مسئلۂ محاذات کی وضاحت:

9 min readFatwa Vol 2 #180Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

مسئلۂ محاذات کی وضاحت:

Answer

محاذات کی تعریف:
نماز میں عورت کا مرد کے آگے کھڑا ہونا یا مرد کے محاذی یعنی برابر میں اس طرح کھڑا ہونا کہ عورت کا قدم نماز کے دوران میں کسی وقت بھی مرد کے کسی عضو کے مقابل ہو جائے تو اس سے مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ قدم کے برابر و مقابل ہونے سے پنڈلی اور ٹخنہ کا برابر ہونا مراد ہے ۔ صحیح قول کے موافق یہی معتبر ہے پس اگر عورت کا ٹخنہ اور پنڈلی مرد کے ٹخنہ اور پنڈلی کے برابر میں ہو گی تو محاذات ثابت ہونے کی وجہ سے مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اگر چہ عورت کا پیر مرد کے پیر سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے عورت کے پیر کا اگلا کچھ حصہ مرد کے پیر سے پیچھے رہے، اور اگر عورت کا پیر مرد کے پیر سے اس قدر پیچھے ہو کہ دونوں ٹخنے اور پنڈلی بالکل برابر میں نہیں رہتے بلکہ عورت کے ٹخنے اور پنڈلی مرد کے ٹخنے اور پنڈلی سے پیچھے ہوں تو اصح قول کی بنا پر نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ اس طرح قدم کے علاوہ کسی اور عضو کے مقابل ہونے سے نماز فاسد ہو گی ۔
محاذات کی شرطیں:
(۱) عورت حدِ شہوت کو پہنچ گئی ہو اور جماع کے لائق ہو اگر چہ نابالغ ہو ۔
(۲) مطلق نماز ہو یعنی رکوع سجدہ والی نماز ہو ۔
(۳) تحریمہ میں دونوں مشترک ہوں یعنی ایک ہی امام کی اقتداء میں ہو یا عورت نے اپنے محاذی مرد کی تحریمہ باندھی ہو ۔
(٤) مرد مکلف ہو یعنی عاقل بالغ ہو ۔
(۵) عورت بھی عاقلہ ہو، امداد الاحکام میں ہے: مجنونہ عورت کی محاذات مفسد نہیں ہے ۔ (بحوالہ شامی ۱/۵٦۱)
(٦) امام نے عورتوں کی امامت کی نیت کی ہو ۔
(۷) ایک کامل رکن میں محاذات پائی جائے ۔
(۸) دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ۔
(۹) نماز شروع کرنے کے بعد شامل ہونے والی عورت کو مرد نے پیچھے ہٹنے کا اشارہ نہ کیا ہو ۔
(۱۰) دونوں کا ایک مکان میں ہونا ۔
محاذات کے مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ مرتب ہونے والی چند صورتیں حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) عورت کا امام کے آگے یا برابر ہونا اس سے امام اور اس عورت اور تمام مقتدیوں کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
(۲) عورت کا امام اور مقتدی مردوں کی صف کے درمیان میں یا مقتدی مردوں کی صفوں کے درمیان میں کھڑا ہونا اس صورت میں ایک عورت اپنے پیچھے والی صرف پہلی صف کے محاذی ایک مرد کی نماز فاسد کرے گی اور دو عورتیں صرف پیچھے والی پہلی صف کے دو محاذی مردوں کی نماز فاسد کریں گی اور تین عورتیں پیچھے والی تمام صفوں کے تین تین محاذی مردوں کی نماز فاسد کریں گی اور تین سے زیادہ عورتیں صف تام کے حکم میں ہونے کی وجہ سے پیچھے والی تمام صفوں کے تمام آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی ۔
ایک یا دو عورتیں آگے ہونے کی صورت میں اگر ان کے اور مردوں کے درمیان سترہ بقدر ایک ہاتھ حائل ہوگا تو مانع فساد ہوگا اس سے کم مانع فساد نہیں اور تین یا زیادہ عورتیں آگے ہونے کی صورت میں سترہ حائل ہونے کا اعتبار نہیں اور فسادِ نماز کا حکم بدستور بر قرار رہے گا ۔
(۳) عورت کا مردوں کی صف میں کھرا ہونا پس ایک عورت تین آدمیوں کی نماز فاسد کرے گی ایک اپنے دائیں اور ایک بائیں اور ایک پیچھے والی پہلی صف کے اپنی سیدھ والے آدمی کی اور دو عورتیں چار آدمیوں کی یعنی ایک دائیں اور ایک بائیں اور دو پیچھے والی پہلی صف کے اپنی سیدھ والے دو آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی اور تین عورتیں ایک ایک دائیں بائیں والے آدمی کی اور پیچھے والی ہر صف کے تین تین محاذی آدمیوں کی آخر صفوں تک نماز فاسد کریں گی اور تین سے زیادہ عورتیں دائیں اور بائیں والے ایک ایک آدمی کی اور پیچھے والی تمام صفوں کے تمام آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی ۔
(٤) ایک ہی صف میں ایک طرف آدمی ہوں اور ایک طرف عورتیں ہوں اور ان کے درمیان میں کوئی حائل نہ ہو تو صرف اس ایک آدمی کی نماز فاسد ہو گی جو عورت کے متصل محاذی ہوگا اور باقی آدمیوں کی نماز درست ہو جائے گی کیوں کہ یہ آدمی باقی آدمیوں اور عورتوں کے درمیان بمنزلہ سترہ ہو جائے گا ۔
(۵) قدِ آدم یا زیادہ اونچا چبوترا یا سائبان یا بالا خانہ وغیرہ ہے اور ا س کے اوپر مرد ہیں اور نیچے ان کے محاذی عورتیں ہیں یا اس کے برعکس یعنی عورتیں اوپر ہیں اور نیچے ان کے محاذی مرد ہیں تو یہ قدِ آدم اونچائی مانع فسادِ نماز ہو جائے گی اور مردوں کی نماز فاسد نہ ہو گی، قدِ آدم سے کم اونچائی مانع فساد نہ ہو گی ۔ (ماخوذ از عمدۃ الفقہ حصہ دوم ۲۰۹ ۔ ۲۱۵، کتاب الصلاۃ)
احادیث و کتبِ فقہ سے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
بخاری شریف میں ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن جدته مليكة دعت رسول الله ﷺ لطعام صنعته له فأكل منه ثم قال قوموا فلأصلي لكم

