عذر کے وقت بائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کا حکم:
Question
اگر کسی شخص کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہو تو تشہد میں بائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کرے گا یا اشارہ ساقط ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
صورتِ مسئولہ میں اشارہ ساقط ہے اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے اشارہ ممنوع ہے ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
فرع: لا يشير بغير المسبحة حتى لو كانت مقطوعة أو عليلة لم يشر بغيرها من أصابع اليمني ولا اليسرى كما في النووي على مسلم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۲٦۹، مبحث الإشارة بالسبابة. وشرح النووي على صحيح مسلم: ۱/۲۱۹، باب صفة الجلوس في الصلاة. والدر المختار: ۱/٥۰۹، سعيد)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اگر داہنے ہاتھ میں عذر ہے اور انگشت نہیں اٹھا سکتا ہے تو انگشت نہ اٹھائیں، بائیں ہاتھ کی انگشت اٹھانے کا حکم نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۱۹۲، دار الاشاعت)
خیر الفتاوی میں ہے:
اگر تکلیف کی وجہ سے انگشتِ شہادت سے اشارہ مشکل ہو تو اشارہ ترک کر دیں کسی اور انگلی سے نہ کریں کیوں کہ اشارہ اسی انگلی سے مستحب ہے ۔ (خیر الفتاوی: ۲/۲٦۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.