتمكن الخبث فلا يجب التصدق، وهذا في الخبث الذي سببه فساد الملك. (الهداية: ٣/٦٦).
اہم فقہی فیصلے میں مذکور ہے:
اصولی طور پر قبضہ سے پہلے کسی چیز کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر قبضہ سے پہلے بیع کر دی جائے تو یہ بیع فاسد ہوگی نہ کہ باطل اور قبضہ کے بعد مفید ملک ہو گی. (اہم فقہی فیصلے: ١٠٠) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (ہدایہ: ٣/٦٢، و فتاوی دار العلوم زکریا: ٥/١٦٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.