فقام رسول الله ﷺ وصففت واليتيم وراء ه والعجوز من ورائنا فصلى لنا رسول الله ﷺ ركعتين ثم انصرف. (بخاري شريف: ۱/٥٥/۳۷۸، باب الصلاة على الحصير. وكذا في مسند أحمد: ۱۲٦۷٤. والسنن الكبرى: ۳/۹٦. والنسائي: ۱/۲۸٥. وموطأ مالك رقم: ۳٦۳ ومسلم رقم: ۱٥۳۱. وأبو داود رقم: ٦۱۲. والترمذي رقم: ۲۳٤)

مصنف ابن ابی شیبۃ میں ہے:

حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم أنه كان يكره أن يصلي بصلاة الإمام إذا كان بينهما طريق أو نهر أو نساء. (مصنف ابن أبي شيبة: ٤/۳۲۸. وهكذا في مصنف عبد الرزاق ۳/۸۲)

مصنف عبد الرزاق میں ہے:

فكان ابن مسعود رضي الله عنه يقول: أخروهن من حيث أخّرهن الله. (مصنف عبد الرزاق: ۳/۱٤۹/٥۱۱٥ باب شهود النساء الجماعة، المجلس العلمي. وصحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۹/۱۷۰۰. والمعجم الكبير للطبراني: رقم: ۹۳۷۲)

امداد الفتاح میں ہے:

(أن لا يفصل بين الإمام والمأموم صف من النساء) لما روي عن عمر رضي الله عنه موقوفاً ومرفوعاً للنبي ﷺ: أنه قال: من كان بينه وبين الإمام نهر أو طريق أوصف من النساء فلا صلاة له. (إمداد الفتاح: ۳۳٤ شروط صحة الاقتداء. وكذا في تبيين الحقائق: ۱/۱۳۹، باب الإمامة، إمدادية)

امداد الفتاح میں ہے:

ومحاذات المشتهاة ولو في الماضي كالعجوز الشوهاء في أداء ركن على ما قاله محمد رحمه الله أو مقداره على قول أبي يوسف رحمه الله والمراد أن تحاذي رجلا بساقها وكعبها في الأصح، ولو كانت محرماً له أو زوجة ولا معتبر بالسن في الصغيرة إنما العبرة بالضخامة والعبالة لتكون صالحة للجماع فتحاذيه وفي صلاة مطلقة هي ذات الركوع والسجود

مشتركة تحريمة المستلزم للاشتراك تادية والاشتراك يتحقق باتحاد فرضها وارتباط صلاتهما بابتناء تحريمتهما على تحريمة الإمام أو يكون هو إماماً لها في مكان متعد حتى لوكان أحدهما على مكان والآخر على الأرض والدكان قدر قامة الرجل لا تفسد صلاته لاختلاف المكان بلا حائل بينهما مثل مؤخرة الرحل في الطول وغلظ الأصبع فإن كان لا تضر المحاذاة لأن أدني الأحوال القعود فقدر الحائل بقدره، والفرجة تقوم مقام الحائل وأدناها قدر ما يقوم به المصلي ولم يشر إليها لتتأخر فان أشار إليها فلم تتأخر هي فسدت صلاتها دون صلاته لا تيانه بما في وسعه، وتقدمه عنها بالمشي مكروه فاذا ترك الإشارة فسدت بالمحاذاة صلاته، والتاسع من شروط المحاذاة المفسدة أن يكون الإمام قد نوي إمامتها لأنه شرط لصحة اقتدائها كما قدمناه فاذا لم ينوها لا تفسد محاذاتها، وفي الجمعة والعدين قال أكثرهم: لا يصح أيضاً اقتداؤها ما لم ينو إمامتها بالخصوص. (إمداد الفتاح: ۳٦٤ باب ما يفسد الصلاة. وكذا في شرح منية المصلي: ٥۲۱، فصل في الإمامة، سهيل اكيڈمي. وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۳۲۹، باب ما يفسد الصلاة، قديمي. وفي الشامي: ۱/٥۷۲ باب الإمامة، سعيد. وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٤۷ باب الإمامة، العربية كوئٹه. وهكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸۹ الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم. والبحر الرائق: ۱/۳٥٤. ۳٥۸ باب الإمامة، الماجدية كوئٹه. وتبيين الحقائق: ۱/۱۳۷ باب الإمامة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.