نجاست کا تھیلا ساتھ رکھ کر مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #166Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

ایک آدمی بیمار ہے اس کے پیٹ کے ساتھ ایک تھیلا لگا دیا گیا جس میں فضلہ نلکی کے ذریعہ آتا ہے، جو عموماً مقعد کے راستہ سے نکلتا ہے، اس آدمی کا مسجد میں آنا اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ یہ نجاست کو مسجد میں داخل کرنے کے حکم میں ہے یا نہیں؟ اور بدبو ہونے یا نہ ہونے سے مسئلہ میں فرق پڑے گا یا نہیں؟

Answer

عام حالات میں بدبو دار چیزیں نجاست مسجد میں داخل کرنا مکروہِ تحریمی ہے خصوصاً جب کہ تلویثِ مسجد کا اندیشہ ہو، لیکن جو شخص معذور ہے جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں تو یہ تھیلا اس کے پیٹ اور معدہ کے حکم میں ہو گا، لہذا اگر بدبو نہ ہو اور چھپا ہوا ہو اور لوگوں کے لیے باعثِ نفرت نہ ہو تو اس کا مسجد جانا جائز اور درست ہے ۔ ہاں تھیلے میں خروجِ نجاست ناقض وضو ہے لیکن چونکہ یہ آدمی معذور ہے اس کے معدے سے نجاست برابر نکلتی رہتی ہے اس لیے اس کا وضو وقت کے نکلنے سے ٹوٹے گا الا یہ کہ دوسرا ناقض پایا جائے ۔
نبی پاک ﷺ کے زمانہ میں مستحاضہ عورت کا مسجد میں اعتکاف کرنا ثابت ہے اگر چہ نجاست ساتھ تھی لیکن چھپی ہوئی تھی اور بدبو وغیرہ بھی نہیں تھی لہذا آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے نکیر نہیں فرمائی ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: اعتكفت مع رسول الله ﷺ امرأة من أزواجه مستحاضة فكانت تري الحمرة والصفرة فربما وضعنا الطست تحتها وهي تصلي. (رواه البخاري: ۱/۲۷۳/۱۹۹۱، باب اعتكاف المستحاضة، فيصل)

اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں کہ کپڑے یا مسجد ملوث نہ ہو تو ٹھیک ہے اسی طرح جو مستحاضہ کے معنی میں ہے یعنی معذور وغیرہ ان کے لیے بھی مسجد میں داخل ہونے اور اعتکاف کرنے کی اجازت ہے ۔
ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:

ومما يستنبط منه: جواز اعتكاف المستحاضة، وجواز صلاتها لأن حالها حال الطاهرات وإنها تضع الطست لئلا يصيب ثوبها أو المسجد وأن دم الاستحاضة رقيق ليس كدم الحيض، ويلحق بالمستحاضة ما في معناها كمن به سلس البول والمذي والودي ومن به جرح يسيل في جواز الاعتكاف. (عمدة القاري: ۳/۱۳۰، كتاب الحيض، باب الاعتكاف للمستحاضة، دار الحديث، ملتان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.