عذر کے وقت بائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #83Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۳): صفۃ الصلاۃ کا بیان

Question

اگر کسی شخص کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہو تو تشہد میں بائیں ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کرے گا یا اشارہ ساقط ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں اشارہ ساقط ہے اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے اشارہ ممنوع ہے ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

فرع: لا يشير بغير المسبحة حتى لو كانت مقطوعة أو عليلة لم يشر بغيرها من أصابع اليمني ولا اليسرى كما في النووي على مسلم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۲٦۹، مبحث الإشارة بالسبابة. وشرح النووي على صحيح مسلم: ۱/۲۱۹، باب صفة الجلوس في الصلاة. والدر المختار: ۱/٥۰۹، سعيد)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اگر داہنے ہاتھ میں عذر ہے اور انگشت نہیں اٹھا سکتا ہے تو انگشت نہ اٹھائیں، بائیں ہاتھ کی انگشت اٹھانے کا حکم نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۱۹۲، دار الاشاعت)
خیر الفتاوی میں ہے:
اگر تکلیف کی وجہ سے انگشتِ شہادت سے اشارہ مشکل ہو تو اشارہ ترک کر دیں کسی اور انگلی سے نہ کریں کیوں کہ اشارہ اسی انگلی سے مستحب ہے ۔ (خیر الفتاوی: ۲/۲٦۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.