مرد اور عورت کے رکوع میں فرق:
Question
رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے سلسلہ میں مرد اور عورت میں فرق ہے یا نہیں؟
Answer
دونوں میں فرق ہے اور وہ یہ کہ مرد انگلیاں کھلی رکھے اور ہاتھ پر زور دیتے ہوے مضبوطی سے گھٹنوں کو پکڑے ۔ اور عورت انگلیاں ملا کر ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دے اور ہاتھ پر زور نہ دے ۔
ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:
ويسنّ أخذ ركبتيه بيديه حال الركوع ويسنّ تفريج أصابعه لقوله ﷺ لا نس رضي الله عنه إذا ركعت فضع كفيك على ركبتيك وفرج بين أصابعك وارفع يديك عن جنبيك
والمرأة لا تفرجها لأن مبنى حالها على الستر. وفي الطحطاوي: ولا تفرج أصابعها في الركوع، وتنحني في الركوع قليلاً بحيث تبلغ حد الركوع، فلا تزيد على ذلك لأنه أستر لها وتلزم مرفقيها بجنبيها فيه. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ص ۲٦٦، ۲٥۹، قديمي)
شامی میں ہے:
قال في المعراج وفي المجتبى: هذا كله في حق الرجل، أما المرأة فتنحني في الركوع يسيراً ولا تفرج ولكن تضم وتضع يديها على ركبتيها وضعاً وتحني ركبتيها ولا تجافي عضديها لأن ذلك أستر لها. (شامي: ۱/٤۹٤، فصل إذا أراد الشروع في الصلاة كبر، سعيد كمپني)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مرد اور عورت کے رکوع میں چند باتوں میں فرق ہے (۱) مرد رکوع میں اتنا جھکے کہ سر پیٹھ اور سرین برابر ہو جائے، اور عورت تھوڑی مقدار جھکے یعنی صرف اس قدر کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہونچ جائیں، پیٹھ سیدھی نہ کرے (۲) مرد گھٹنے پر انگلیاں کھلی رکھے اور ہاتھ پر زور دیتے ہوے مضبوطی کے ساتھ گھٹنوں کو پکڑے، اور عورت انگلیاں ملا کر ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دے اور ہاتھ پر زور نہ دے ۔ اور پاؤں جھکے ہوے رکھے؛ مردوں کی طرح خوب سیدھے نہ کرے (۳) مرد اپنے بازوؤں کو پہلو سے بالکل الگ رکھے اور کھل کر رکوع کرے اور عورت اپنے بازوؤں کو پہلو سے خوب ملائے اور جتنا ہو س کے سکڑ کر رکوع کرے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/٤۱۰، مسائل شتی، مکتبہ رحیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.